ڈکی بھائی اور عروب جتوئی عدالت میں پیش، کیس میں بڑی پیشرفت سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
لاہور:
ضلع کچہری لاہور میں جوا ایپس کی غیر قانونی پروموشن کے مقدمہ میں بڑی پیشرفت سامنے آگئی۔
جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو کیس پر سماعت کی، یوٹیوبر سعد الرحمان عرف ڈکی بھائی اور انکی اہلیہ عروب جتوئی عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔
عدالت نے ڈکی بھائی کے شریک ملزم سبحان کی بریت کی درخواست خارج کرنے کا حکم دے دیا، عدالت نے ڈکی بھائی سمیت دیگر ملزمان کے خلاف کیس پر سماعت 17 دسمبر تک ملتوی کرتے ہوئے ملزمان کو فرد جرم کے لیے آئندہ سماعت پر طلب کر لیا۔
ڈکی بھائی نے عدالت میں بتایا کہ سبحان نے میری گرفتاری سے تین ماہ قبل مجھے جوائن کیا، سبحان ایک لاکھ روپے تنخواہ پر میرے ساتھ نوکری پر ہے، اس کا کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ عروب جتوئی کی قبل از گرفتاری ضمانت ہو چکی ہے؟ جس پر وکیل نے بتایا کہ جی عروب کی ضمانت ہو چکی ہے۔
عدالت نے پوچھا کہ اس مقدمہ میں کون سی درخواست دی ہے جس پر ڈکی بھائی کے وکیل نے بتایا کہ یہ سپرداری کی درخواست ہے جو الیکٹرانک ڈیوائسز اور موبائل این سی سی آئی اے کے پاس ہیں، ہمارے چار کریڈٹ کارڈ اور رقم ہمارے حوالے کی جائے۔
واضح رہے کہ مذکورہ کیس میں ڈکی بھائی دو روز قبل ضمانت پر رہا ہوئے تھے، ملزمان کے خلاف این سی سی آئی اے نے مقدمہ درج کررکھا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔
اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔
قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔