ہوائی سفر کے دوران حادثاتی موت پر ورثا کو کتنا معاوضہ ملے گا؟بل منظور
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
ویب ڈیسک:قومی اسمبلی کی سب کمیٹی برائے دفاع نےCarriage By Air Act ترمیمی بل 2025ء کی منظوری دے دی جس کے تحت ہوائی جہاز کے ذریعے بین الاقوامی سفرکے دوران حادثاتی موت پر مسافرکے ورثا کو 6کروڑ،اندرون ملک سفرکے دوران موت پر 2کروڑروپے اور سامان گم ہونے کی صورت میں ایک بیگ کا 6لاکھ روپے اداکئے جائیں گے۔
ذیلی کمیٹی دفاع نے کینوپ کے قرب وجوار کے مکینوں کو درپیش مسائل سے آگاہی کیلئے دورہ کرنے کا فیصلہ کرلیا،اجلاس نے ایم این اے محمد معین عامر پیرزادہ کے پی آئی اے فلائٹ کے متاثرین کو لائف انشورنس اور پراپرٹی معا وضے کی ادائیگی پر غورکیا۔
طیاروں کے سافٹ ویئر میں سنگین خرابی، عالمی پروازیں معطل
پی آئی اے حکام نے بتایا مذکورہ خاتون رشنا عنصرکے حوالے سے ادائیگی کی جاچکی ہے، سب کمیٹی اجلاس میں کیرج بائی ائیر ترمیمی بل ترمیمی بل 2025ء پر غورکیاگیا۔
وزارت دفاع کے لیگل ایڈوائزرنے بتایا کہ بل میں تجویزہے کہ اگر بین الاقوامی سفر کے دوران حادثے میں مسافر کی موت واقع ہوجاتی ہے تو اس کی فیملی کو 6 کروڑ روپے ملیں گے،سامان گم ہونے پر ایک بیگ پر6 لاکھ روپے ائیر لائن ادا کرے گی۔
انہوں نے بتایا کہ اندرون ملک سفر کے دوران مسافر کی حادثاتی موت پر لواحقین کو 2 کروڑ روپے ملیں گے،دوران سفرسامان گم یانقصان ہونے پر پانچ ہزار فی کلوگرام کارگو پر معاوضہ ملے گا، دفاع کی سب کمیٹی نے کیرج بائے ائیر ترمیمی بل 2025 منظور کرلیا۔
اقرار الحسن وزیرِ اعظم بننا چاہتے ہیں؟ شاید میں سیکنڈ لیڈی بن جاؤں: فراح اقرار
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔