تلہار : بھارتی وزیر کے بیان پر اقلیتی برادری کا شدید احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تلہار (نمائندہ جسارت) بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے سندھ پر قبضہ کرنے کے بیان پر تلہار شہر میں ہندو اور کرسچن برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کا پریس کلب تلہار کے سامنے احتجاجی مظاہرہ بھارتی وزیر کے خلاف شدید نعرے بازی سندھی قوم پرامن قوم ہے لیکن ہماری امن پسندی کوہماری کمزوری نہ سمجھا جائے ہم اپنے وطن کے انچ انچ کا دفاع کرنا جانتے ہیں منجی لال کانٹیسا کا شرکا سے خطاب۔تفصیلات کے مطابق.
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بھارتی وزیر
پڑھیں:
سندھ اسمبلی نے بھارتی وزیر دفاع کے متنازع بیانات کو مسترد کر دیا، متفقہ قرارداد منظور
سندھ اسمبلی نے بھارت کے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کے صوبہ سندھ کے حوالے سے دیے گئے متنازعہ اور خیالی بیانات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اس کے خلاف متفقہ قرارداد منظور کرلی۔
یہ بھی پڑھیں: دادو اور جامشورو میں بھارتی وزیرِ دفاع کے بیان کے خلاف احتجاجی ریلیاں
صوبائی اسمبلی نے کہا کہ یہ تاریخ کو مسخ کرنے کی دانستہ کوشش ہے۔ یاد رہے کہ اتوار کو راجناتھ سنگھ نے کہا تھا کہ تہذیبی طور پر سندھ ہمیشہ بھارت کا حصہ رہے گا اور کل کو سندھ دوبارہ بھارت میں شامل ہو سکتا ہے۔
اس بیان پر پاکستان کے دفتر خارجہ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے خطرناک نظریاتی موقف اور ہندوستانی ہندو قوم پرستی کے پھیلاؤ کی علامت قرار دیا تھا۔
جمعرات کو سندھ اسمبلی نے اتفاق رائے سے قرارداد منظور کی جس میں بھارتی وزیر دفاع کے بیان کو خیالی، اشتعال انگیز اور بین الاقوامی قوانین و سفارتی اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔
قرارداد، جو وزیر مکیش چاولہ نے پیش کی، میں کہا گیا ہے کہ سندھ پاکستان کا لازمی اور نا قابل تقسیم حصہ ہے اور اس کی تاریخ یا وحدت کو مسخ کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کیا جاتا ہے۔
ایوان نے بھارت کی طرف سے تاریخی حقائق کو تبدیل کرنے والی تاریخی، توسیع پسند اور سیاسی بیانات کو سختی سے مسترد کیا۔ قرارداد میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کی انتہا پسند پالیسیوں کی مذمت کی گئی جو علاقائی امن کو خطرے میں ڈالتی ہیں، دریاؤں کے پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہیں اور ماحولیاتی سلامتی کو نقصان پہنچاتی ہیں۔
مزید پڑھیے: سندھ پر بھارتی وزیر دفاع کے بیان پر وزیراعلیٰ سندھ کا سخت ردعمل
قرارداد میں مزید کہا گیا کہ پاکستان حکومت کو چاہیے کہ وہ بین الاقوامی فورمز پر فیصلہ کن سفارتی اور قانونی کارروائی کرے تاکہ دریائے سندھ کے تحفظ اور پاکستان کے حقوق کا دفاع کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ انڈس واٹرز ٹریٹی پر بھارت کی خلاف ورزیوں پر بھی عالمی سطح پر آواز اٹھائی جائے۔
اس قرارداد میں کہا گیا کہ سندھ ایک قدیم تہذیب ہے جس کی اپنی منفرد ثقافت، سیاسی شعور اور تاریخ ہے جو کسی بھی جدید ریاست سے کہیں پرانی اور گہری ہے۔ سندھی عوام نے سنہ 1936 میں بمبئی پریذیڈنسی سے الگ ہو کر خودمختاری کا اظہار کیا تھا جو پاکستان کے قیام سے پہلے کا واقعہ ہے۔
سندھ اسمبلی نے واضح کیا کہ سندھ نے پاکستان کے قیام کے لیے پہلا تاریخی قرارداد منظور کر کے قائداعظم محمد علی جناح کے خواب کو حقیقت میں بدلا۔
مشابہ قراردادعلاوہ ازیں قومی اسمبلی نے بھی پی پی پی کے رکن اسد عالم نیاز کی جانب سے ایک مشابه قرارداد منظور کی جس میں ان بیانات کی مذمت کی گئی اور سندھ کو پاکستان کا لازمی حصہ قرار دیا گیا۔
وزیراعلیٰ سندھ کا سخت ردعملسندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے بھی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیر دفاع کے بیانات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کو عالمی سطح پر اٹھائے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کی بھارتی وزیر دفاع کے بیان کی مذمت، جہالت اور لاعلمی کا مظاہرہ قرار
وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ پاکستان کا لازمی حصہ ہے اور ہمیشہ رہے گا، اس کی سرحدوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔
انہوں نے بھارت کی جانب سے دریائے سندھ کو ہتھیار بنانے کی کوششوں پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ راجناتھ سنگھ پریشان اور مغلوب ہیں اور سندھ کی تاریخی اہمیت کو غلط انداز میں پیش کر کے علاقائی امن کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: بھارتی وزیر دفاع نے دسہرے کے تہوار پر ہتھیاروں کی پوجا کیوں کی؟
انہوں نے سندھ کی قدیم تاریخ اور اس کے قائدین کے قومی کردار کو اجاگر کیا اور کہا کہ پاکستان کی تشکیل سندھی قوم کی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی وزیر دفاع کا بیان سندھ اسمبلی سندھ کا ردعمل