سندھ اسمبلی نے بھارت کے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کے صوبہ سندھ کے حوالے سے دیے گئے متنازعہ اور خیالی بیانات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اس کے خلاف متفقہ قرارداد منظور کرلی۔

یہ بھی پڑھیں: دادو اور جامشورو میں بھارتی وزیرِ دفاع کے بیان کے خلاف احتجاجی ریلیاں

صوبائی اسمبلی نے کہا کہ یہ تاریخ کو مسخ کرنے کی دانستہ کوشش ہے۔ یاد رہے کہ اتوار کو راجناتھ سنگھ نے کہا تھا کہ تہذیبی طور پر سندھ ہمیشہ بھارت کا حصہ رہے گا اور کل کو سندھ دوبارہ بھارت میں شامل ہو سکتا ہے۔

اس بیان پر پاکستان کے دفتر خارجہ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے خطرناک نظریاتی موقف اور ہندوستانی ہندو قوم پرستی کے پھیلاؤ کی علامت قرار دیا تھا۔

جمعرات کو سندھ اسمبلی نے اتفاق رائے سے قرارداد منظور کی جس میں بھارتی وزیر دفاع کے بیان کو خیالی، اشتعال انگیز اور بین الاقوامی قوانین و سفارتی اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔

قرارداد، جو وزیر مکیش چاولہ نے پیش کی، میں کہا گیا ہے کہ سندھ پاکستان کا لازمی اور نا قابل تقسیم حصہ ہے اور اس کی تاریخ یا وحدت کو مسخ کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کیا جاتا ہے۔

ایوان نے بھارت کی طرف سے تاریخی حقائق کو تبدیل کرنے والی تاریخی، توسیع پسند اور سیاسی بیانات کو سختی سے مسترد کیا۔ قرارداد میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کی انتہا پسند پالیسیوں کی مذمت کی گئی جو علاقائی امن کو خطرے میں ڈالتی ہیں، دریاؤں کے پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہیں اور ماحولیاتی سلامتی کو نقصان پہنچاتی ہیں۔

مزید پڑھیے: سندھ پر بھارتی وزیر دفاع کے بیان پر وزیراعلیٰ سندھ کا سخت ردعمل

قرارداد میں مزید کہا گیا کہ پاکستان حکومت کو چاہیے کہ وہ بین الاقوامی فورمز پر فیصلہ کن سفارتی اور قانونی کارروائی کرے تاکہ دریائے سندھ کے تحفظ اور پاکستان کے حقوق کا دفاع کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ انڈس واٹرز ٹریٹی پر بھارت کی خلاف ورزیوں پر بھی عالمی سطح پر آواز اٹھائی جائے۔

اس قرارداد میں کہا گیا کہ سندھ ایک قدیم تہذیب ہے جس کی اپنی منفرد ثقافت، سیاسی شعور اور تاریخ ہے جو کسی بھی جدید ریاست سے کہیں پرانی اور گہری ہے۔ سندھی عوام نے سنہ 1936 میں بمبئی پریذیڈنسی سے الگ ہو کر خودمختاری کا اظہار کیا تھا جو پاکستان کے قیام سے پہلے کا واقعہ ہے۔

سندھ اسمبلی نے واضح کیا کہ سندھ نے پاکستان کے قیام کے لیے پہلا تاریخی قرارداد منظور کر کے قائداعظم محمد علی جناح کے خواب کو حقیقت میں بدلا۔

مشابہ قرارداد

علاوہ ازیں قومی اسمبلی نے بھی پی پی پی کے رکن اسد عالم نیاز کی جانب سے ایک مشابه قرارداد منظور کی جس میں ان بیانات کی مذمت کی گئی اور سندھ کو پاکستان کا لازمی حصہ قرار دیا گیا۔

وزیراعلیٰ سندھ کا سخت ردعمل

سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے بھی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیر دفاع کے بیانات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کو عالمی سطح پر اٹھائے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کی بھارتی وزیر دفاع کے بیان کی مذمت، جہالت اور لاعلمی کا مظاہرہ قرار

وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ پاکستان کا لازمی حصہ ہے اور ہمیشہ رہے گا، اس کی سرحدوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔

انہوں نے بھارت کی جانب سے دریائے سندھ کو ہتھیار بنانے کی کوششوں پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ راجناتھ سنگھ پریشان اور مغلوب ہیں اور سندھ کی تاریخی اہمیت کو غلط انداز میں پیش کر کے علاقائی امن کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: بھارتی وزیر دفاع نے دسہرے کے تہوار پر ہتھیاروں کی پوجا کیوں کی؟

انہوں نے سندھ کی قدیم تاریخ اور اس کے قائدین کے قومی کردار کو اجاگر کیا اور کہا کہ پاکستان کی تشکیل سندھی قوم کی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارتی وزیر دفاع کا بیان سندھ اسمبلی سندھ کا ردعمل.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بھارتی وزیر دفاع کا بیان سندھ اسمبلی سندھ کا ردعمل بھارتی وزیر دفاع کے سندھ اسمبلی نے پاکستان کے بیانات کو نے بھارت کہ سندھ کہا کہ نے کہا

پڑھیں:

’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی

پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔

طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘

طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔

سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔

دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔
 

متعلقہ مضامین

  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن