سندھ اسمبلی نے بھارتی وزیر دفاع کے متنازع بیانات کو مسترد کر دیا، متفقہ قرارداد منظور
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
سندھ اسمبلی نے بھارت کے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کے صوبہ سندھ کے حوالے سے دیے گئے متنازعہ اور خیالی بیانات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اس کے خلاف متفقہ قرارداد منظور کرلی۔
یہ بھی پڑھیں: دادو اور جامشورو میں بھارتی وزیرِ دفاع کے بیان کے خلاف احتجاجی ریلیاں
صوبائی اسمبلی نے کہا کہ یہ تاریخ کو مسخ کرنے کی دانستہ کوشش ہے۔ یاد رہے کہ اتوار کو راجناتھ سنگھ نے کہا تھا کہ تہذیبی طور پر سندھ ہمیشہ بھارت کا حصہ رہے گا اور کل کو سندھ دوبارہ بھارت میں شامل ہو سکتا ہے۔
اس بیان پر پاکستان کے دفتر خارجہ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے خطرناک نظریاتی موقف اور ہندوستانی ہندو قوم پرستی کے پھیلاؤ کی علامت قرار دیا تھا۔
جمعرات کو سندھ اسمبلی نے اتفاق رائے سے قرارداد منظور کی جس میں بھارتی وزیر دفاع کے بیان کو خیالی، اشتعال انگیز اور بین الاقوامی قوانین و سفارتی اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔
قرارداد، جو وزیر مکیش چاولہ نے پیش کی، میں کہا گیا ہے کہ سندھ پاکستان کا لازمی اور نا قابل تقسیم حصہ ہے اور اس کی تاریخ یا وحدت کو مسخ کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کیا جاتا ہے۔
ایوان نے بھارت کی طرف سے تاریخی حقائق کو تبدیل کرنے والی تاریخی، توسیع پسند اور سیاسی بیانات کو سختی سے مسترد کیا۔ قرارداد میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کی انتہا پسند پالیسیوں کی مذمت کی گئی جو علاقائی امن کو خطرے میں ڈالتی ہیں، دریاؤں کے پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہیں اور ماحولیاتی سلامتی کو نقصان پہنچاتی ہیں۔
مزید پڑھیے: سندھ پر بھارتی وزیر دفاع کے بیان پر وزیراعلیٰ سندھ کا سخت ردعمل
قرارداد میں مزید کہا گیا کہ پاکستان حکومت کو چاہیے کہ وہ بین الاقوامی فورمز پر فیصلہ کن سفارتی اور قانونی کارروائی کرے تاکہ دریائے سندھ کے تحفظ اور پاکستان کے حقوق کا دفاع کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ انڈس واٹرز ٹریٹی پر بھارت کی خلاف ورزیوں پر بھی عالمی سطح پر آواز اٹھائی جائے۔
اس قرارداد میں کہا گیا کہ سندھ ایک قدیم تہذیب ہے جس کی اپنی منفرد ثقافت، سیاسی شعور اور تاریخ ہے جو کسی بھی جدید ریاست سے کہیں پرانی اور گہری ہے۔ سندھی عوام نے سنہ 1936 میں بمبئی پریذیڈنسی سے الگ ہو کر خودمختاری کا اظہار کیا تھا جو پاکستان کے قیام سے پہلے کا واقعہ ہے۔
سندھ اسمبلی نے واضح کیا کہ سندھ نے پاکستان کے قیام کے لیے پہلا تاریخی قرارداد منظور کر کے قائداعظم محمد علی جناح کے خواب کو حقیقت میں بدلا۔
مشابہ قراردادعلاوہ ازیں قومی اسمبلی نے بھی پی پی پی کے رکن اسد عالم نیاز کی جانب سے ایک مشابه قرارداد منظور کی جس میں ان بیانات کی مذمت کی گئی اور سندھ کو پاکستان کا لازمی حصہ قرار دیا گیا۔
وزیراعلیٰ سندھ کا سخت ردعملسندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے بھی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیر دفاع کے بیانات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کو عالمی سطح پر اٹھائے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کی بھارتی وزیر دفاع کے بیان کی مذمت، جہالت اور لاعلمی کا مظاہرہ قرار
وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ پاکستان کا لازمی حصہ ہے اور ہمیشہ رہے گا، اس کی سرحدوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔
انہوں نے بھارت کی جانب سے دریائے سندھ کو ہتھیار بنانے کی کوششوں پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ راجناتھ سنگھ پریشان اور مغلوب ہیں اور سندھ کی تاریخی اہمیت کو غلط انداز میں پیش کر کے علاقائی امن کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: بھارتی وزیر دفاع نے دسہرے کے تہوار پر ہتھیاروں کی پوجا کیوں کی؟
انہوں نے سندھ کی قدیم تاریخ اور اس کے قائدین کے قومی کردار کو اجاگر کیا اور کہا کہ پاکستان کی تشکیل سندھی قوم کی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی وزیر دفاع کا بیان سندھ اسمبلی سندھ کا ردعمل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارتی وزیر دفاع کا بیان سندھ اسمبلی سندھ کا ردعمل بھارتی وزیر دفاع کے سندھ اسمبلی نے پاکستان کے بیانات کو نے بھارت کہ سندھ کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
سٹی 42: گلگت بلتستان انتخابات کے سلسلے میں اسکردو میں پاکستان پیپلز پارٹی کے جلسے سے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کا منصوبہ دنیا کا سب سے بڑا ہاؤسنگ پراجیکٹ ہے، جبکہ حقیقی ترقی امیروں کو مزید مراعات دینے کے بجائے غریبوں کو روزگار اور مواقع فراہم کرنے سے ممکن ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو ان کے آئینی اور جمہوری حقوق دینا ملکی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کو 18ویں ترمیم جیسے اختیارات دینے کی حامی ہے اور اسلام آباد کو یہاں کے عوام کے حقِ ملکیت کو تسلیم کرنا ہوگا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ تھر کول منصوبے میں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو دی گئیں، جو ان کی جماعت کے عوام دوست وژن کا عملی ثبوت ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گلگت بلتستان کے دوروں کے حوالے سے وہ دیگر تمام سیاسی رہنماؤں سے زیادہ مرتبہ یہاں آ چکے ہیں۔
خطاب کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے ملکی دفاعی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں شروع ہوا جبکہ میزائل پروگرام کو شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے آگے بڑھایا۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے پاکستان میں غیر ملکی فوجی اڈوں کی موجودگی کا خاتمہ کیا تھا۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
سماجی بہبود کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ہر صورت محفوظ رکھا جائے گا اور آئندہ بجٹ میں اس پروگرام کے فنڈز میں اضافے کی کوشش کی جائے گی۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی غریب اور پسماندہ طبقات کی نمائندہ جماعت ہے اور عوامی فلاح کے منصوبوں کو جاری رکھے گی۔
علاقائی اور عالمی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی اور جنگوں کے اثرات پوری مسلم دنیا اور عالمی معیشت پر مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے امن کے قیام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگوں کے خاتمے اور استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں کامیاب ہوں گی۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ امن، جمہوریت اور عوامی حقوق کی سیاست پر یقین رکھتی ہے اور آئندہ بھی عوام کے مفادات کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آپ نے فیصلہ کرنا ہے ، عوام دوست یا عوام دشمن حکومت بنانی ہے ،ہماری غریب دوست اور ان کی عوام دشمن سیاست ہے ، میں نے سیلاب متاثرہ عوام کے لیے گھر بنا کر دیکھائے ۔ انھوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو روزگار دیں ،دوسری جماعتوں کی کوشش ہوتی ہے کہ کیسے لوگوں کو بے روز گار کریں ۔
آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان
گلگت بلتستان میں انتخابی مہم کے سلسلے میں اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی طاقت کی بدولت آج کوئی بھی ملک پاکستان کی جانب میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو ایٹمی پروگرام کا تحفہ دیا، جبکہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے میزائل پروگرام کو آگے بڑھایا اور ملکی دفاع کو مزید مضبوط بنایا۔
لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ، داخلہ فارم مکمل طور پر آن لائن کرنے کی تجویز
بلاول بھٹو زرداری نے سابق فوجی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مشرف دور میں غیر ملکی طاقتوں کو پاکستان کی سرزمین پر اڈے قائم کرنے کی اجازت دی گئی تھی، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ایسے تمام اڈوں کو بند کروا کر غیر ملکی افواج کو واپس بھیج دیا۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ان کی جماعت پاکستان کو ہر شعبے میں مضبوط اور خودمختار دیکھنا چاہتی ہے۔ ان کے بقول پاکستان پیپلز پارٹی واحد سیاسی جماعت ہے جو ملک کو مزید مستحکم اور عوامی فلاح کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوام کو معاشی ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں اور اسی سوچ کے تحت بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) متعارف کرایا گیا، جس کے ذریعے غریب اور مستحق خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بی آئی ایس پی اسلام آباد یا کسی ایک علاقے کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کے عوام کا پروگرام ہے، تاہم بعض سیاسی عناصر اسے ختم کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ چاہے گلگت بلتستان کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدوار کامیاب ہوں یا نہ ہوں، وزیراعظم آئندہ بجٹ میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز میں اضافے کا اعلان کریں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد کو ریلیف فراہم کیا جا سکے،انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پیپلز پارٹی آئندہ بھی عوامی فلاح، معاشی استحکام اور قومی خودمختاری کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔