بھارتی وزیرِ دفاع کے بیان کیخلاف سندھ اسمبلی میں قرارداد متفقہ طور پر منظور
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
—فائل فوٹو
بھارتی وزیرِ دفاع کے بیان کے خلاف سندھ اسمبلی نے قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی۔
سندھ اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ بھارت کے وزیرِ دفاع نے جو تاثر دیا وہ قابلِ مذمت ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ جو قرارداد پیش کی گئی اس میں پوری تاریخ بیان کی گئی ہے، میں 1947ء اور انگریز دور کی بات نہیں کر رہا، قدیمی نقشے میں سندھ میں ملتان اور مکران شامل تھے۔
وزیرِ اعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ قبلِ مسیح سے بھی پہلے موجود تھا، مسلم لیگ سندھ چیپٹر نے پاکستان کی قرارداد پیش کی تھی، ہم سب پاکستان بنانے والے یہاں بیٹھے ہیں، ہمارے بڑوں کی قربانیوں کی وجہ سے پاکستان بنا ہے۔
یہ بھی پڑھیے بھارتی وزیر دفاع کی گیدڑ بھپکیاں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی: مراد علی شاہ بھارتی وزیر دفاع کے بیان پر متحدہ نے قرارداد سندھ اسمبلی میں جمع کرا دیانہوں نے کہا کہ بھارتی وزیر دفاع طویل عرصہ رہنے والے وزیر ہیں، جو بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، بھارت کی بوکھلاہٹ 9 مئی کے بعد شروع ہوئی، بھارتی وزیر دفاع اتر پردیش میں پیدا ہوئے، انہوں نے کبھی سندھو کا پانی نہیں پیا، اس لیے ان کا دماغ خراب ہے۔
وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ سندھو کا پانی پینے والا اس دھرتی سے غداری نہیں کر سکتا، گندے انڈے ہر جگہ ہو سکتے ہیں، سندھ پاکستان کا حصہ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ دریا کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں، حکومتِ پاکستان اس قرارداد کو دنیا میں بھیجے اور بتائے کہ بھارت دریائے سندھ پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔
اس کے ساتھ ہی سندھ اسمبلی کا اجلاس کل صبح 10 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بھارتی وزیر دفاع سندھ اسمبلی
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔