بھارتی میڈیا عمران خان کے حوالے سے غلط خبریں پھیلا کر انتشار پھیلانا چاہتا ہے، علی امین گنڈاپور
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
انہوں نے کہا کہ بانی چئیرمین اور بشریٰ بی بی ٹھیک اور صحت مند ہیں، بانی چئیرمین ہشاش بشاش ہیں، بانی چئیرمین اور ان کی اہلیہ کو ناحق قید کیا ہوا ہے، انہیں ان کے حقوق نہیں دیے جا رہے ہیں، جس کی ہم مذمت کرتے ہیں اور اس پر ہمارے تحفظات بھی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چئیرمین عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ کے حوالے سے بھارٹی میڈیا کے خبروں کو پروپیگنڈا قرار دے دیا۔ علی امین گنڈاپور نے ویڈیو بیان میں کہا کہ بھارتی میڈیا بانی چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کے حوالے سے غلط خبریں پھیلا کر ملک میں انتشار پھیلانا چاہتا ہے جبکہ بانی چئیرمین اور ان کی اہلیہ کی طبیعت ٹھیک اور وہ ہشاش بشاش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بانی چئیرمین اور بشریٰ بی بی ٹھیک اور صحت مند ہیں، بانی چئیرمین ہشاش بشاش ہیں، بانی چئیرمین اور ان کی اہلیہ کو ناحق قید کیا ہوا ہے، انہیں ان کے حقوق نہیں دیے جا رہے ہیں، جس کی ہم مذمت کرتے ہیں اور اس پر ہمارے تحفظات بھی ہیں۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ بھارتی میڈیا بے بنیاد پروپیگنڈا کر رہا ہے اور پاکستان میں انتشار پھیلانے کے لیے بھارتی میڈیا غلط خبریں پھیلا رہا ہے۔ سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ بانی چئیرمین اور ان کی اہلیہ کو جلد رہا کیا جائے، ان کے خلاف جعلی پرچے کاٹے گئے ہیں اور فسطائیت کی جارہی ہے، ان کے ساتھ رویہ انسانی حقوق کی پامالی ہے اور انہیں حقوق نہیں دیے جا رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بانی چئیرمین اور ان کی اہلیہ کہ بانی چئیرمین اور علی امین گنڈاپور بھارتی میڈیا نے کہا کہ
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔