تھارپ کی خودکشی، اہلیہ نے انگلش کرکٹ بورڈ کو ذمہ دار قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
انگلینڈ کے سابق اسٹار کرکٹر اور اسسٹنٹ کوچ گراہم تھارپ کی اہلیہ نے شوہر کی خودکشی کے ذمہ دار انگلش کرکٹ بورڈ (ECB) کو قرار دیا ہے۔
تھارپ نے گزشتہ سال اگست میں 55 سال کی عمر میں ٹرین کے سامنے چھلانگ لگا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا تھا۔ یہ واقعہ اس کے دو سال بعد پیش آیا جب انہیں انگلش اسسٹنٹ کوچ کے عہدے سے فارغ کیا گیا تھا۔
ای سی بی نے انہیں 2021-22 کے دوران کوویڈ پابندیوں کے دوران آسٹریلیا کے ایشز ٹور میں وائرل ہونے والی ایک ویڈیو کے بعد برطرف کیا تھا۔ اس ویڈیو میں تھارپ سیریز کے بعد ہوٹل میں کھلاڑیوں اور کوچز کے ساتھ شراب نوشی کر رہے تھے، جب پولیس نے کوویڈ قوانین کا احترام کرنے کی ہدایت دی تو تھارپ نے صورتحال کا مذاق اڑایا۔
بیوہ امینڈا تھارپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ گراہم اس واقعے پر شدید نادم تھے اور سب سے معذرت بھی کر چکے تھے۔ ان کے مطابق اگر بورڈ کی جانب سے انہیں تھوڑی سی بھی حمایت ملتی، تو وہ آج ہم سب کے درمیان ہوتے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔