وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے جو بھی ہمارے جوانوں کو شہید کرتا ہے وہ دہشتگرد ہے، دہشتگردی کے خاتمے کے سوا کوئی آپشن نہیں ہے۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے پی کا کہنا تھا خیبر پختونخوا کی پولیس مکمل طور پر اہل ہے اور دہشتگردوں سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے، پولیس کے لیے جدید آلات کی خریداری کی منظور دے چکا ہوں۔ ان کا کہنا تھا وفاق واجبات دے تو پولیس اور صحت سمیت تمام شعبوں میں مزید بہتری لا سکتے ہیں، خیبر پختونخوا میں فارنزک لیب قائم کی جائے گی۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ کے پی کا کہنا تھا پی ٹی آئی کچھ کر رہی ہے تو ہی خیبرپختونخوا کے عوام نے تیسری بار موقع دیا، موجودہ چیف سیکرٹری اور آئی جی بہترین کام کر رہے ہیں، چاہتا ہوں کہ موجودہ آئی جی کام جاری رکھیں۔ پختونخوا میں کرپشن کے الزامات سے متعلق سوال پر سہیل آفریدی کا کہنا تھا وفاق کو دعوت دیتا ہوں خیبر پختونخوا میں آڈٹ کرے لیکن ہمارے واجبات بھی دے، میرا بھائی بھی کرپشن میں ملوث ہو تو اسے سزا ملنی چاہیے۔ سہیل آفریدی کا کہنا تھا دہشتگردی نے خیبرپختونخوا کے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے، جو بھی ہمارے جوانوں کو شہید کرتا ہے وہ دہشتگرد ہے، امن کی خاطر وفاق کا ساتھ دوں گا، امن و امان پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کو سزا دینے کے لیے صوبائی سطح پر قانون سازی کی ہدایت کر دی ہے، انسداد دہشتگردی کے قوانین میں سقم ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ کے پی کا کہنا تھا سیاسی اختلافات اپنی جگہ کسی بھی اقدام سے صوبوں کے عوام کو تکلیف نہیں ہونی چاہیے، پانی بند کرنے سے متعلق جنید اکبر کا بیان غلط تھا، دہشتگردی کے خاتمے کے سوا کوئی آپشن نہیں، اللہ نہ کرے پنجاب بھی دہشتگردی کا سامنا کرے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن