نئے صوبوں کے قیام سندھ کی تقسیم سے متولق افاہوں پر پر یشان ہونا چھوڑدیں : مراد علی شاہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
اسلام آباد+کراچی (نمائندہ خصوصی +سٹاف رپورٹر) وزیر اعلیٰ سندھ نے صوبے کی تقسیم کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام اور سندھ کی تقسیم کے متعلق افواہوں پر پریشان ہونا چھوڑ دیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے چیف شمن رہپوٹو سے ان کے بھتیجے‘ سینئر صحافی آدم مینگل سے انکی بہن کے انتقال پر تعزیت کی۔ بھان سعید آباد میں میڈیا سے گفتگو کے دوران مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کے قیام اور سندھ کی تقسیم کے متعلق افواہوں پر پریشان ہونا چھوڑ دیں۔ نئے صوبوں کی بات ایک کان سے سنو اور اسی سے نکال دو۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے سمجھ میں نہیں آتا کے اس ایشو پر آپ لوگوں کو پریشانی کیا ہے، ہم میں سے کوئی ایک بھی اس پر راضی نہیں، پاکستان اور سندھ کے مفاد کے خلاف کچھ بھی پیپلز پارٹی قبول نہیں کرے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گورنر کی تقرری کا صوابدید اختیار وزیراعظم اور صدر کا ہے، صوبائی حکومت کا اس معاملے میں کوئی کردار ہے، گورنروں کی تقرری میں ہم سے مشورہ نہیں کیا جاتا۔ اس سے قبل کراچی میں میڈیا سے گفتگو میں بھارتی وزیر دفاع کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اللہ کے علاوہ کسی میں طاقت نہیں کہ سندھ کو پاکستان سے الگ کرسکے۔
.ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کی تقسیم
پڑھیں:
سرکاری مشینری نئے صوبوں کی مہم چلا رہی ہے، عوامی تحریک
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)عوامی تحریک کے مرکزی صدر ایڈووکیٹ وسند تھری، مرکزی جنرل سیکریٹری ایڈووکیٹ ساجد حسین مہیسَر، مرکزی نائب صدر ستار رند، مرکزی رہنما لال جروار، ایڈووکیٹ سروان جتوئی اور ایڈووکیٹ آصف کوسو نے اپنے مشترکہ پریس بیان میں کہا ہے کہ سرکاری مشینری کے ذریعے نئے صوبوں کی مہم چلائی جارہی ہے۔ وفاقی حکومت، پیپلز پارٹی کی سہولت کاری سے سندھ کی وحدت پر حملہ کر رہی ہے۔ سندھ کو تقسیم کرنے، این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ کم کرنے، نیا بلدیاتی نظام مسلط کرنے اور دیگر ملک دشمن منصوبوں کی تکمیل کے لیے 28ویں ترمیم لائی جا رہی ہے۔ مخصوص کاروباری میڈیا ہاؤسز کے ذریعے نئے صوبوں کی مہم کو تیز کیا جا رہا ہے اور اس مقصد کے لیے نجی یونیورسٹیز کو استعمال کیا جا رہا ہے۔رہنماؤں نے مزید کہا کہ ”18ویں ترمیم کی واپسی کی مخالفت کریں گے” والا پیپلز پارٹی کا بیان محض ڈھونگ اور فریب ہے۔ پیپلز پارٹی 2023ء میں بورڈ آف انویسٹمنٹ ترمیمی ایکٹ منظور کرا کے 18ویں ترمیم کو عملی طور پر ختم کر چکی ہے۔ 18ویں ترمیم کو غیر آئینی طور پر غیر مؤثر بنا کر ایس آئی ایف سی کا ادارہ قائم کیا گیا، جسے صوبوں کی زمینوں اور وسائل کی فروخت کا لائسنس دیا گیا ہے۔ ایس آئی ایف سی کے تحت سندھ کی زمینوں اور وسائل پر قبضے ہو رہے ہیں، جنہیں فوری طور پر روکا جائے، اور اس ادارے کو فی الفور ختم کیا جائے۔رہنماؤں نے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران بلاول نے کہا تھا کہ ”جو کارونجھر کاٹے گا، اس کے ہاتھ کاٹ دیں گے”، لیکن اب بلاول کی اپنی حکومت کارونجھر کو کاٹنے کے لیے آئینی عدالت سے فیصلہ لینا چاہتی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کی غلط بیانی عوام کے سامنے بے نقاب ہو چکی ہے۔ کارونجھر کی کٹائی روکنے کے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف آئینی عدالت میں جانا خود پیپلز پارٹی اور بلاول بھٹو زرداری کی سندھ دشمنی کو ظاہر کرتا ہے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت اقتدار کی لالچ میں سندھ کا سودا کر رہی ہے۔