نئے صوبوں کی بات ایک کان سے سنیں ، دوسرے سے نکال دیں، وزیراعلیٰ سندھ
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251129-08-23
کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے نئے صوبوں کے قیام سے متعلق تمام بحثوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے صوبوں کی بات ایک کان سے سنیں اور دوسرے سے نکال دیں، اللہ کے سوا کسی میں سندھ کو تقسیم کرنے کی طاقت نہیں، چیئرمین بلاول زرداری پہلے ہی اٹھارہویں ترمیم میں تبدیلی اور این ایف سی ایوارڈ کے حصے میں کمی کی تجاویز کو رد کر چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاملات مجوزہ 27ویں ترمیم میں بھی مسترد کر دیے گئے تھے۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ نے سول رجسٹریشن مینجمنٹ سسٹم (سی آر ایم ایس) موبائل ایپلی کیشن کا افتتاح کردیا تاکہ سول رجسٹریشن مینجمنٹ سسٹم کا افتتاح، پیدائش، اموات، نکاح اور طلاق کی رجسٹریشن کی خدمات کو ٹیکنالوجی پر مبنی پلیٹ فارم کے ذریعے شہریوں کی دہلیز تک پہنچایا جا سکے گا۔ تفصیلات کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے پورٹ گرانڈ میں منعقدہ سندھ کرافٹ فیسٹیول میں میڈیا سے گفتگو اور سول رجسٹریشن مینجمنٹ سسٹم (سی آر ایم ایس) موبائل ایپلی کیشن کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پورٹ گرانڈ میں سندھ کرافٹ فیسٹیول میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے صوبائی حکومت کی جانب سے سندھ کی روایتی دستکاری اور فنون کے فروغ کے عزم پر زور دیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہماری توجہ اس بات پر ہے کہ سندھ کے ثقافتی کام اور دستکاری کو وہ پہچان اور حوصلہ افزائی ملے جس کے وہ مستحق ہیں۔ علاوہ ازیں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سول رجسٹریشن مینجمنٹ سسٹم (سی آر ایم ایس) موبائل ایپلی کیشن کا افتتاح کردیا تاکہ سول رجسٹریشن مینجمنٹ سسٹم کا افتتاح، پیدائش، اموات، نکاح اور طلاق کی رجسٹریشن کی خدمات کو ٹیکنالوجی پر مبنی پلیٹ فارم کے ذریعے شہریوں کی دہلیز تک پہنچایا جا سکے گا، وسیع تر الیکٹرونک سول رجسٹریشن اینڈ وائٹل اسٹیٹیسٹکس (ای-سی آر وی ایس) سسٹم، جس کی منظوری 471.
کراچی: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اجلاس کی صدارت کررہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سول رجسٹریشن مینجمنٹ سسٹم سی ا ر ایم ایس کا افتتاح
پڑھیں:
جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔