Islam Times:
2026-06-02@23:50:11 GMT

مظفر گڑھ۔ ایس یو سی کیجانب سے متاثرین میں خیمے تقسیم

اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT

مرحلہ چہارم میں مزید 100 سیلاب متاثرین کو مسلک و مکتب سے بالاتر ہوکر، مکمل عزت و شرف کے ساتھ ان کے زمین بوس مکانات کے قریب خیمے نصب کرکے دیئے گئے اور ان کا ضروری سامان بھی اس میں منتقل کیا گیا۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو

مظفر گڑھ۔ ایس یو سی کیجانب سے متاثرین میں خیمے تقسیم

مظفر گڑھ۔ ایس یو سی کیجانب سے متاثرین میں خیمے تقسیم

مظفر گڑھ۔ ایس یو سی کیجانب سے متاثرین میں خیمے تقسیم

مظفر گڑھ۔ ایس یو سی کیجانب سے متاثرین میں خیمے تقسیم

مظفر گڑھ۔ ایس یو سی کیجانب سے متاثرین میں خیمے تقسیم

مظفر گڑھ۔ ایس یو سی کیجانب سے متاثرین میں خیمے تقسیم

مظفر گڑھ۔ ایس یو سی کیجانب سے متاثرین میں خیمے تقسیم

مظفر گڑھ۔ ایس یو سی کیجانب سے متاثرین میں خیمے تقسیم

اسلام ٹائمز۔ شیعہ علماء کونسل کی جانب سے ضلع مظفرگڑھ کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں سامان تقسیم کیا گیا، جامعہ المفید الجعفریہ، مظفرگڑھ کے پرنسپل و رہنما شیعہ علماء کونسل پاکستان مولانا اعجاز حسین شاکری کی نگرانی میں مرحلہ چہارم میں مزید 100 سیلاب متاثرین کو مسلک و مکتب سے بالاتر ہوکر، مکمل عزت و شرف کے ساتھ ان کے زمین بوس مکانات کے قریب خیمے نصب کرکے دیئے گئے اور ان کا ضروری سامان بھی اس میں منتقل کیا گیا۔.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ایس یو سی کیجانب سے متاثرین میں خیمے تقسیم مظفر گڑھ

پڑھیں:

اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ

تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔

متعلقہ مضامین