ایک بیوی، 5 شوہر: بھارت کی 5 ہزار سالہ تہذیب یا عورت پر ظلم؟
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
بھارت کے کچھ علاقوں میں آج بھی رائج قدیم رسم پولیانڈری (Polyandry) انسانی حقوق اور خواتین کے وقار کے لیے شدید خطرہ بن گئی ہے۔ اس رسم میں ایک خاتون کو بیک وقت متعدد مردوں کی شریکِ حیات ہونا پڑتا ہے، جسے بھارت سرکار ثقافتی ورثہ اور 5 ہزار سالہ تہذیب کا نام دیتی ہے۔
خواتین کے حقوق کے کارکنان اس روایت کو نہ صرف غیر انسانی بلکہ غیر منصفانہ قرار دیتے ہیں، کیونکہ یہ عورت کی مرضی اور اختیار کو مکمل طور پر نظر انداز کرتی ہے۔
???? یہ ہے وہی “پانچ ہزار سالہ تہذیب” جس کا بھارت دعویٰ کرتا ہے: ایک بیوی، پانچ شوہر۔ pic.
— Kashmir Urdu | کشمیر اردو (@KashmirUrdu) November 29, 2025
ان کے مطابق کوئی بھی رسم یا روایت عورت کے بنیادی حقوق اور شخصی آزادی کے اوپر فوقیت نہیں رکھ سکتی۔
سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسے تہذیب یا ثقافت کا نام دے کر جائز قرار دینا سراسر غیر منطقی ہے، اور ایسے مظالم کو اب ختم کرنا معاشرتی انصاف کی ضرورت ہے۔
خواتین کے حقوق کی تنظیمیں مطالبہ کر رہی ہیں کہ بھارت کی مودی سرکار اور مقامی انتظامیہ فوری اقدامات کرت ہوئے لوگوں میں شعور بیدار کرے اور شادی کے معاملات میں رضامندی، برابری اور آزادی کو یقینی بنایا جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
Polyandry ایک بیوی، 5 شوہر بھارت کی 5 ہزار سالہ تہذیب تہذیب یا عورت پر ظلم؟
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایک بیوی 5 شوہر تہذیب یا عورت پر ظلم ہزار سالہ تہذیب
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔