آکسفورڈ یونین مباحثے میں پاکستان کی برتری، بھارت کی پسپائی اور جعلی پروپیگنڈا بے نقاب
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
لندن میں آکسفورڈ یونین کے تحت پاکستان اور بھارت کے درمیان طے شدہ اہم اور مستند مباحثے میں پاکستان نے نہ صرف واضح علمی برتری دکھائی بلکہ بھارت کی ہنگامی پسپائی نے عالمی فورمز پر اس کے بیانیے کی کمزوری بھی عیاں کر دی۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت کا آکسفورڈ یونین مباحثے سے فرار، پاکستان کی بڑی فتح
بھارتی اعلیٰ سطحی وفد کے اچانک دستبردار ہونے کے بعد پاکستان نے بلامقابلہ کامیابی حاصل کی، اور اگلے ہی روز پاکستانی طلبہ نے بھارت کے متبادل کمزور پینل کو بھرپور دلائل کے ذریعے شکست دی۔ سبکی چھپانے کے لیے بھارت نے انڈیا ٹوڈے جیسے میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے گمراہ کن پروپیگنڈا شروع کر دیا، جو بعد میں خود ہی جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوا۔
یاد رہے کہ آکسفورڈ یونین کے تحت پاکستان اور بھارت کے درمیان’پاکستان کے بارے میں ہندوستان کی پالیسی ایک پاپولسٹ حکمت عملی ہے جسے سیکورٹی پالیسی کے طور پر فروخت کیا جاتا ہے‘، کے زیر عنوان طے مباحثہ طے تھا مگر 27 نومبر کو بھارت کا اعلیٰ سطحی وفد عین وقت پر میدان چھوڑ کر بھاگ نکلا۔
بھارتی مقررین کی اجتماعی دستبرداری کے بعد پاکستان کو بلامقابلہ جیت مل گئی، جس کا اعلان پاکستان ہائی کمیشن لندن نے کیا۔ ہائی کمیشن کے مطابق بھارت کی جانب سے جنرل ایم ایم نروا، ڈاکٹر سبرامنیم سوامی اور سچن پائلٹ جیسے بڑے نام فائنل تھے، مگر تینوں نے آخری لمحے پر شرکت سے انکار کر دیا۔
بعد ازاں بھارت نے اپنی سبکی چھپانے کے لیے چند غیر معروف، کم درجے کے مقررین پیش کیے، مگر آکسفورڈ یونین نے اس کو معیار سے گرا ہوا قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
پاکستانی وفد میں جنرل (ر) زبیر محمود حیات، سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر اور ڈاکٹر محمد فیصل لندن میں مباحثے کے لیے موجود تھے، مگر بھارتی ٹاپ ٹیم کے پیچھے ہٹ جانے سے مباحثہ ابتدا ہی میں غیرمتوازن ہو گیا۔ بھارتی فیصلے نے نہ صرف مباحثے کی ساکھ متاثر کی بلکہ جامعہ آکسفورڈ کو بھی پریشانی سے دوچار کیا۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان سے تعلق رکھنے والے موسیٰ ہراج آکسفورڈ یونین کے صدر منتخب
پھر 28 نومبر کو مباحثہ طلبہ کی سطح پر ہوا، جہاں پاکستان نے ایک بار پھر برتری ثابت کی۔ بھارت نے اپنی پہلی ٹیم کی ناکامی کے بعد جے سائی دیپک، پنڈت ستیش شرما اور دیورچن بنرجی پر مشتمل کمزور پینل میدان میں اتارا، جبکہ پاکستان کی جانب سے آکسفورڈ کے طلبہ موسیٰ ہراج، اسرار خان کاکڑ اور احمد نواز خان نے حصہ لیا۔
پاکستانی طلبہ نے بھارتی بیانیے کو دلائل، قانونی حوالوں اور ٹھوس اعداد و شمار سے یکسر بے نقاب کر دیا، اور ووٹنگ میں پاکستان کو دو تہائی اکثریت ملی۔
سبکی برداشت نہ کرتے ہوئے بھارت نے اگلے ہی دن جھوٹا پروپیگنڈا شروع کر دیا۔29 نومبر کو بھارتی صحافی آنند سنگھ اور انڈیا ٹوڈے نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے ایک ایسے مباحثے میں ’فتح‘ کا اعلان کیا جو ہونا ہی نہیں تھا۔ مگر فراہم کردہ ٹائم لائنز اور تفصیلات سے واضح ہو گیا کہ یہ تمام تر بھارتی پروپیگنڈا اپنی شکست چھپانے کا ناکام ہتھکنڈا تھا۔
بھارتی میڈیا نے آکسفورڈ یونین کے صدر موسیٰ ہراج، جو پاکستان کے وزیر دفاعی پیداوار کے بیٹے ہیں، پر بے بنیاد الزامات لگا کر معاملہ دھندلانے کی کوشش کی۔ بھارتی بیانیے کے مطابق موسیٰ ہراج نے مبینہ طور پر بھارتی مقررین کو تیاری کا وقت نہ دیا، مگر بھارت کی اپنی جانب سے پیش کیے جانے والے کم درجے کے مقررین اور 2 دن کے اندر پاکستانی طلبہ سے شکست نے اس پروپیگنڈے کی حقیقت کھول دی۔
یہ واقعہ بھارت کی اس پرانی روایت کو پھر بے نقاب کرتا ہے کہ جہاں دلیل اور اصولی بحث میں شکست یقینی ہو، وہاں پروپیگنڈا، گمراہ کن خبریں اور اداروں پر الزامات کے ذریعے حقیقت کو مسخ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
پاکستان نے نہ صرف مباحثے کے ہر مرحلے پر اعتماد اور تیاری کا مظاہرہ کیا بلکہ بھارت کے بعد از شکست جھوٹے بیانیے کو بھی اعداد و شواہد کے ساتھ رد کر دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آکسفورڈ یونین انڈیا ٹوڈے بھارت پاکستان موسیٰ ہراج.ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا کسفورڈ یونین انڈیا ٹوڈے بھارت پاکستان آکسفورڈ یونین پاکستان نے بھارت کے بھارت کی یونین کے بھارت نے کے لیے کر دیا کے بعد
پڑھیں:
آکسفورڈ میں پاکستان کی علمی میدان میں بڑی فتح، بھارت کو سبکی کا سامنا
لندن:پاکستان نے علمی میدان میں بڑی فتح حاصل کرلی جہاں آکسفورڈ یونین کے تصدیق شدہ مباحثے سے بھارتی وفد عین وقت پر دستبردار ہوگیا اور پاکستان کو بلامقابلہ فتح حاصل ہوئی۔
لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کے بیان کے مطابق جنرل (ر) زبیر محمود حیات، سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر اور ڈاکٹر محمد فیصل مباحثے کے لیے لندن میں موجود رہے لیکن بھارتی وفد حاضری کی ہمت نہ کر سکا۔
بیان میں کہا گیا کہ قرارداد یہ تھی کہ بھارت کی پاکستان پالیسی محض عوامی جذبات بھڑکانے کی حکمت عملی ہے، بھارتی مقررین نے اسی بحث سے راہ فرار اختیار کی اور یوں بھارتی وفد کی دست برداری نے آکسفورڈ یونین جیسے غیرجانب دار فورم پر بھارتی بیانیے کی کمزوری بے نقاب کر دی ہے۔
پاکستانی ہائی کمیشن کے مطابق بھارتی رہنما ٹی وی چینلز پر شور مچاتے ہیں، مگر علمی مباحثے میں دلیل اور جواب دینے سے گھبراتے ہیں، آکسفورڈ میں طلبہ کی اکثریت بھارتی ہونے کے باوجود بھارتی وفد نے ووٹ کا سامنا کرنے سے انکار کیا۔
اس حوالے سے مزید بتایا گیا کہ بھارت کی نام نہاد “سیکورٹی پالیسی” آکسفورڈ یونین میں ممکنہ منطقی سوالات کا وزن نہ اٹھا سکی اور بھارتی مقررین نے ممکنہ شرمندگی سے بچنے کے لیے پہلے سے طے شدہ مباحثہ خود ہی سبوتاژ کر دیا۔
پاکستانی ہائی کمیشن سے جاری بیان میں کہا گیا کہ میڈیا پر پاکستان مخالف پراپیگنڈا کرنے والے بھارتی تجزیہ کار جب کھلی بحث کا موقع ملا تو غائب ہو گئے۔
بیان میں کہا گیا کہ آکسفورڈ یونین میں بھارتی وفد کی غیرحاضری مئی 2025 کے بعد سے جاری سفارتی و بیانیے کی ناکامیوں کی تازہ کڑی ہے، چرچل نے کہا تھا “گفتگو جنگ سے بہتر ہے” مگر بھارت آج ثابت کر رہا ہے کہ وہ نہ گفتگو کے لیے تیار ہے نہ جواب دہی کے لیے۔
مزید بتایا گیا کہ پاکستان نے دلیل، مکالمے اور قانونی مؤقف سے بحث جیتنے کی تیاری کی لیکن بھارت نے بحث شروع ہونے سے پہلے ہی ہتھیار ڈال دیے، آکسفورڈ یونین میں بھارتی وفد کی عدم شرکت ان کے اپنے عوام کے سامنے بھی سوالیہ نشان بن گئی ہے۔
پاکستانی ہائی کمیشن نے کہا کہ پاکستان نے واضح، مدلل اور پراعتماد مؤقف کی تیاری کر رکھی تھی، جبکہ بھارت نے پسپائی کو ہی حکمت عملی بنایا۔