ہوٹلوں اور مارکیٹوں میں رش کراچی میں امن کی علامت ہے، آئی جی سندھ
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی سندھ پولیس نے کہا کہ کیا ہمیں ذہنی سکون مل سکتا ہے کہ اگر ہمارے علاقے میں منشیات فروشی ہو رہی ہو، ہم وہ محکمہ ہیں جہاں سے انصاف شروع ہوتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آئی جی سندھ پولیس غلام نبی میمن نے کہا ہے کہ ہوٹلوں اور مارکیٹوں میں رش کراچی میں امن کی علامت ہے، کرائم ریٹ میں واضح کمی پر ایڈیشنل آئی جی کراچی کو شاباش دیتا ہوں۔ تفصیلات کے مطابق گارڈن ہیڈکوارٹر کراچی میں افسروں و جوانوں کے اعزاز میں منعقدہ شاندار عشائیہ "بڑا کھانا" کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے کہا کہ کراچی سمیت صوبے بھر میں امن آپ سب کی محنت کا نتیجہ ہے، آج اگر سندھ پولیس کامیاب ہے تو میں بھی کامیاب ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ ہمارا کام انصاف سے جڑا ہوا ہے، ایسے فیصلے بھی زیربحث ہیں جو بظاہر لگتے تھے کہ کسی انفرادی افسرکے خلاف تھے، کیا ہمیں ذہنی سکون مل سکتا ہے کہ اگر ہمارے علاقے میں منشیات فروشی ہو رہی ہو، ہم وہ محکمہ ہیں جہاں سے انصاف شروع ہوتا ہے۔
غلام نبی میمن نے کہا کہ اخلاق، مذہب اور قانون کے خلاف سرگرمیاں ذہنی سکون نہیں دی سکتیں، کچھ مشکل فیصلے کیے جو پولیس کیلئے مفید ثابت ہوئے، غلط کام پر سزا اور اچھے کام پر ریوارڈ سے ہی ڈسپلن قائم ہوتا ہے، صوبے کے 2576 شہداء میں 1072 کا تعلق کراچی سے ہے، شہداء کے خون کی بدولت آج امن قائم ہے، سندھ پولیس کی محنت پر سب کو شاباش دیتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کمیونٹی پولیسنگ کیلئے سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب اہم قدم ہے، حکومتِ سندھ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا شکریہ ادا کرتا ہوں، موجودہ ٹریفک نظام سے ٹریفک پولیس کی عزت میں مزید اضافہ ہوا، حکومتِ سندھ نے ہمارے تمام پروپوزل منظور کیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سندھ پولیس نے کہا کہ
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔