وزیراعظم کا لندن میں طبی معائنہ، قیام بڑھانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
وزیراعظم کا لندن میں طبی معائنہ، قیام بڑھانے کا فیصلہ WhatsAppFacebookTwitter 0 30 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس) وزیراعظم شہباز شریف کا لندن میں طبی معائنہ ہوا ہے اور انہوں نے برطانیہ میں اپنا قیام بڑھا لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف ایک روز قبل نجی دورے پر برطانیہ پہنچے، لوٹن ایئرپورٹ پر اُن کا استقبال ہائی کمشنر ڈاکٹر فیصل اور ن لیگ کی مقامی قیادت نے کیا۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم کے لندن میں میڈیکل چیک اپس ہوئے اور انہوں نے وہاں پر قیام ایک روز مزید بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس سے قبل وزیراعظم کو چار روزہ نجی دورہ مکمل کر کے اتوار کو پاکستان آنا تھا تاہم اب وہ پیر کی دوپہر لندن سے اسلام آباد کیلیے روانہ ہوں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرجدہ: پاکستان انوسٹر فورم کے نومنتخب صدر چوہدری شفقت محمود دھول کی جدہ واپسی ؛ والہانہ استقبال ممبران اور سیاسی و سماجی رہنماؤں کی مبارکبادوں کا سلسلہ جاری جدہ: پاکستان انوسٹر فورم کے نومنتخب صدر چوہدری شفقت محمود دھول کی جدہ واپسی ؛ والہانہ استقبال ممبران اور سیاسی و سماجی رہنماؤں کی... ٹیکساس، ٹک ٹاک پر بم بنانے کا دعویٰ کرنے والا افغان شہری گرفتار سری لنکا میں طوفان دتواہ سے تباہی، پاک بحریہ نے امدادی کارروائیاں شروع کردیں سعودی عرب انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کونسل کا رکن بن گیا سری لنکا میں تباہی پھیلانے کے بعد سمندری طوفان بھارت کی طرف بڑھنے لگا پاکستان غزہ امن فورس کے لیے فوجی بھجوانے کو تیار، حماس کو غیر مسلح کرنے کے عمل میں شامل نہیں ہو گا: اسحاق ڈار
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔