امریکا میں مقیم افغانوں کی ٹرمپ سے امیگریشن درخواستیں نہ روکنےکی اپیل
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
امریکن افغان کمیونٹی نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے فائرنگ کو ایک فرد کا مجرمانہ عمل قرار دیا، بیان میں کہا کہ یہ واقعہ کسی کمیونٹی کی نمائندگی نہیں کرتا۔ اسلام ٹائمز۔ واشنگٹن میں نیشنل گارڈز پر فائرنگ کے بعد امریکا میں مقیم افغان برادری نے صدر ٹرمپ سے واقعے کی بنیاد پر افغانوں کی امیگریشن درخواستیں نہ روکنے کی اپیل کردی۔ امریکن افغان کمیونٹی نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے فائرنگ کو ایک فرد کا مجرمانہ عمل قرار دیا، بیان میں کہا کہ یہ واقعہ کسی کمیونٹی کی نمائندگی نہیں کرتا۔ ایک افغان شہری نے برطانوی میڈیا سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ سے امیگریشن عمل سے متعلق فیصلے پر دوبارہ جائزہ لینے کی درخواست کردی۔
ایک اور افغان شہری کا کہنا تھا کہ ان کے لیے افغانستان میں بھی طالبان کی جانب سے مسائل درپیش ہیں اور اب امریکا میں بھی مسائل شروع ہوگئے۔ یاد رہے کہ افغان شہری کی جانب سے نیشنل گارڈ کے اہلکاروں کو گولی مارنے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے افغان شہریوں کی امیگریشن درخواستیں فوری طور پر روک دی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
خان سر کے کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ، کوچنگ سینٹر کو دو دن میں اڑانے کی دھمکی دی گئی
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پٹنہ کے مشلہ پور میں خان سر کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ کی گئی جس سے علاقے میں کچھ دیر کیلئے خوف و ہراس پھیل گیا، لوگوں نے پتھراؤ کی بھی اطلاع دی۔ اسلام ٹائمز۔ پٹنہ کے کدم کنواں تھانہ علاقے میں کل دیر رات افراتفری مچ گئی، جب کچھ شرپسند عناصر معروف استاد خان سر کے کوچنگ سینٹر میں گھس گئے اور توڑ پھوڑ اور لوگوں کے ساتھ مار پیٹ کی۔ واقعے میں کوچنگ سینٹر میں موجود کئی سامان کو نقصان پہنچا جب کہ وہاں تعینات ایک گارڈ شدید زخمی ہوگیا۔ سر میں چوٹ لگنے کے بعد اسے علاج کے لئے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پٹنہ پولیس حرکت میں آگئی۔ پٹنہ کے ایس ایس پی، کدم کنواں پولس اسٹیشن اور دیگر پولیس افسران کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچے اور معاملے کی جانچ شروع کی۔ پولیس کی ٹیمیں رات گئے تک جائے وقوعہ پر موجود رہیں اور عہدیدارون کی جانب سے شواہد اکٹھے کئے گئے۔
واقعہ کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچنے والے خان سر نے الزام لگایا کہ حال ہی میں ان کے کوچنگ انسٹی ٹیوٹ سے ہزاروں طلباء کو بہار پولیس بھرتی امتحان میں منتخب کیا گیا تھا، جس نے کچھ کمپٹیشن کرنے والے کوچنگ اداروں کو پریشان کر دیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں مسلسل دھمکیاں مل رہی تھیں، جس کے نتیجے میں حملہ اور توڑ پھوڑ کی گئی۔ خان سر نے کہا کہ یہ لوگ پوچھ رہے ہیں، ہم اتنی کم فیس پر کیوں پڑھا رہے ہیں، ہمیں اتنے اچھے نتائج کیوں مل رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب ہزاروں طلباء کے نتائج آتے ہیں تو کچھ سماج دشمن عناصر کو خطرہ محسوس ہوتا ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پٹنہ کے مشلہ پور میں خان سر کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ کی گئی جس سے علاقے میں کچھ دیر کے لئے خوف و ہراس پھیل گیا۔ لوگوں نے پتھراؤ کی بھی اطلاع دی۔ حملے میں ایک سکیورٹی گارڈ زخمی ہوا ہے جسے علاج کے لئے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ واقعہ کے بعد سے علاقے میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ جائے وقوعہ پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ پٹنہ کے ایس ایس پی کارتکیہ کے شرما نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ کچھ طلباء نے کوچنگ سینٹر پر حملہ کیا اور توڑ پھوڑ کی۔ واقعے میں ایک گارڈ زخمی ہوا، اس کا بیان قلمبند کیا جائے گا۔