نوجوان کسی بھی قوم کا اصل سرمایہ ہوتے ہیں، ڈاکٹر طاہرالقادری
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
منہاج یوتھ لیگ کا 37 واں یومِ تاسیس جوش و جذبے کے ساتھ منایا گیا، پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری، پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے بھی مبارکباد پیش، مرکزی سیکرٹریٹ میں منعقدہ تقریب میں رانا وحید شہزاد، ڈاکٹر عمران یونس و دیگر نے شرکت کی۔ اسلام ٹائمز۔ منہاج یوتھ لیگ کا 37 واں یومِ تاسیس جوش و جذبے کے ساتھ منایا گیا۔ مرکزی، صوبائی، ضلعی اور مقامی سطح پر خصوصی تقریبات، ریلیاں، سیمینارز اور نوجوانوں کیلئے تربیتی نشستیں منعقد کی گئیں جن میں کارکنان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ بانی و سرپرست اعلیٰ تحریک منہاج القرآن ڈاکٹر طاہرالقادری نے37 ویں یوم تاسیس پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ منہاج یوتھ لیگ نوجوانوں کی ایسی تنظیم ہے جس نے ہمیشہ امن، علم، اخلاق اور خدمت انسانیت کا پیغام عام کیا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان کسی بھی قوم کا اصل سرمایہ ہوتے ہیں اور منہاج یوتھ لیگ نے37 برسوں میں ملک کے نوجوانوں کی فکری و اخلاقی اصلاح کے مشن کو مضبوط بنیادوں پر آگے بڑھایا ہے۔
چیئرمین سپریم کونسل منہاج القرآن پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری، صدرمنہاج القرآن انٹرنیشنل پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری، ناظم اعلیٰ خرم نواز گنڈاپور و دیگر رہنمائوں نے بھی منہاج یوتھ لیگ کے تمام نوجوانوں اور ذمہ داران کو37 ویں یوم تاسیس کی مبارکباد دی ہے۔ دریں اثنا منہاج یوتھ لیگ کے 37 ویں یوم تاسیس پر کیک کاٹنے کی مرکزی تقریب سنٹرل سیکرٹریٹ ماڈل ٹائون میں منعقد ہوئی۔ اس موقع پر37ویں یوم تاسیس کا کیک کاٹا گیا اور ملکی سلامتی اور خوشحالی کیلئے دعا کی گئی۔ منہاج یوتھ لیگ کے مرکزی صدر رانا وحید شہزاد نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمیں ڈاکٹرطاہرالقادری کی سرپرستی اور تربیت حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری، پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری کی رہنمائی میں منہاج القرآن کے پلیٹ فارم پر ایک باشعور، ذمہ دار اور محب وطن یوتھ پروان چڑھ رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: محی الدین قادری پروفیسر ڈاکٹر منہاج القرا ن یوم تاسیس کہا کہ
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، اسٹاک ایکسچینج میں 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد کو دھچکا پہنچا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعہ کو بھی فروخت کا دباؤ برقرار رہا۔
آج کاروبار کے پہلے نصف حصے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی کا شکار ہوگیا۔
دوپہر 12 بج کر 5 منٹ پرانڈیکس 170,475.30 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا، جو 1,264.14 پوائنٹس یعنی 0.74 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی کشیدگی سے سرمایہ کار محتاط، پاکستان اسٹاک مارکیٹ مندی سے دوچار
مارکیٹ میں فروخت کا رجحان آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) اور بجلی پیدا کرنے والے شعبوں میں نمایاں رہا۔
حب پاور، اٹک ریفائنری لمیٹڈ، ماری انرجیز، او جی ڈی سی ایل، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، حبیب بینک، مسلم کمرشل بینک، میزان بینک اور نیشنل بینک جیسے زیادہ وزن رکھنے والے شیئرز مندی کے ساتھ کاروبار کرتے رہے۔
Market is down at midday ????
⏳ KSE 100 is negative by -1253.65 points (-0.73%) at midday trading. Index is at 170,485.8 and volume so far is 113.98 million shares (12:00 PM) pic.twitter.com/DtJJR8AXhS
— Investify Pakistan (@investifypk) July 24, 2026
جمعرات کو بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج شدید دباؤ کا شکار رہی تھی، جب کے ایس ای 100 انڈیکس 2,690.48 پوائنٹس یعنی 1.54 فیصد کمی کے بعد 171,739.45 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
ماہرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی نے سرمایہ کاروں میں خدشات بڑھا دیے ہیں، جس کے باعث مختلف شعبوں میں بڑے پیمانے پر فروخت دیکھنے میں آئی۔
عالمی منڈیوں میں بھی مندیعالمی سطح پر بھی ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں جمعہ کو نمایاں کمی دیکھی گئی، جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 100.85 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
گزشتہ روز اس میں تقریباً 7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا اور قیمت مختصر طور پر 102 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی۔
مزید پڑھیں: عالمی معیشت میں بہتری: اسٹاک مارکیٹ اور سونے چاندی میں سرمایہ کاری کب کی جائے؟
تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ ایران سے منسلک حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکروں پر حملوں اور آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات کے باعث سامنے آیا، جس سے عالمی تیل کی رسد متاثر ہونے کا اندیشہ پیدا ہوگیا ہے۔
دوسری جانب امریکا کی جانب سے 60 تجارتی شراکت دار ممالک کی درآمدات پر مزید ٹیرف عائد کرنے کے فیصلے نے بھی مہنگائی کے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔
مالیاتی منڈیوں میں یہ توقع بھی زور پکڑ رہی ہے کہ عالمی مرکزی بینک سخت مانیٹری پالیسی اختیار کر سکتے ہیں۔
سرمایہ کاروں کے مطابق امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے آئندہ ہفتے ہی شرح سود میں اضافے کا امکان ایک تہائی تک پہنچ چکا ہے، جبکہ ستمبر میں شرح سود بڑھانے کا امکان تقریباً یقینی سمجھا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: لائیو اسٹاک اور زراعت پر توجہ دے کر ایک سال میں معیشت بہتر کی جا سکتی ہے، وزیراعظم شہباز شریف
ادھر یورپی مرکزی بینک نے اگرچہ اپنی حالیہ میٹنگ میں شرح سود برقرار رکھی، تاہم مالیاتی منڈیوں میں ستمبر میں شرح سود میں اضافے کے امکانات تقریباً 70 فیصد تک پہنچ گئے ہیں۔
ایشیائی منڈیوں میں ایم ایس سی آئی ایشیا پیسیفک انڈیکس میں ایک فیصد، جاپان کے نکی انڈیکس میں 2.9 فیصد جبکہ جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس میں 3.7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آبنائے ہرمز آئل ٹینکر اسٹاک ایکسچینج انڈیکس بحیرہ احمر پاکستان حبیب بینک حوثی سیمنٹ مانیٹری پالیسی میزان بینک نیشنل بینک