عمر عبداللہ کی حکموت ناکام ہوچکی ہے انہیں مستعفی ہونا ہی بہتر ہے، سید رفیق شاہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
ٹرائبل یونایٹڈ فرنٹ کے لیڈران نے بھارت کی مرکزی حکومت کا اس بات کیلئے شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے پہاڑی کمیونٹی کو شیڈول ٹرائب کا درجہ دیکر ایک انقلابی قدم اٹھایا اور کہا کہ ایسے اقدامات وقت کا تقاضا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آل جموں و کشمیر ٹرائبل یونائٹڈ فرنٹ کے بینر تلے آج بسمنی بٹ نور ترال میں یک روزہ پروگرام منعقد ہوا جس کی صدارت فرنٹ کے سربراہ سید رفیق احمد شاہ نے کی، جبکہ اس موقعے پر چودھری روشن، رشید ترالی، شاہینہ، فیروز احمد اور دیگر لیڈران موجود تھے۔ اس موقعے پر شرکاء نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج تک گجر، بکر وال اور پہاڑی کمیونٹی کو ووٹ بینک کے لئے استعمال کیا گیا، لیکن اب وقت آگیا ہے کہ قبائلی طبقے کے حقوق کے لئے متحد ہو کر لڑا جائے، کیونکہ اتحاد سے ہی تمام مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے۔ اس موقعے پر ٹرائبل یونایٹڈ فرنٹ کے لیڈران نے بھارت کی مرکزی حکومت کا اس بات کے لئے شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے پہاڑی کمیونٹی کو شیڈول ٹرائب کا درجہ دے کر ایک انقلابی قدم اٹھایا اور کہا کہ ایسے اقدامات وقت کا تقاضا ہے۔
میڈیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے فورم کے سربراہ و سابق ممبر قانون ساز کونسل سید رفیق احمد شاہ نے جموں و کشمیر کی عمر عبداللہ کی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ جموں میں بلڈوزر چلا کر عمر عبداللہ کی حکومت نے ناکامی کا ثبوت پیش کیا، یہ کارروائی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ سرکار ہر محاز پر ناکام ہوچکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر عمر عبداللہ کو سرکار چلانا نہیں آتی تو اسے فوری طور مستعفٰی ہونا چاہیئے۔ واضح رہے کہ جموں و کشمیر میں گوجر بکروال اور پہاڑی برادریوں کے لئے متعدد تنظیمیں سرگرم ہیں۔ اس سے قبل اوڑی میں آل جموں و کشمیر گوجر بکروال اور پہاڑی کلچرل اور ویلفیئر فورم کے بینر تلے گجر-بکروال اور پہاڑی ورکرز کنونشن کا انعقاد کیا گیا۔ اس میں بھی گوجر-بکروال اور پہاڑی برادریوں کو مل کر کام کرنے پر زور دیا گیا اور ان برادریوں کے سماجی حقوق کے لئے متحدہ جدوجہد کی وکالت کی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: عمر عبداللہ انہوں نے فرنٹ کے کہا کہ کے لئے
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔