گھروں کی مسماری مہم میری حکومت کو بدنام کرنے کی دانستہ کوشش ہے، عمر عبداللہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
سرینگر میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ فیلڈ اسٹاف اور ریونیو اہلکاروں کو ان کی حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر مسماری مہم کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، وزراء کی منظوری کے بغیر بلڈوزر استعمال کیے جا رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے علاقے میں جاری گھروں کی مسماری مہم پر اپنے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک منتخب حکومت کو بدنام کرنے کی دانستہ کوشش قرار دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق عمر عبداللہ نے یہ بات لیفٹیننٹ گورنر کے ماتحت انتظامیہ کی طرف سے جموں خطے کے علاقے ناروال میں صحافی ارفاز احمد کے گھر کو مسمار کرنے پر اپنے ردعمل میں کہی۔عمر عبداللہ نے سرینگر میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فیلڈ اسٹاف اور ریونیو اہلکاروں کو ان کی حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر مسماری مہم کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، وزراء کی منظوری کے بغیر بلڈوزر استعمال کیے جا رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے مسماری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس کارروائی سے ان کی حکومت کو مکمل طور پر لاعلم رکھا گیا اور یہ ایک منتخب حکومت کو بدنام کرنے کی دانستہ کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ساری مشق ایک سازش ہے۔ عمر عبداللہ نے مزید کہا کہ انتظامی افسر ہماری مرضی کے بغیر فیصلے کرتے ہیں۔ ریونیو اور فیلڈ سٹاف کو منتخب حکومت کے تحت کام کرنا چاہیے، لیکن ہمیں اعتماد میں لیے بغیر بلڈوزر کا استعمال کیا جا رہا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ہماری حکومت کو بدنام کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے انہدامی مہم کی نوعیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایسے لگ رہا ہے کہ ایک خاص کمیونٹی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیا جموں میں صرف ایک ہی جگہ تھی جو غیر قانونی تھی؟ صرف ایک شخص کو کیوں ہدف بنایا گیا؟ کیا مذہب اس کی وجہ تھا، اس طرح سے نشانہ بنانا بلاجواز ہے اور سنگین خدشات پیدا کرتا ہے۔
.ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حکومت کو بدنام کرنے کی عمر عبداللہ نے کرتے ہوئے جا رہا ہے کہا کہ
پڑھیں:
لازوال عشق: ’اب یہ ترکی کو بدنام کروائیں گی‘
سوشل میڈیا ویڈیو پلیٹ فارم پر نشر ہونے والے متنازع شو لازوال عشق کی تشہیر پر ایک بار پھر عائشہ عمر کو صارفین کی شدید تنقید کا سامنا ہے۔
تفصیلات کے مطابق عائشہ عمر نے متنازع شو لازوال عشق کے حوالے سے ہونے والی تنقید کے بعد اس پروگرام کے حوالے سے معلومات شیئر کیں اور بتایا کہ یہ ترک پرڈیوسرز کی پیش کش ہے مگر اسے پاکستانی ناظرین کیلیے بنایا جارہا ہے۔
انہوں نے لکھا کہ اس پروگرام میں حصہ لینے والی لڑکیوں کے سونے کیلیے علیحدہ کمرے مختص کیے گئے ہیں۔
عائشہ عمر نے لکھا کہ ’لازوال عشق پاکستانی پروڈکشن یا شو نہیں اور نہ ہی اس پروگرام پر کسی کورٹ کی طرف سے پابندی لگائی گئی ہے، یہ پاکستانی اور اردو بولنے یا سمجھنے والے ناظرین کیلیے بنایا جانے والا ایک شو ہے جسے کسی چینل نہیں بلکہ یوٹیوب پر نشر کیا جاتا ہے‘۔
انہوں نے لکھا کہ ’یہ ایک ریئلٹی شو ہے جس میں سیکھنے اور آپس میں گفتگو کرنے کے طریقوں، اپنے ساتھی کے ساتھ تعلقات اور سچی محبت کی تلاش کے حوالے سے چیزیں سکھائی جارہی ہیں‘۔
عائشہ عمر نے لکھا کہ اس پروگرام کو کسی پاکستانی پروڈکشن ہاؤس یا پروڈیوسر نے تخلیق نہیں کیا البتہ یہ ترکش پروڈکشن ہے اور وہاں کے ایک بڑے پروڈکشن ہاؤس نے پروگرام بنایا ہے، جس نے یہ شو نہیں دیکھا اُس نے اپنے خیالات از خود پیدا کرلیے ہیں۔
پروگرام کی میزبان نے لکھا کہ لازوال عشق کے گھر میں آنے والی لڑکیوں کے رہنے اور سونے کیلیے علیحدہ کمرے ہیں جبکہ مرد بھی الگ کمروں میں سوتے اور علیحدہ ہی رہتے ہیں‘۔
عائشہ عمر کے اس پیغام کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے ایک بار انہیں پھر سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اداکارہ خود بچنے کیلیے اب ترکیہ کو بدنام کررہی ہیں۔
ایک صارف مانو بٹ نے طنز کرتے ہوئے لکھا کہ ’عیب چھپانے کیلیے کمیونیکیشن کا نام اچھا دیا ہے‘۔ ڈی جی زبیر نامی صارف نے لکھا کہ ’یہ اب ترکیہ کو گندا کروائیں گی‘۔
بشریٰ نے لکھا کہ اگر ترکیہ کا پروگرام بھی ہے تو پاکستانی اداکاروں اور اس میں حصہ لینے والوں کو اپنی اخلاقی اقدار کو دیکھنا اور اس کا خیال رکھنا چاہیے۔