PSB کوتحفظات، 35 ویں نیشنل گیمز کھٹائی میں پڑنے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
کراچی:(نیوز ڈیسک)کراچی میں 6 دسمبر سے شروع ہونے والے 35 ویں نیشنل گیمز کھٹائی میں پڑنے کا امکان ہے۔پاکستان اسپورٹس بورڈ نے سندھ حکومت کو تحریری طور پر اپنے تحفظات سے آگاہ کر دیا، پی ایس بی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر برائے نیشنل فیڈریشنز کی جانب سے سندھ حکومت کے سیکرٹری کھیل کو تحریر کیے جانے والے خط میں استدعا کی گئی ہے کہ نیشنل گیمز میں حقیقی اور تسلیم شدہ کھیلوں کی تنظیموں اور آفیشلز کو مواقع فراہم کیے جائیں۔
پی ایس بی کی جانب سے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ نیشنل گیمز میں مبینہ طور پر غیر قانونی فیڈریشنز کو شامل کیا گیا ہے، 13 دسمبر تک جاری رہنے والے نیشنل گیمز میں کچھ کھیل ایسی باڈیز یا افراد کی زیر نگرانی منعقد کرائے جا رہے ہیں جن کو پی ایس بی یا متعلقہ بین الاقوامی فیڈریشن تسلیم نہیں کرتیں۔
خط میں توجہ دلائی گئی ہے کہ ویٹ لفٹنگ فیڈریشن پر پی ایس بی کی جانب سے پابندی عائد ہے جبکہ ڈوپنگ معاملات کی خلاف ورزی کے سبب اسے انٹرنیشنل فیڈریشن بھی تسلیم نہیں کرتی، ممنوعہ ادویات کے استعمال پر پابندی کا شکار ویٹ لفٹنگ فیڈریشن کو نیشنل گیمز میں شامل کیا گیا ہے، مسلسل خلاف ورزیوں پر پابندی عائد ہونے کے باوجود بیرون ملک مقیم بیس بال کے فخر زمان کا مبینہ طور پر مقابلوں کے انعقاد میں عمل دخل ہے۔
پی ایس بی کے تحت پاکستان باڈی بلڈنگ فیڈریشن کے انتخابات تسلیم کرنے کی بجائے غیر قانونی اور غیر تسلیم شدہ باڈی کے تحت ایونٹ منعقد کرایا جا رہا ہے، ایتھلیٹکس فیڈریشن کے انتخابات کو غیر قانونی قرار دیا جا چکا ہے لیکن نیشنل گیمز میں ایتھلیٹکس مقابلے قائم کردہ الگ کمیٹی کے تحت کرائے جا رہے ہیں۔
پی ایس بی نے سندھ حکومت سے استدعا کی ہے کہ مذکورہ معاملات کا فوری طور پر جائزہ لیا جائے اور نظر ثانی کرتے ہوئے نیشنل گیمز میں قانونی فیڈریشنز اور آفیشلز کو ہی شرکت کے مواقع فراہم کیے جائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔