امریکی قرارداد میں فلسطین کے حق خودارادیت کو تسلیم نہ کرنے پر روس کا اظہار تشویش
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
روس نے فلسطین کی حق خودارادیت کو تسلیم نہ کرنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
غیرملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زخارووا نے اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ روس نے غزہ پر امریکی قرارداد 2803 پر ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا جسے 17 نومبر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کیا گیا، اس قرارداد کو 13 ووٹوں کے ساتھ منظور کیا گیا جبکہ روس اور چین نے ووٹنگ سے اجتناب کیا۔
ماریا زخارووا نے بتایا کہ امریکی منصوبہ جسے “پیس کونسل” اور “انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس” کے قیام کے لیے تیار کیا گیا فلسطینی حکام کی شمولیت کے بغیر تیار کیا گیا اور اسرائیل کی بطور قابض طاقت ذمہ داریوں کو واضح نہیں کرتا، اس کے علاوہ سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کا سیکرٹریٹ اس عمل میں مکمل طور پر خارج کیا گیا ہے۔
زخارووا نے کہا ہے کہ قرارداد 2803 نہ تو فلسطینیوں کے حق خودارادیت کو تسلیم کرتی ہے اور نہ ہی اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن و سلامتی کے قیام میں مددگار ہے، روس نے ووٹنگ سے اس لیے اجتناب کیا کہ فلسطینی اتھارٹی اور مسلم ممالک کی حمایت کے پیش نظر کسی نئی خونریزی کا راستہ نہ کھلے۔
روسی ترجمان نے مزید کہا ہے کہ گزشتہ دو سال کے دوران واشنگٹن نے چھ بار فوری جنگ بندی کی قراردادوں کو ویٹو کیا جس کے سبب غزہ میں جاری جنگ اور انسانی المیے کو روکا جا سکتا تھا، روس کی کوشش ہے کہ قرارداد 2803 کسی بھی غیر قانونی تجربے یا فلسطینی حق خودارادیت کی پامالی کا جواز نہ بنے۔
نمائندہ دنیا نیوز کی جانب سے سوال پوچھا گیا کہ صدر پوٹن نے ہمیشہ اسلامو فوبیا کے خلاف بات کی ہے، اسلام اور مسلمانوں کے احترام پر زور دیا ہے، پاکستانی عوام صدر پوٹن کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے، کیا صدر پوٹن کا مستبقبل میں پاکستان کے دورے کا کوئی ارادہ ہےِ؟
ماریا زخارووا نے کہا ہے کہ روس ایک کثیرالمذہبی ریاست ہے جہاں مختلف ثقافتوں اور مذاہب کے لوگ بستے ہیں، آپ جانتے ہیں کہ روس کے کئی خطے ایسے ہیں جہاں صدیوں سے اسلام رائج ہے، ہمارے ملک میں بڑی تعداد میں مساجد موجود ہیں اور اسلام کے نمائندے عالمی سطح پر اہم مسائل پر ہونے والی حکومتی بات چیت میں حصہ لیتے ہیں جس سے ملکی اتحاد میں نمایاں کردار ادا ہوتا ہے، یہ صرف خارجہ پالیسی کا حصہ نہیں بلکہ ہماری ثقافت، قوم نگاری اور تمدن کا بھی اہم جزو ہے۔
صدر ولادیمیر پوٹن کے دورہ پاکستان سے متعلق انہوں نے کہا ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے صدر پوٹن کو باضابطہ دعوت دی جا چکی ہے اور اس طرح کی تمام سرگرمیوں کا حتمی اعلان صدارتی دفتر کی جانب سے ہی کیا جاتا ہے، جیسے ہی صدر پوٹن کے دورہ پاکستان کا کوئی فیصلہ ہوگا میڈیا کو بروقت آگاہ کر دیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حق خودارادیت زخارووا نے کہا ہے کہ صدر پوٹن کیا گیا کہ روس
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔