پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کے معروف اداکار و ہدایت کار کاشف محمود کے بیٹے نے قرآن مجید حفظ کرنے کی سعادت حاصل کرلی۔

تفصیلات کے مطابق کاشف محمود نے آج جمعے کے روز اپنے بیٹے کے ساتھ لی گئی تصویر شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ الحمداللہ، میرے منجلے (درمیانے) بیٹے محمد ابان کاشف حافظ قرآن بن گیا ہے۔

اس تصویر میں کاشف محمود کی خوشی دیدنی ہے اور ایسا محسوس ہورہا ہے کہ انہیں اپنے بیٹے کو ملنے والی کامیابی پر بہت زیادہ فخر ہے۔

          View this post on Instagram                      

A post shared by Kashif Mahmood (@kashifmahmood.

official)

کاشف محمود کی اس پوسٹ پر اُن کے فالوورز اور مداحوں نے مبارک باد دی اور ابان کی استقامت کی دعا کی۔

ایک صارف نے لکھا کہ اللہ اس حفظ قرآن کی برکت آپ کی زندگی میں بھی دے اور دونوں جہاں میں کامیاب کرے۔

اس کے علاوہ تمام ہی صارفین نے انہیں مبارک باد پیش کی اور خوشی کا اظہار کیا۔ ایک صارف نے اس خبر کو بڑا سرپرائز قرار دیتے ہوئے کاشف محمود اور ابان کاشف کیلیے نیک خواہشات کا بھی اظہار کیا۔

واضح رہے کہ کاشف محمود کافی عرصے سے ڈرامہ انڈسٹری سے دور تھے تاہم اب وہ صنم سعید اور عماد عرفانی کے ساتھ ایک پروجیکٹ پر کام کررہے ہیں جس کی زیادہ تفصیلات سامنے نہیں آسکی ہیں۔

ڈرامے کے ہدایت کار میثم نقوی جبکہ اس کو معروف ناول رائٹر عمیرہ احمد نے تحریر کیا۔ کاسٹ میں کاشف محمود، صنم سعید، عماد عرفانی اور منزہ عارف شامل ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کاشف محمود

پڑھیں:

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔

متعلقہ مضامین

  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ