ورزش اور ڈائٹنگ کے بغیر سردی میں وزن کم کرنے کا حیرت انگیز طریقہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
ورزش اور ڈائٹنگ کے بغیر سردی میں وزن کم کرنے کا حیرت انگیز طریقہ
وزن بڑھنا اور خاص طور پر پیٹ کے بڑھ جانا ایک عام مسئلہ ہے، جس کے لیے زیادہ تر لوگ سخت ڈائٹ، ورزش یا مہنگے فٹنس پروگرامز اپنانے لگتے ہیں۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک ایسا حیرت انگیز طریقہ بھی موجود ہے جو نہ ورزش کا محتاج ہے اور نہ کیلوریز گننے کی ضرورت، بس سرد موسم کا سامنا کرنا کافی ہے۔
سردی میں جسم اپنی اندرونی حرارت برقرار رکھنے کے لیے زیادہ محنت کرتا ہے، جس کے نتیجے میں کیلوریز تیزی سے جلتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کپکپی کے دوران جسمانی وزن میں کمی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
انسانی جسم میں چربی کی دو اقسام پائی جاتی ہیں: سفید چربی اور بھوری چربی۔ سفید چربی اضافی کیلوریز کے ذخیرے کے طور پر جمع ہوتی ہے اور زیادہ ہونے پر وزن بڑھنے، ذیابیطس ٹائپ 2 اور دل کی بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے۔بھوری چربی جسم کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے، حرارت پیدا کرتی ہے، توانائی فراہم کرتی ہے اور میٹابولزم کو بہتر بناتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ دبلے افراد میں بھوری چربی زیادہ ہوتی ہے اور سرد موسم اس کی سرگرمی کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ 2012 کی ایک تحقیق میں دیکھا گیا کہ سردی سے پیدا ہونے والی کپکپی کے دوران بھوری چربی زیادہ فعال ہو جاتی ہے، یعنی جلنے لگتی ہے اور جسم حرارت پیدا کرتا ہے۔
2014 کی تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ کپکپی کے دوران Irisin نامی ہارمون متحرک ہوتا ہے جو چربی گھلانے میں مدد دیتا ہے۔ ماہرین کے مطابق صرف 15 منٹ کی کپکپی جسم کے لیے ایک گھنٹے کی ورزش جتنی کیلوریز جلا سکتی ہے۔اس لیے سردیوں میں اگر کبھی ہلکی کپکپی محسوس ہو تو اسے محض تکلیف نہ سمجھیں، یہ آپ کے میٹابولزم کے تیز ہونے اور وزن میں ممکنہ کمی کی نشانی بھی ہو سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بھوری چربی کے لیے ہے اور
پڑھیں:
طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان حکام نے خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن کے دفتر پر چھاپہ مار کر تنظیم کے 6 ملازمین کو حراست میں لے لیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، کارروائی کے دوران طالبان اہلکاروں نے تنظیم کے کمپیوٹرز، دستاویزات اور دیگر دفتری سامان بھی قبضے میں لے لیا۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان: طالبان حکومت کا ایک اور متنازع فیصلہ، خواتین کو صحت کی تعلیم سے روکنے کا حکم
تاہم اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ گرفتار کیے گئے ملازمین کو کہاں منتقل کیا گیا ہے اور ان کی موجودہ حالت کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں 2 افراد تنظیم کی سربراہ زرقا یفتلی کے قریبی رشتہ دار ہیں، جو اس وقت افغانستان سے باہر مقیم ہیں۔
Sources in Kabul told Afghanistan International on Wednesday that Taliban agents raided the office of the Women and Children Legal Research Foundation (WCLRF) earlier this week and detained six staff members.https://t.co/ly2WtJb202 pic.twitter.com/fQ8qbUdHiN
— Afghanistan International English (@AFIntl_En) July 23, 2026
زرقا یفتلی خواتین کے حقوق کی معروف کارکن ہیں اور گزشتہ سال انہیں متحدہ عرب امارات کی جانب سے 2026 زاید ایوارڈ فار ہیومن فریٹرنٹی سے نوازا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق زیرِ حراست افراد کے اہلِ خانہ نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے عزیزوں کی حراست کی جگہ، قانونی حیثیت اور صحت کے بارے میں فوری طور پر آگاہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں: کرکٹ اسٹارز سے ملاقاتوں اور لباس کے معاملے پر طالبان رہنماؤں میں اختلافات بڑھ گئے
ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن تعلیم، خواتین اور بچوں کے حقوق کی وکالت، تحقیقی سرگرمیوں اور تحقیقاتی رپورٹس کی تیاری کے شعبوں میں کام کرتی رہی ہے۔
طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں سول سوسائٹی کی متعدد تنظیموں، خصوصاً خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں، پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
اس عرصے کے دوران کئی سماجی کارکنوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ متعدد تنظیمیں اپنی سرگرمیاں محدود کرنے یا مکمل طور پر بند کرنے پر مجبور ہو چکی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان سول سوسائٹی طالبان فلاحی تنظیم کابل کمپیوٹرز متحدہ عرب امارات ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن