افغان سرزمین سے تاجکستان میں چینی شہریوں پر حملہ، پاکستان کی طرف سے سخت تشویش کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
پاکستانی دفتر خارجہ نے تاجکستان میں افغانستان کی سرحد کے قریب چینی شہریوں پر ہونے والے دہشتگرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے چین اور تاجکستان کی حکومتوں اور عوام سے دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
دفترِ خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق پاکستان نے اس بزدلانہ کارروائی کو انتہائی قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہتھیاروں سے لیس ڈرون کے استعمال نے افغانستان سے جنم لینے والے خطرے کی سنجیدگی اور حملہ آوروں کی ڈھٹائی کو بے نقاب کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے افغانستان سے تاجکستان پر ڈرون حملہ اور فائرنگ، 3 چینی باشندے ہلاک
ترجمان نے کہا کہ پاکستان، جو بارہا افغان سرزمین سے ہونے والی دہشتگردی کا شکار ہوا ہے، اپنے چینی دوستوں اور تاجک شراکت داروں کے دکھ اور تکلیف کو بخوبی سمجھتا ہے اور ان کے غم میں برابر کا شریک ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان مستقل طور پر اس مؤقف پر قائم ہے کہ افغان سرزمین کو پڑوسی ممالک یا کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ دہشتگرد عناصر کی بارہا افغان سرزمین سے کارروائیاں اور افغان طالبان کی سرپرستی میں ان کی موجودگی پورے خطے اور عالمی برادری کے لیے انتہائی تشویش کا باعث ہے۔
یہ بھی پڑھیے افغان طالبان کی پشت پناہی سے ٹی ٹی پی خطے کے لیے سنگین خطرہ، اقوام متحدہ کی کمیٹی کا انتباہ
پاکستان نے زور دیا کہ افغان سرزمین سے کام کرنے والے دہشتگرد گروہوں کے سہولت کاروں، مالی معاونین اور منصوبہ سازوں کے خلاف ٹھوس اور قابلِ تصدیق کارروائی ہی اس بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کا واحد راستہ ہے۔
پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ چین، تاجکستان اور دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بھرپور تعاون جاری رکھے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغان طالبان رجیم تاجکستان چینی شہری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغان طالبان رجیم تاجکستان چینی شہری افغان سرزمین سے کے لیے
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔