WE News:
2026-07-24@05:14:24 GMT

نورمقدم کیس: جسٹس باقرنجفی کے فیصلے پر ردعمل کیوں ؟

اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT

   پچھلے دو دنوں سے سوشل میڈیا پر نورمقدم مرڈر کیس کے حوالے سے سپریم کورٹ/ وفاقی عدالت کے جج جسٹس باقرنجفی کے فیصلے پر شور مچا ہوا ہے۔ ہمارے لبرل، سیکولر، فیمنسٹ حلقے سخت ناخوش بلکہ برہم ہیں کہ جج صاحب نے اس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے لو ان ریلشن شپ (بغیر شادی کے اکھٹے رہنے )کے خلاف جملے کیوں لکھے۔ انہیں اس کا حق نہیں پہنچتا تھا۔ وہ انصاف دیتے، فیصلہ سناتے اور بس۔ وغیرہ وغیرہ۔

   یہ سب پڑھ کر خاکسار کے ذہن میں بعض سوالات پیدا ہوئے۔ ایک زمانے میں ہم نے ایل ایل بی کی ڈگری لی تھی، اگرچہ پچھلے 30 برسوں میں اس پر گرد جم چکی ہے، مگر کبھی کبھار اسے نکال کر، جھاڑ پونچھ کر، دیکھ کر خوش ہولیتے ہیں کہ قانون کی الف ب سہی، پڑھی تو ہے۔

آج کے کالم میں اس ایشو کو سمجھنے، سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں، مگر ترتیب کے ساتھ۔

 نورمقدم مرڈر کیس ہے کیا ؟

  27 سالہ مرحومہ نورمقدم ایک پڑھی لکھی، ماڈرن خاتون تھیں،ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ معزز گھرانے کی رکن۔ 20 جولائی 2021 کو نورمقدم کی لاش اسلام آباد کے ایک پوش علاقے میں واقع اپنے ایک قریبی دوست ظاہر ذاکر جعفر کے گھر سے برآمد ہوئی۔ پولیس نے مختلف شواہد، سی سی ٹی وی فوٹیج اور ڈی این اے وغیرہ سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ مقتولہ کو ظاہر جعفر نے نہایت سفاکی اور بے رحمی سے پہلے تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر قتل کر دیا۔ ملزم کو موقعہ سے ہی گرفتار کر لیا گیا تھا۔

   کیس چلا اور ایک سال بعد یعنی 2022 میں سیشن کورٹ سے  قاتل ظاہر جعفر کو سزائے موت اور 25 سال قید سنائی گئی، اس کے 2 ملازموں کو بھی معاونت پر 10، 10 سال قید سنائی گئی۔

   اپیل ہوئی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیشن کورٹ کی سزا برقرار رکھی بلکہ عمر قید کو بھی دہری سزائے  موت میں تبدیل کر دیا، یعنی ملزم کو قید میں رکھنے کے بجائے فوری  پھانسی دے دی جائے۔

  ہائیکورٹ کے فیصلے پر سپریم کورٹ میں اپیل کی گئی اور اس سال مئی میں سپریم کورٹ کے 3 ججوں کے بنچ نے جس کی سربراہ جسٹس ہاشم کاکڑ کر رہے تھے ہائیکورٹ کی سزا کو برقرار رکھا اور ملزم ظاہر جعفر کو سزائے موت دینے کا حکم صادر کیا۔ 3 رکنی بنچ میں جسٹس کاکڑ کے علاوہ جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس علی باقر نجفی شامل تھے۔

 جسٹس نجفی کا اضافی نوٹ

  سپریم کورٹ کے فیصلے پر ملزم نے نظرثانی کی اپیل دائر کر رکھی ہے۔ اسی نظرثانی کے دوران جسٹس باقر نجفی نے ملزم کے وکیل خواجہ حارث سے کہا کہ بہتر ہوتا کہ آپ میرے اضافی نوٹ کے بعد اپنے دلائل دیتے۔ وہ اضافی نوٹ مئی کے فیصلے کے  موقعہ پر دیا گیا تھا، تاہم اسے تب تک اپ لوڈ نہیں کیا گیا تھا۔

2 دن قبل جسٹس علی باقر نجفی کا اضافی نوٹ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ ہوچکا ہے۔ جسٹس نجفی کا یہ اضافی نوٹ 7 صفحات پر مشتمل ہے، 10 پیراگراف ہیں ، دسویں پیراگراف میں جسٹس صاحب نے وہ 8، 9 سطریں لکھی ہیں جس پر یہ ردعمل سامنے آیا ہے۔ ویسے مجھے یقین ہے کہ اعتراض کرنے والے نوے پچانوے فیصد افراد نے وہ فیصلہ پڑھا ہی نہیں کیونکہ وہ پڑھتے تو اندازہ ہوجاتا کہ جسٹس نجفی نے مقتولہ کے ساتھ ہرگز وکٹم بلیمنگ نہیں کی۔

                         جسٹس نجفی نے آخر ایسا کیا کہا ؟

 اس فیصلے کے آخری پیرا گراف کا ترجمہ پیش کر رہا ہوں، اسے لفظی یا پرفیکٹ ترجمے کے بجائے مفہوم ہی سمجھ لیں۔

 جسٹس صاحب لکھتے ہیں: ’ میں نے یہ بھی مشاہدہ کیا ہے کہ موجودہ مقدمہ دراصل اُس برائی (VICE)کا براہِ راست نتیجہ ہے جو بالائی طبقے (اپر کلاس )میں تیزی سے پھیل رہی ہے، جسے ہم لِو ان ریلیشن شپ (live-in relationship)کہتے ہیں۔ اس طرح کے تعلقات میں معاشرتی تقاضوں کو نظر انداز کر کے نہ صرف ریاستی قانون کو چیلنج کیا جاتا ہے بلکہ اسلامی شریعت کے پرسنل لا کی بھی خلاف ورزی کی جاتی ہے، جو کہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کے خلاف ایک کھلی بغاوت ہے۔ نئی نسل کو چاہیے کہ وہ اس طرز زندگی کے خوفناک نتائج سے سبق سیکھے، جن کی ایک نمایاں مثال یہی مقدمہ ہے۔ یہ ایسا موضوع ہے جسے سماجی اصلاح کاروں (سوشل ریفارمرز)کو اپنے سرکلز میں زیربحث لانا چاہیے ۔‘

 جسٹس نجفی کے اضافی نوٹ پر اعتراض کیا ہے؟

  ناقدین کا کہنا ہے کہ جج کا کام فیصلہ سنانا ہے، اپنی طرف سے بھاشن دینا یا نصیحت کرنا نہیں۔ ڈان اخبار نے ایک سٹوری اس سرخی کےتحت لگائی، ویمن نیڈز جسٹس ناٹ ججمنٹ (عورت انصاف کی مستحق ہے، فیصلہ سنائے جانے کی نہیں۔) خواتین صحافیوں ماریانہ بابر، بے نظیر شاہ وغیرہ نے بھی اس فیصلے پر سخت تنقید کی۔ بعض خواتین نے یہ بھی کہا کہ خواتین اپنے خاوندوں کے ہاتھوں بھی قتل ہوجاتی ہیں تب؟

  کیا جسٹس باقر نجفی کے نوٹ میں وکٹم بلیمنگ ہوئی؟

   آگے بڑھنے سے پہلے اس نکتہ سے نمٹ لینا بڑا ضروری ہے۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا، 7 صفحات کا فیصلہ ہے۔ جسٹس علی باقر نجفی نے اپنے  اضافی نوٹ میں بڑی مہارت کے ساتھ ملزم / قاتل کے بچ نکلنے کے تمام راستے بند کر دئیے۔

   ملزم کے وکیل نے دو تین نکات کا سہارا لیا۔ ایک تو یہ کہا گیا کہ نورجعفر کے کہنے پر گھر میں ایک ڈرگ پارٹی  منعقد کی گئی تھی، جس میں نور مقدم کے کہنے پر ملزم نے اتنا نشہ استعمال کر لیا کہ اسے ہوش ہی نہیں رہا، جب ہوش آیا تو وہ بندھا ہوا پولیس کی تحویل میں تھا۔ یعنی جو کچھ بھی ہوا وہ ڈرگ کے زیراثر ہوا اور یہ بھی مقتولہ کے زور دینے پر ہوا۔ اسی طرح ایک نکتہ یہ بھی اٹھایا گیا کہ ملزم ظاہر جعفر ذہنی مریض ہے،اس پر پاگل پن کے دورے پڑتے ہیں وغیرہ وغیرہ یعنی اسے نفسیاتی، ذہنی مریض سمجھ کر چھوڑ دیا جائے۔ ایک اعتراض یہ بھی اٹھایا گیا کہ ایف آئی آر کچھ تاخیر سے درج ہوئی، پوسٹ مارٹم رپورٹ آٹھ دس گھنٹوں بعد کی ہے، وغیرہ وغیرہ۔

   جسٹس علی باقر نجفی نے یہ تمام نکات دلائل کے ساتھ رد کر دئیے۔ انہوں نے نوٹ میں لکھا کہ مقتولہ پر نشہ کرنے کا الزام غلط ہے، کیونکہ پوسٹ مارٹم میں ان کے معدے میں کسی قسم کے نشے کے اثار نہیں ملے۔ اسی طرح گھر میں ڈرگ پارٹی کا دعویٰ بھی غلط ہے کیونکہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایسی کوئی پارٹی یا شرکا نظر نہیں آئے۔ یہ بھی غلط ہے کہ ملزم نے مقتولہ کے کہنے پر نشہ کیا تھا، کیونکہ ملزم کے میڈیکل معائنہ سے بھی نشہ ثابت نہیں ہوا۔ پاگل پن کا دعویٰ بھی غلط ہے کیونکہ ملزم یہ ثابت نہیں کر سکتا کہ اس نے کسی سائیکاٹرسٹ سے علاج کرایا، وہ کوئی باقاعدہ تھراپی لے رہا تھا یا ایسی ادویات گھر میں پائی گئیں جن کے استعمال یا عدم استعمال سے وہ مشتعل ہو کر یہ کام کر بیٹھا۔ ایسا کچھ بھی نہیں ملا، اس لیے یہ دفاع کمزور اور ناقابل قبول ہے۔

    جسٹس نجفی نے یہ بھی لکھا،’ جو چھوٹی موٹی تاخیر ہوئی، وہ قابل فہم ہے۔ ایسے ہولناک واقعے کے بعد مقتولہ کے ورثا پہلے شاک سے سنبھلیں گے، پھر ایف آئی آر درج کرائیں گے، اس لیے تین چار  گھنٹوں کی تاخیر نارمل ہے۔ اسی طرح پوسٹ مارٹم اگر اگلی صبح ہوا تو اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑا ۔‘

  کہنے کا مقصد یہ ہے کہ فیصلے میں کہیں بھی وکٹم بلیمنگ نہیں کی گئی بلکہ ملزم کے مقتولہ پر لگائے گئے الزامات کا رد کیا گیا۔ مقتولہ پر نشہ استعمال کرنے یا ڈرگ پارٹی کے انعقاد میں انوالمنٹ جیسے الزامات کو رد کیا گیا۔ یہ بھی لکھا گیا کہ ملزمہ نے پہلی منزل سے نیچے کود کر گھر سے بھاگ نکلنے کی کوشش کی جو چوکیدار کے دروازے پر تالہ لگا دینے سے ممکن نہ ہوپائی۔ یہ ذکر ہمدردانہ انداز میں کیا گیا۔ یہ تمام باتیں مقتولہ کےدفاع میں لکھی گئیں۔

    یہ نہیں لکھا گیا کہ لو ان ریلیشن شپ ہی اس قتل کا باعث بنا۔ ایسا نہیں کیا گیا بلکہ پورا فیصلہ لکھ دیا گیا۔ قاتل کی سخت ترین سزا برقرار رکھی گئی۔ اس کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی گئی، اس کے تمام دلائل کا مدلل رد کیا گیا۔ پورا فیصلہ لکھ دینے کے بعد آخر میں صرف ایک پیرا گراف اصلاحی انداز میں لکھا گیا۔ قانونی اصطلاح میں یہ (Observational Comment)تھا۔ اگر جج سزا دیتے ہوئے لِو ان کو وجہ بنا دیتے تو اعتراض درست تھامگر جب سزا مکمل دی گئی، رعایت نہیں دی گئی اور صرف معاشرے کو خبردار کیا گیا ، تو یہ وکٹم بلیمنگ نہیں۔

  ہماری ناچیز رائے میں عدالت اگر فیصلے میں انصاف کے تمام تقاضے پورے کر دے، سزا میں کسی قسم کی رعایت نہ دے اور وکٹم بلیمنگ سے مکمل اجتناب کرے، اور اگر کہیں کوئی جج معاشرتی بگاڑ پر اصلاحی نوٹ لکھے تو یہ مداخلت نہیں بلکہ ایک قسم کا جوڈیشل کانشس ہے، عدالتی ذمہ داری کا بیدار ہونا۔ ایسے نوٹ معاشرے کی رہنمائی بن سکتے ہیں۔

  ویسے بھی عدالت نے نہیں کہا کہ لِو ان ریلیشن قتل کا باعث بنتے ہیں، بلکہ کہا کہ یہ غیر محفوظ، قانون سے باہر، اور ایسے تعلق ہیں جو مشکلات اور تنازعات کو بڑھاتے ہیں۔ اگر عدالت نے مقتولہ کو قصوروار ٹھہرانا ہوتا تو کہا جاتا:’کیونکہ وہ ایسے رشتے میں تھی، اس لیے…‘ ایسا نہیں ہوا۔ عدالت نے کہا سزا برقرار ہے، کوئی کمی نہیں۔ مگر اس طرح کے تعلقات معاشرتی بگاڑ کی علامت ہیں۔ یہ فرق بہت اہم ہے۔

’کیا نکاح والی خواتین نہیں مرتیں؟‘

  یہ بات بھی بہت سی سوشل میڈیا پوسٹوں میں فیمنسٹ خواتین کی جانب سے کہی جا رہی ہے کہ نکاح کے بعد بھی تو متعدد خواتین اپنے خاوندوں کے ہاتھوں قتل ہوجاتی ہیں۔ قتل تو قتل ہے، اس فیصلے میں پھر لو ان ریلیشن پر زور کیوں دیا گیا، وغیرہ وغیرہ۔

  دراصل یہ غلط موازنہ ہے۔ نکاح قانونی و سماجی طور پر تسلیم شدہ ہے جبکہ لِو ان ریلیشن قانونی و شرعی طور پر غیر محفوظ۔ قانون نکاح یافتہ عورت کو تحفظ دیتا ہے (خلع، طلاق، ڈومیسٹک وائلنس لا ) ۔ جبکہ لِو ان عورت کو کوئی قانونی اور سماجی تحفظ نہیں ملتا ۔ رشتہ نہیں، فرد قاتل بنتا ہے، مگر غیرقانونی رشتہ خطرات کو بڑھا دیتا ہے۔ یہ وہ نکتہ ہے جو اس نوٹ کی آخری چند سطروں میں سمجھانے کی کوشش کی گئی ۔

   ہم سب جانتے ہیں کہ ہیلمٹ پہننے کے باوجود بھی موٹر سائیکل سوار حادثے کا شکار ہو سکتا ہے، جان بھی جا سکتی ہے۔ اس کے باوجود ہم سب اپنے بچوں کو ہیلمٹ پہننے کی تلقین کرتے ہیں کیونکہ اس سے خطرات کچھ کم ہوجاتے ہیں۔ خطرہ صفر تو کہیں پر بھی نہیں ہوسکتا، اس میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ نکاح کی صورت میں بھی خطرہ صفر نہیں ہوتا، مگر بہرحال عورت کے لیے نسبتاً زیادہ تحفظ، قانونی بنیاد، سماجی پروٹیکشن وغیرہ ہے، لِو ان ریلیشن تو ایسے ہے کہ شدید چلچلاتی دھوپ میں بغیر چھتری کے میلوں پیدل سفر پر نکل پڑیں۔

 جج فیصلے میں اصلاح کا مشورہ کیوں دے؟

     اس حوالے سے مختلف آرا اور دلائل ہوسکتے ہیں۔ ہمارے نزدیک اس میں کوئی حرج نہیں ۔ اعلیٰ عدالتیں بہت سے کیسز میں فیصلہ سنانے کے بعد فیصلے کے تناظر کی وضاحت میں ایسے کسی سماجی بگاڑ کی نشاندہی کر دیتی ہیں۔ عدالتی اصطلاح میں فیصلے سے ہٹ کر دئیے گئے تبصرے(Obiter Dicta) جائز ہیں، اگر اس سے فیصلہ متاثر نہ ہو۔ خاص طور پر جب وہ معاشرتی امن یا اخلاقی انحطاط کے خلاف انتباہ ہو۔

  ایسی کئی مثالیں موجود ہیں۔ موب لنچنگ کیس میں عدالت نے مذہبی جذبات کو قانون سے بالاتر کرنے پر سخت تبصرہ کیا، مذہبی علماء اور سماجی قیادت کو ذمہ داری یاد دلائی۔ سوشل میڈیا پر فتوے بازی سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کے  مقدمہ میں عدالت نے حکم دیا کہ مذہبی اتھارٹی کو احترام ملے، اور کہا کہ ’آن لائن مذہبی تشدد سماجی انتشار کا باعث ہے‘ سپریم کورٹ سے بچوں کے ساتھ زیادتی کیس میں عدالت نے سزا کے ساتھ سماج اور والدین کو بیدار ہونے کا پیغام دیا۔

  اسی تناظر میں اگر نورمقدم کیس میں لِو ان ریلیشن شپ (شادی کے بغیر اکھٹا رہنے )پر تنقید کی گئی، نوجوان نسل کو اس سے خبردار کیا گیا اور سوشل ریفارمرز کو اس پر بحث مباحثہ کرنے کا مشورہ دیا گیا تو کیا غلط کیا گیا؟ کیا لِو ان ریلیشن شپ غلط نہیں؟ کیا پاکستانی قانون کے مطابق یہ جرم نہیں؟ کیا اسلامی شریعت کے مطابق یہ گناہ اور خداکے احکامات کے خلاف کھلی جنگ نہیں؟ کیا اس کیس میں یہ محض الزام کے بجائے ایک امر واقعہ نہیں؟

    اگر یہ سب کچھ ہے تو پھر اس اخلاقی (اور قانونی )برائی کا چند سطروں میں ذکر کرنے پر ایسی ناخوشی، برہمی کاہے کی؟ کیا اس لیے کہ اس سے لبرل ویلیوز متاثر ہوتی ہیں؟ کیا اس لیے کہ اس سے فیمنسٹوں کی عظیم الشان انا پر ہلکی سی ٹھیس پڑی؟ کیا اس لیے کہ جج صاحب نے اسلامی اخلاقیات کا ذکر کیا؟

  آخری نتیجہ

   ہمارے نزدیک جسٹس باقر نجفی نے قاتل پر رحم نہیں کیا، مقتولہ پر الزام نہیں رکھا۔ فیصلہ قانون کے مطابق دیا اور نوٹ کا آخری پیراگراف پاکستانی سماج کے لیے تحریر کیا۔ جرم پر قانون کی گرفت اور اسی جرم کے پسِ منظر پر سماج کے لیے تنبیہ۔ یہی عدالتی بصیرت ہے، یہی درست اعتدال ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عامر خاکوانی

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل