بنیادی حقوق کا تحفظ ترجیح، آئین کی تشریح شفافیت، آزادی، دیانت سے کی جائے گی: چیف جسٹس امین الدین
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
اسلام آباد(آئی این پی )وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان نے کہا ہے کہ بنیادی حقوق کا تحفظ آئینی عدالت کی ترجیح ہے، آئین کی تشریح شفافیت، آزادی اور دیانت سے کی جائے گی۔ چیف جسٹس امین الدین خان نے آئینی عدالت کے قیام کے بعد اپنے پہلے پیغام میں کہا ہے کہ آئینی عدالت کا قیام شفافیت اور عوامی رسائی میں اہم سنگِ میل ہے، اس عدالت کا قیام ہماری قومی آئینی جدوجہد میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس نے کہا کہ اس عدالت کو ایک نہایت اہم اور نازک فریضہ سونپا گیا ہے، یہ ریاستِ پاکستان کے قانون کی حکمرانی اور آئینِ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دیرپا وعدے سے ہماری اجتماعی وابستگی کی تجدید کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس عدالت کا کردار صرف قضائی نہیں بلکہ ایک مقدس امانت ہے جو قوم کے شہریوں کی زندگیوں، آزادیوں اور امنگوں پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے، اپنے ادارہ جاتی سفر کے آغاز پر ہمارا عزم ہے کہ ایک ایسا عدالتی فورم قائم کیا جائے جو دیانت، غیر جانب داری اور علمی بصیرت کی اعلی مثال ہو۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارے سامنے آنے والا ہر معاملہ آئین کی بالادستی، انصاف کے اصولوں اور عدالتی وقار کے ساتھ غیر معمولی احتیاط اور منصفانہ انداز میں نمٹایا جائے گا، ہم ایسی عدالتی روایت تشکیل دینے کی خواہش رکھتے ہیں جو مدلل فیصلوں، ادارہ جاتی وقار اور عوامی اعتماد پر مبنی ہو، یہی خصوصیات کسی بھی آئینی عدالت کی بنیاد ہوتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس کی حیثیت سے میں اسے اپنے لئے اعزاز سمجھتا ہوں کہ مجھے اس ادارے کی بنیادوں کی تشکیل میں حصہ ڈالنے کا موقع ملا، میری دلی خواہش ہے کہ وفاقی آئینی عدالت پاکستان میں آئینی بالادستی کی محافظ اور آنے والی نسلوں کے لیے عدل و انصاف کی ایک مضبوط علامت بن کر قائم رہے۔چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت امین الدین نے کہا کہ اللہ تعالی ہمیں دانش، انکسار اور آئین سے غیر متزلزل وابستگی کے ساتھ اپنے فرائض ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ئینی عدالت کے ا ئینی عدالت امین الدین نے کہا کہ چیف جسٹس
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔