بھارت میں 36 سال بعد حیران کن گرفتاری: بھائی کے قاتل نے پولیس سے بچنے کے لیے مذہب، شناخت اور زندگی بدل لی
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
بھارت کی ریاست اتر پردیش میں ایک ایسا سنسنی خیز واقعہ سامنے آیا ہے جو کسی فلمی اسکرپٹ سے کم نہیں۔ 36 سال قبل اپنے ہی بھائی کا قتل کرنے والا پردیپ سکسینہ پولیس کی نظروں سے اس طرح اوجھل ہوا کہ تین دہائیاں گزر گئیں، مگر انصاف کا شکنجہ آخرکار اس تک پہنچ ہی گیا۔
یہ کہانی 1987 میں شروع ہوتی ہے جب پردیپ سکسینہ اپنے بھائی کو قتل کرتا ہے۔ پولیس اسے گرفتار کرتی ہے اور 1989 میں اسے عمر قید کی سزا سنا دی جاتی ہے۔ پردیپ سزا بھگتنے جیل پہنچتا ہے، مگر پیرول پر رہائی ملتے ہی اچانک وہ غائب ہوجاتا ہے۔ پولیس اسے ڈھونڈتی رہتی ہے اور وہ ہر بار ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔
پردیپ نے گرفتاری سے بچنے کے لیے نہ صرف اپنا حلیہ بدلا بلکہ پوری زندگی بدل ڈالی۔ مراد آباد پہنچ کر اس نے داڑھی رکھی، اپنا نام بدل کر “عبدالرحیم” رکھ لیا اور ٹیکسی چلانا شروع کر دی۔ وہ اتنا آگے بڑھ گیا کہ 2002 میں ایک مسلمان خاتون سے شادی کی اور مکمل طور پر نئی شناخت کے ساتھ زندگی بسر کرنے لگا۔
لیکن کہا جاتا ہے کہ قتل کا داغ کبھی نہیں چھپتا۔ 36 سال بعد الہٰ آباد ہائی کورٹ نے پرانے مقدمات کی دوبارہ جانچ کا حکم دیا، اور پولیس نے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دے کر پردیپ کا سراغ لگانا شروع کیا۔ کئی ماہ کی خاموش تفتیش، خفیہ معلومات اور مسلسل تعاقب کے بعد آخرکار مخبروں نے اشارہ دیا—اور پولیس نے عبدالرحیم کے نام سے رہنے والے پردیپ سکسینہ کو گرفتار کر لیا۔
پیشی کے دوران پردیپ نے اعتراف کیا کہ وہ تین دہائیوں سے پولیس کو دھوکا دینے کے لیے ایک مسلمان کے روپ میں زندگی گزار رہا تھا۔
اس گرفتاری نے پورے علاقے میں حیرت کی لہر دوڑا دی اور ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ انصاف کی ڈور چاہے دیر سے حرکت میں آئے مگر اس کا راستہ قاتل تک پہنچ ہی جاتا ہے۔
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
شیخ حسینہ واجد کی حوالگی، بھارت نے بنگلہ دیش کی درخواست پر غور شروع کردیا
بھارت نے کہا ہے کہ اسے بنگلہ دیش کی طرف سے سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ کی حوالگی کی درخواست موصول ہوگئی ہے، اور اب عدالتی اور اندرونی قانونی عمل کے تحت اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے بتایا کہ بھارت بنگلہ دیش کے عوام کے بہترین مفاد، بالخصوص امن، جمہوریت، استحکام اور شمولیت، کے لیے پرعزم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد بھارت فرار ہونے پر کیوں مجبور ہوئیں؟
ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں رندھیر جیسوال نے درخواست موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس کا جائزہ جاری عدالتی اور داخلی قانونی عمل کے مطابق لیا جا رہا ہے۔
https://Twitter.com/TheTikaKar/status/1993711455557095808
’ہم بنگلہ دیش کے عوام کے بہترین مفادات کے لیے پرعزم ہیں اور تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ تعمیری انداز میں مصروفِ عمل رہیں گے۔‘
بنگلہ دیش نے پہلی بار گزشتہ برس دسمبر میں اور پھر حال ہی میں شیخ حسینہ کو بین الاقوامی کرائم ٹربیونل نے جولائی 2024 کے مظاہروں سے متعلق انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات میں سزائے موت سنائے جانے کے فیصلے کے بعد یہ درخواست بھیجی ہے۔
مزید پڑھیں: شیخ حسینہ کے اقتدار کا خاتمہ بھارت کے لیے باعث پریشانی کیوں؟
آئی سی ٹی نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے 2 قریبی ساتھیوں کو بھی سزا سنائی ہے، سابق وزیرِداخلہ اسد الزمان خان کمال کو سزائے موت اور وعدہ معاف گواہ بن جانیوالے سابق آئی جی پی چوہدری عبداللہ المامون کو 5 سال قید کی سزا دی گئی ہے۔
عدالتی فیصلے کے بعد شیخ حسینہ نے ٹربیونل کو ’مسلّمہ طور پر متعصب‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک غیر منتخب عبوری حکومت کی زیرِ نگرانی چل رہا ہے جس کا کوئی جمہوری جواز نہیں۔
مزید پڑھیں:
اپنے بیان میں شیخ حسینہ نے کہا کہ سزائے موت کے اس مکروہ مطالبے میں عبوری حکومت کے انتہاپسند عناصر کی کھلی قاتلانہ نیت ظاہر ہوتی ہے، جو بنگلہ دیش کی آخری منتخب وزیرِاعظم کو راستے سے ہٹانا اور عوامی لیگ کو ایک سیاسی قوت کے طور پر مٹانا چاہتے ہیں۔
’ڈاکٹر محمد یونس کی افراتفری، تشدد اور سماجی پسماندگی کی شکار حکومت کے تحت پسنے والے لاکھوں بنگلہ دیشی اپنے جمہوری حقوق چھیننے کی اس کوشش میں دھوکا نہیں کھائیں گے۔‘
مزید پڑھیں:
بدھ کو بنگلہ دیش کا کہنا تھا کہ بھارت نے اس سے قبل بھیجی گئی حوالگی کی درخواست کا ’کوئی جواب‘ نہیں دیا تھا، تاہم اب انہیں توقع ہے کہ حالات بدلنے کے باعث بھارت جواب دے گا۔
امورِ خارجہ کے مشیر ایم توحید حسین نے کہا کہ انہیں توقع نہیں کہ نئی دہلی ڈھاکا کی درخواست کے ایک ہفتے کے اندر جواب دیدے گی، لیکن امید ہے کہ جواب ضرور ملے گا۔
قانونی مشیر آصف نذرول نے بھی کہا کہ عبوری حکومت ’مفرور مجرموں‘ کی واپسی کے لیے ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت سے رجوع کرنے پر بھی غور کر رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انسانیت بنگلہ دیش بھارت ڈاکٹر محمد یونس شیخ حسینہ عبوری حکومت عوامی لیگ فوجداری عدالت کرائم ٹربیونل