امریکا میں ایک اور افغان نژاد شخص گرفتار، سوشل میڈیا پر بم بنانے کی دھمکی دینے کا الزام
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
امریکی ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق تفتیش کاروں نے ایک افغان نژاد شخص کو گرفتار کر لیا ہے جس نے سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر بم بنانے اور ٹیکساس کے شہر فورٹ ورتھ میں ایک عمارت کو دھماکے سے اڑانے کی دھمکی دی تھی۔
ڈی ایچ ایس کی اسسٹنٹ سیکریٹری ٹریشا میک لافلن کے مطابق، محمد داؤد الوکزئی کو منگل کے روز گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے ہفتے کو اپنے سوشل میڈیا بیان میں اس گرفتاری کی تصدیق کی۔
یہ بھی پڑھیے: وائٹ ہاؤس کے نزدیک فائرنگ، نیشنل گارڈ کے 2 اہلکار شدید زخمی، مشتبہ افغان حملہ آور گرفتار
عدالتی ریکارڈ کے مطابق الوکزئی کو ریاستی سطح پر دہشت گردی کی دھمکیوں کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے اور وہ ٹیرنٹ کاؤنٹی کی جیل میں بند ہیں۔
الوکزئی کی گرفتاری ایک ایسے وقت میں ہوئی جب ایک روز بعد واشنگٹن ڈی سی میں ایک اور افغان نژاد شخص رحمن اللّٰہ لکنوال نے مبینہ طور پر دو نیشنل گارڈ اہلکاروں پر فائرنگ کی۔
حملے میں زخمی ہونے والی یو ایس آرمی اسپیشلسٹ سارہ بیک اسٹروم بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسیں۔ رحمن اللّٰہ پر اب فرسٹ ڈگری مرڈر کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
ٹریشا میک لافلن نے ایکس پر دعویٰ کیا کہ الوکزئی نے ٹک ٹاک پر ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں وہ بم تیار کرنے کا دعویٰ کرتا نظر آتا ہے اور اس کا ممکنہ ہدف فورٹ ورتھ کا علاقہ تھا۔
یہ بھی پڑھیے: افغان شہری کی فائرنگ سے زخمی خاتون نیشنل گارڈ ہلاک، غیرقانونی تارکین وطن امریکا کیلیے خطرہ بنتے جارہے ہیں، ٹرمپ
محمد الوکزئی کی گرفتاری کی بکنگ فوٹو 25 نومبر 2025 کی ہے، جو ٹیرنٹ کاؤنٹی کوریکشن سینٹر نے جاری کی۔ الوکزئی کے وکیل سے متعلق معلومات فی الحال دستیاب نہیں ہو سکیں۔
ڈی ایچ ایس عہدیدار کے مطابق امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) نے الوکزئی کے لیے ایک امیگریشن ریٹینر بھی جاری کر دیا ہے، جس کے تحت آئندہ اسے وفاقی حراست میں لیے جانے کا امکان ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغان امریکا گرفتاری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغان امریکا گرفتاری کے مطابق
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔