تاجکستان اور امریکا میں ہونے والے دہشتگرد حملوں نے افغانستان کے بارے میں دنیا کی تشویش میں خاطرخواہ اِضافہ کر دیا ہے اور اب عالمی اور علاقائی طاقتوں کے نزدیک افغانستان ایک بڑھتی ہوئی سیکیورٹی تشویش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے اپنی قرارداد 2593 میں واضح طور پر طالبان حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی بھی بین الاقوامی دہشتگرد تنظیم کے لیے پناہ گاہ نہ بننے دیں۔ بین الاقوامی انسدادِ دہشتگردی ادارے بھی اس بات پر متفق ہیں کہ افغانستان میں مختلف عسکریت پسند گروہوں کی موجودگی اور ان کی سرحد پار سرگرمیوں کی صلاحیت خطے اور دنیا دونوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاک افغان سرحد کی بندش سے افغانستان کو کتنا تجارتی نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے؟

بعض رپورٹس کے مطابق شام سے جنگجوؤں کے افغانستان منتقل ہونے اور وہاں سے نئے علاقائی خطرات پیدا ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ اسی پس منظر میں عالمی برادری طالبان سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ شدت پسند گروہوں کے کیمپ ختم کریں، فنڈنگ روکیں اور بیرونِ ملک کارروائیوں کے سہولت کاروں کا خاتمہ کریں۔

علاقائی طاقتیں

 خصوصاً پاکستان، چین، روس اور ایران، اس سلسلے میں سب سے زیادہ پریشان دکھائی دیتی ہیں۔ ان ممالک نے حال ہی میں مشترکہ طور پر اس امر پر زور دیا ہے کہ افغانستان کو دہشتگردی کے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال نہیں ہونے دیا جا سکتا۔ ان کے مطابق ای ٹی آئی ایم، بی ایل اے، داعش، ٹی ٹی پی  اور دیگر دہشتگرد گروہ نہ صرف افغانستان میں موجود ہیں بلکہ خطے کی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ بھی بنتے ہیں۔

ان ممالک کا مشترکہ مطالبہ ہے کہ طالبان حکومت دہشتگرد گروہوں کے خلاف موثر، ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات کرے، ان کے کیمپ بند کرے، مالی معاونت روکے، اسلحے کی ترسیل ختم کرے اور سرحد پار حملوں کی روک تھام کو یقینی بنائے۔

مغربی طاقتیں

 خصوصاً امریکا اور یورپی یونین اس سلسلے میں ایک محتاط اور دو بدو پالیسی اپنائے ہوئے ہیں۔ اگرچہ طالبان انسانی حقوق، خواتین کی آزادی اور سیاسی شمولیت پر مغربی معیارات سے مطابقت نہیں رکھتے، لیکن سیکیورٹی خطرات کے باعث مغربی ممالک طالبان کے ساتھ محدود رابطہ برقرار رکھنے پر مجبور ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پاک افغان تناؤ، جے شنکر کے بیان سے امید باندھیں؟

بعض یورپی ریاستوں نے عملی ضرورت کے تحت طالبان کے ساتھ تکنیکی سطح پر تعلقات قائم کیے ہیں تاکہ مہاجرین، انسدادِ دہشتگردی اور باہمی سیکیورٹی امور پر گفتگو جاری رہ سکے، مگر باضابطہ تسلیم کرنے یا مکمل سفارتی تعلقات قائم کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے۔

اگر ہم بھارت کو سبق سکھا سکتے ہیں تو یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا، اسحاق ڈار

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ہم نے 19 اپریل کو افغانستان کے ساتھ کئے گئے تمام وعدے پورے کئے ہیں لیکن ایسا نہیں ہو سکتا کہ افغانستان کی جانب سے پاکستان میں دہشتگردی کا معاملہ چلتا رہے۔

اُنہوں نے کہا کہ ہمارا افغانستان سے صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ افغان سرزمین پاکستان میں دہشتگردی کے لئے استعمال نہیں ہونی چاہیئے۔ اسحاق ڈار نے سوال اُٹھایا کہ ہر قسم کے دہشتگرد گروہ افغانستان میں ہی کیوں ہیں اور افغان ان گروہوں کو نکال باہر کریں۔

اُنہوں نے کہا کہ گذشتہ روز اقوام متحدہ کی جانب سے درخواست آئی ہے کہ افغانستان کے لیے انسانی امداد و خوراک کو بحال کریں، میں نے مسلح افواج کے سربراہ سے بات کی ہےجلد وزیراعظم سے بھی بات کروں گا، جلد ہم عام افغان عوام کی تکالیف کو دیکھتے ہوہے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد و خوراک کے جانے کی اجازت دیں گے۔

پاک افغان ناکام مذاکرات پر افغان ہرزہ سرائی کے بعد اچانک افغان حکومت کے روّیے میں تبدیلی

اکتوبر کے اواخر اور نومبر کے شروع میں پاک افغان مذاکرات ناکام ہوئے تو افغانستان کے قائم مقام وزیرِ خارجہ امیرخان متقی نے کہا کہ دہشتگردی پاکستان کا داخلی مسئلہ ہے اور پاکستان اِس کی ذمے داری افغانستان پر ڈالنا چاہتا ہے، یہ بات اُنہوں نے بھارت میں بھی کہی جس کو بھارت میں بہت پذیرائی حاصل ہوئی۔ لیکن پاکستان 4 سال قبل افغان طالبان رجیم کے وجود میں آنے سے لے کر اب تک سرحد پار دہشتگردی کا شکار ہے جس کو بعض ممالک کی جانب سے زیادہ سنجیدہ نہیں لیا گیا۔

گزشتہ 3 دن کے واقعات جس میں افغان سرزمین سے تاجکستان پر حملہ اور 3 چینی شہریوں کی ہلاکت، اِسی طرح سے افغان شہری کی فائرنگ سے واشنگٹن ڈی سی میں 2 امریکی فوجیوں کے قتل کے بعد سے عالمی سطح پر افغانستان کو دہشتگردی کے مرکز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:افغانستان سے تاجکستان پر ڈرون حملہ اور فائرنگ، 3 چینی باشندے ہلاک

جہاں ایک طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان سے انخلا کے وقت امریکی طیاروں میں ہزاروں افغانوں کی امریکا آمد کے عمل کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے وہیں امریکی ویزا ڈیپارٹمنٹ نے افغان پاسپورٹس پر تمام مسافروں کی آمد پر پابندی لگانے کے ساتھ ساتھ امریکہ میں موجود تمام افغان باشندوں کے گرین گارڈ اور سیاسی پناہ کے عمل کو روک دیا ہے۔

بی بی سی کی خبر کے مطابق امریکا میں موجود افغان باشندوں نے افغان شہری رحمان اللہ لکنوال کے حملے اور دہشتگردی کی شدید مذمت کرتے ہوئے امریکی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ اُن کے خلاف ایکشن نہ لیا جائے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ مغربی ممالک میں مقیم اکثر افغانی پاکستان میں ہونے والے دہشتگرد حملوں کی کبھی مذمت نہیں کرتے بلکہ اُس پر سوشل میڈیا پر فخریہ انداز میں باتیں کرتے ہیں۔

دوسری طرف تاجکستان حکومت افغانستان کو دہشتگردی اور عدم استحکام کا ممکنہ مرکز سمجھتی ہے، اور اس خوف کی بنیاد صرف ماضی کے واقعات نہیں بلکہ مستقبل کی پیش گوئی پر بھی ہے۔ تاجکستان کی تشویش کی وجوہات، سرحدی قربت، دہشتگرد نیٹ ورکس، مہاجرین/پناہ گزین دباؤ، اور علاقائی سیکیورٹی، سب مل کر یہ مؤقف مضبوط کرتی ہیں کہ افغانستان کی حالت براہِ راست تاجکستان کے مفادات اور سلامتی کے لیے خطرہ ہے

افغان شہریوں کی بیدخلی پاکستان پر تنقید کرنے والے ممالک بھی افغان شہریوں کو ڈی پورٹ کر رہے ہیں

2023 میں جب پاکستان نے افغان شہریوں کی بیدخلی کے عمل کو شروع کیا تو اُس پر عالمی اداروں جیسا کہ یو این ایچ سی آر اور مغربی ممالک کی جانب سے کڑی تنقید کی گئی لیکن اب امریکہ بھی افغان شہریوں کی بیدخلی کی بات کر رہا ہے اور اِس سے قبل اگر دیکھا جائے تو یورپ میں جرمنی نے 2021 کے بعد دوبارہ منظم ڈی پورٹیشن شروع کی اور 2025 میں درجنوں افغان مردوں کو واپس بھیجا، جبکہ سویڈن، نیدرلینڈز، آسٹریا، بیلجیم، فرانس، ڈنمارک، ناروے، سپین، اٹلی اور سویٹزرلینڈ نے بھی مسترد شدہ پناہ کی درخواستوں یا مجرمانہ ریکارڈ کی بنیاد پر افغان باشندوں کو ڈی پورٹ کیا۔ جبکہ آسٹریلیا اور کینیڈا سے بھی افغان باشندوں کی واپسی کی مثالیں ملیں۔ خلیجی ریاستوں میں یہ زیادہ تر غیرقانونی رہائش یا سکیورٹی بنیادوں سے منسلک تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسحاق ڈار امریکا پاک افغان تاجکستان دہشتگردی طالبان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسحاق ڈار امریکا پاک افغان تاجکستان دہشتگردی طالبان افغان باشندوں کہ افغانستان افغانستان کے افغان شہریوں افغانستان کو کی جانب سے اسحاق ڈار پاک افغان شہریوں کی نے افغان کہ افغان کے ساتھ ہے کہ ا رہا ہے کے لیے نے کہا

پڑھیں:

شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے ایک بار پھر فاضل چینی کی فوری برآمد کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ اضافی چینی بیرون ملک فروخت کرنے سے ملک کو قریباً 50 کروڑ ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔

ماہرین اور صارفین کے حلقوں میں اس مطالبے پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ برس بھی چینی کی برآمد کی اجازت کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں 50 سے 60 روپے فی کلو کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔

مزید پڑھیں: فاضل چینی برآمد کرنے کی اجازت دی جائے، ملک کو 50 کروڑ ڈالر زرمبادلہ مل سکتا ہے: شوگر ملز ایسوسی ایشن

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری ذکا اشرف نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ارسال کیے گئے خط میں کہا ہے کہ 26-2025 کے کرشنگ سیزن کے اختتام پر ملک میں چینی کے مجموعی ذخائر 79 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ ملک کی سالانہ ضرورت قریباً 66 لاکھ میٹرک ٹن ہے، اس طرح ملک میں 13 لاکھ میٹرک ٹن چینی سرپلس موجود ہے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق ایک ماہ کا تزویراتی ذخیرہ محفوظ رکھنے کے باوجود قریباً 7 لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن چینی اضافی رہے گی، جسے برآمد کرکے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ فروخت نہ ہونے والے ذخائر کی وجہ سے شوگر ملوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے جبکہ گنے کے کاشتکاروں کی ادائیگیوں اور بینک قرضوں کی واپسی میں بھی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔

پی ایس ایم اے کا کہنا ہے کہ گزشتہ 2 برسوں کے دوران گنے کے کاشتکاروں کو بہتر نرخوں پر ادائیگی کی گئی جس کے باعث گنے کی کاشت اور فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔

ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ سیزن میں مزید ریکارڈ گنے کی فصل پیدا ہونے کا امکان ہے جس کے نتیجے میں قریباً 20 لاکھ میٹرک ٹن اضافی چینی مارکیٹ میں آ سکتی ہے۔

دوسری جانب صارفین اور معاشی ماہرین شوگر ملز کے اس مؤقف کو تنقیدی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران بھی حکومت نے چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی اور اس وقت حکومتی اور صنعتی حلقوں کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ برآمدات سے مقامی مارکیٹ میں قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور چینی کی دستیابی برقرار رہے گی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 25-2024 کے دوران 67 شوگر ملوں نے مجموعی طور پر 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد کی جس سے قریباً 40 کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا۔ تاہم برآمدات کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

مارکیٹ ذرائع کے مطابق 2 ماہ قبل پرچون سطح پر چینی کی قیمت قریباً 140 روپے فی کلو تھی جبکہ تھوک مارکیٹ میں 50 کلوگرام کا تھیلا قریباً 6 ہزار 200 روپے میں فروخت ہو رہا تھا۔

موجودہ صورتحال میں پرچون قیمت 190 سے 200 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے جبکہ 50 کلوگرام کے تھیلے کی قیمت بڑھ کر 9 ہزار 100 روپے تک جا پہنچی ہے۔

قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کے بعد گزشتہ سال حکومت نے ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائیوں کا اعلان بھی کیا تھا۔

تاہم صارفین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے باوجود مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں کو مؤثر طور پر کنٹرول نہیں کیا جا سکا۔

شوگر ملز ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ چینی کو ذخیرہ کرنے کی مدت قریباً 2 سال ہوتی ہے اور اگر گزشتہ سال 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد نہ کی جاتی تو اس کے ضائع ہونے کا خدشہ تھا۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک جانب اضافی ذخائر کا دعویٰ کیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب برآمدات کے فوراً بعد مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ سامنے آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے برآمدی پالیسی پر سوالات جنم لیتے ہیں۔

مزید پڑھیں: چینی کی قیمتوں میں اضافہ: کس شوگر مل کے پاس کتنی چینی اسٹاک ہے؟

اب جبکہ شوگر ملز ایسوسی ایشن نے ایک مرتبہ پھر چینی برآمد کرنے کی اجازت مانگی ہے، حکومت کو ایک ایسے فیصلے کا سامنا ہے جس میں ایک طرف زرمبادلہ کمانے کا امکان موجود ہے تو دوسری طرف عوام کو سستی چینی کی فراہمی اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر برآمدات کی اجازت دی جاتی ہے تو حکومت کو سخت نگرانی، شفاف اسٹاک آڈٹ اور قیمتوں کے مؤثر کنٹرول کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ گزشتہ سال کی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • سوات اور گردونواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی