—فائل فوٹو

بانی پی ٹی آئی کے خلاف وزیر اعظم شہباز شریف کے ہتک عزت کے دعوے کے کیس میں شہباز شریف کے گواہ اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے بیان قلمبند کروا دیا۔

شہباز شریف کے بانی پی ٹی آئی کے خلاف ہتک عزت کے دعویٰ پر سماعت سیشن کورٹ لاہور  کے ایڈیشنل سیشن جج یلماز غنی نے کی، جس میں شہباز شریف کے گواہ اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان عدالت میں پیش ہوئے۔

ملک احمد خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے شہباز شریف پر رشوت لینے کے جھوٹے الزامات عائد کیے، میری شہباز شریف کے ساتھ جماعتی وابستگی ہے، اپریل 2017 میں بانی پی ٹی آئی نے سنگین الزامات لگائے جو مختلف چینلز پر چلے، شہباز شریف نے بطور وزیراعلیٰ اور وزیراعظم عوامی خدمت کی، میرے نزدیک ان الزامات کے ذریعے گمرہ کن پروپیگنڈا کیا گیا۔

شہباز شریف کو جیل میں گھر کا کھانا بھی نہیں دیا جاتا تھا: ملک محمد احمد خان

ملک محمد احمد خان کا کہنا ہے کہ ترامیم تو آج ہوئی ہیں میں 15 برس سے کہہ رہا ہوں، میں اللّٰہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ پارلیمنٹ نے اپنی بات کی۔

انہوں نے کہا کہ اسلام میں بھی جھوٹ اور غیبت کی سخت ممانعت ہے، جھوٹ بول کر کسی کے خلاف قصہ بیان کرنا مذہبی اعتبار سے بھی درست نہیں، مدعی نے جو دعویٰ دائر کیا ہے وہ اس عدالت میں آنے کا حق رکھتا ہے۔

بانی پی ٹی آئی کے وکیل احمد حسین چوٹیاں نے ملک احمد خان کے بیان پر جرح کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا جن پروگرامز کا ذکر آپ نے کیا یہ تمام پروگرام پنجاب سے آن ایئر نہیں ہوئے؟

اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ یہ تمام قومی پروگرام قومی نشریاتی اداروں پر آتے ہیں، یہ درست ہے تمام پروگرامز پنجاب سے آن ایئر نہیں ہوئے تھے۔

بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے ملک احمد خان سے سوال کیا کہ کیا آپ کو پتہ ہے کہ پانامہ کیس کیا تھا؟ جس پر اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ پانامہ پیپرز کا کیس ان افراد کی فہرست کے بارے میں تھا جن کی بیرون ملک انویسٹمنٹ تھی۔

بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے سوال کیا کہ کیا یہ درست ہے بانی پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ میں پانامہ پیپرز کے بارے میں کوئی درخواست دائر کی تھی؟ جس پر ملک محمد احمد خان نے کہا کہ میرے علم میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے۔

وکیل نے پھر سوال کیا کہ کیا آپ کو علم ہے بانی پی ٹی آئی کی درخواست نوازشریف وغیرہ کے خلاف تھی؟ جس پر اسپیکر پنجاب اسمبلی نے جواب دیا کہ مجھے تفصیلی طور پر اس کے بارے میں علم نہیں ہے۔

بانی پی ٹی آئی کے وکیل شہباز شریف کے گواہ سے سوال کیا کہ کیا آپ کو پتہ ہے کہ نواز شریف کو پانامہ پیپرز میں سزا ہوگئی تھی؟ ملک محمد احمد خان نے کہا کہ جی یہ بات درست ہے۔

وکیل سوال کیا کہ کیا یہ درست ہے کہ محض اس مقدمے کی وجہ سے مدعی نے جھوٹا دعویٰ دائر کیا؟ جس پر ملک محمد احمد خان نے کہا کہ یہ غلط ہے۔ 

بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے اسپیکر پنجاب اسمبلی کے خلاف بیان پر جرح مکمل کر لی۔

جس کے بعد عدالت نے شہباز شریف کے مزید گواہوں کو آئندہ سماعت پر طلب کرتے ہوئے سماعت 13 دسمبر تک ملتوی کر دی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: اسپیکر پنجاب اسمبلی نے ملک محمد احمد خان نے احمد خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے ہے بانی پی ٹی آئی سوال کیا کہ کیا شہباز شریف کے ملک احمد خان درست ہے کے خلاف وکیل نے

پڑھیں:

5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف
  • میں نے اپنی قبر تیار کروا رکھی ہے، لیجنڈ گلوکار عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا انکشاف
  • ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری