پی ٹی آئی انتشار پیداکرنے کیلئے بھارتی ‘ میڈیا کو استمال کررہی ہے : عطاتارڑ
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
اسلام آباد‘ نوشہرہ (اپنے سٹاف رپورٹر سے‘ نامہ نگار) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ خیبر پی کے حکومت کی توجہ صوبے کے عوام کی فلاح و بہبود کی بجائے دھرنے پر ہے‘ اگر یہ دھرنے دیتے رہے تو صوبے پر توجہ کون دے گا؟۔ خیبر پی کے حکومت غیر قانونی مطالبہ کر رہی ہے‘ بانی پی ٹی آئی میگا کرپشن کیس میں سزا یافتہ ہیں، کبھی کسی سیاسی قیدی کو اتنی مراعات حاصل نہیں ہوئیں جتنی بانی پی ٹی آئی کو حاصل ہیں، جھوٹ کے بیانیے کو شکست ہوگی۔ اختیار ولی خان کی والدہ کی وفات پر تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ اختیار ولی خان نے پارٹی کا مشکل وقت میں ساتھ دیا، انہوں نے مشکل ترین دور میں صوبائی سیٹ جیتی، خیبر پی کے میں ان کی پہچان ہے، انہوں نے ہمیشہ اصولوں کی سیاست کی ہے، ایم ایس ایف کے زمانے سے وہ مسلم لیگ (ن) سے وابستہ ہیں، وہ میڈیا میں پارٹی کی توانا آواز ہیں، انہوں نے نہ صرف ملکی پالیسی کے حوالے سے اپنا کردار ادا کیا بلکہ ملکی سالمیت اور ملکی مفاد کو ہمیشہ مقدم رکھ کر بات کی۔ وفاق نے دہشت گردی کے خلاف اور امن و امان قائم کرنے کے لئے مل کر کام کرنے کی بات کی مگر ان کی اس طرف توجہ نہیں۔ جیل مینوئل کے خلاف مطالبات کئے جارہے ہیں، کیا جیل رولز بار بار ملاقات کی اجازت دیتے ہیں؟۔ آپ اپنے صوبے کی خدمت کریں، تعلیم، صحت اور لاء اینڈ آرڈر پر فوکس کریں مگر آپ کو توفیق نہیں۔ آپ چار چار گھنٹے دھرنا دیتے ہیں، یہ صرف ٹک ٹاک کی حکومت ہے جو لائکس کے لئے کام کر رہے ہیں۔ یہ غیر قانونی ڈیمانڈ ہے، جیل مینوئل اور قانون میں کہاں گنجائش ہے کہ آپ ملاقات کریں گے تو ہی صوبے کے معاملات چلائیں گے۔ پی ٹی آئی کی رہنما نے مبینہ طور پر انڈین میڈیا پر افغانستان کے میڈیا کو ایکٹو کیا اور افواہیں پھیلائی گئیں۔ بھارت اور افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈا کیا جارہا ہے۔ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے سوشل میڈیا پر ہتھکنڈے استعمال کئے جارہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اکائونٹ ہولڈرز اب بھارتی سوشل میڈیا ہینڈلرزکی حمایت لے رہے ہیں، سوشل میڈیا پر لوگوں کو بے وقوف بنایا جارہا ہے یہ صرف اور صرف ان کے پریشر ڈالنے اور ملاقات کرنے کے ہتھکنڈے ہیں، ملک میں قانون اور آئین موجود ہے جو بھی ہوگا ،آئین و قانون کے مطابق ہوگا۔وہ اب جیل میں ملاقات کے لئے ڈرامے اور ڈھونگ رچا رہا ہے، ملک میں انتشار پیدا کرنے کیلئے پی ٹی آئی انڈیا اور افغانستان کے میڈیا کو استعمال کر رہی ہے، انٹرنیشنل میڈیا کو بھی پتہ ہونا چاہیے کہ بانی پی ٹی آئی میگا کرپشن کیس میں سزا یافتہ ہیں اور قید ہیں، ان کے پاس عدالت میں کوئی دفاع نہیں ہے‘ ان کے وکلاء تاریخ پر تاریخ لیتے ہیں۔ملک سے باہر بیٹھے بہت سے لوگ اپنے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں، وہ چاہتے ہیں ملک میں انتشار پھیلے، پی ٹی آئی کی رہنما کو غلط ٹویٹ پر نوٹس بھجوایا، این سی سی آئی کو درخواست دی، انہوں نے وہ ٹویٹ ڈیلیٹ کی، ملک دشمنی، جھوٹ بولنا، حقائق کے برعکس تصویریں لگانا اور بعد میں معافی مانگ لینا ان کا وطیرہ بن چکاہے۔
.ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی سوشل میڈیا انہوں نے میڈیا کو رہے ہیں
پڑھیں:
ڈیٹنگ رئیلٹی شو ’لازوال عشق‘ پر تنقید کے بعد عائشہ عمر کی وضاحت، سوشل میڈیا صارفین اب کیا کہتے ہیں؟
پاکستان کے پہلے ڈیٹنگ رئیلٹی شو ’لازوال عشق‘ کی میزبانی کرنے والی اداکارہ عائشہ عمر حالیہ دنوں سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی زد میں ہیں۔ یہ شو یوٹیوب پر نشر کیا جا رہا ہے اس کی ریکارڈنگ ترکی کے ایک ولا میں کی گئی ہے۔ شو میں پاکستانی خواتین و مرد امیدوار شامل ہیں جو ایک ہی رہائش گاہ میں وقت گزارتے ہیں اور مختلف سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں۔
اس فارمیٹ کی وجہ سے پاکستان میں شدید عوامی ردِ عمل سامنے آیا ہے، اس پر وضاحت دیتے ہوئے عائشہ عمر نے کہا ہے کہ ’لازوال عشق‘ پاکستانی پروڈکشن نہیں بلکہ ترکی کی ایک بڑی پروڈکشن کمپنی نے اسے تیار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’ہم اپنی بیٹیوں کو ڈیٹنگ سکھا رہے ہیں؟‘ فضا علی کی ’لازوال عشق‘ پر کڑی تنقید
ان کا کہنا تھا کہ ’لازوال عشق پاکستانی پروڈکشن نہیں ہے اور نہ ہی اسے ہماری عدالت نے بین کیا ہے۔ یہ پاکستانی شو نہیں ہے، لیکن اس کا ناظرین میں پاکستانی لوگ شامل ہیں، اُن میں وہ لوگ بھی ہیں جو دنیا کے مختلف ممالک میں رہتے ہیں اور اُردو سمجھتے یا بولتے ہیں‘۔
اداکارہ نے کہا کہ ’یہ ایک اُردو زبان کا رئیلٹی شو ہے جس میں سکھایا جاتا ہے کہ بات چیت کیسے کی جائے، ہم عمر افراد اور پارٹنرز کے ساتھ تعلقات کیسے بنائے جائیں، اور شاید حقیقی محبت بھی مل جائے یہ سب بالغ اور رضامند افراد کے درمیان ہوتا ہے۔ اسے کبھی بھی کسی ٹی وی چینل پر نشر کرنے کا ارادہ نہیں تھا۔ کوئی پاکستانی پروڈکشن ہاؤس اس میں شامل نہیں تھا۔ یہ ترکی کی سب سے بڑی پروڈکشن کمپنیوں میں سے ایک نے بنایا ہے‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ جن لوگوں نے یہ شو نہیں دیکھا اور غلط فہمیاں پھیلا رہے ہیں، انہیں بتا دوں کہ خواتین اور مرد امیدواروں کے لیے سونے اور تیار ہونے کے لیے علیحدہ جگہیں مختص ہیں‘۔
اداکارہ کے اس وضاحتی موقف کے باوجود سوشل میڈیا صارفین نے ان پر شو کے ’غیر اخلاقی‘ تصور کا دفاع کرنے پر سخت تنقید کی ہے۔ کئی صارفین نے الزام لگایا کہ پروڈیوسرز پاکستانی ثقافت پر بیرونی طرز کا مواد مسلط کر رہے ہیں، جبکہ کچھ نے عائشہ عمر کو ایک ’سستے شو‘ کی تشہیر کرنے پر آڑے ہاتھوں لیا۔ بعض تبصروں میں کہا گیا کہ وہ اس شو کا دفاع ایسے کر رہی ہیں جیسے یہ کوئی ’بہترین یا مذہبی نوعیت‘ کا پروگرام ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
عائشہ عمر لازوال عشق لازوال عشق پر پابندی لازوال عشق تنقید