گلگت بلتستان کی نگران کابینہ غیر سیاسی اور میرٹ پر بنائی جائے، حفیظ الرحمن کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
نگران وزیر اعلیٰ نے تمام تجاویز کو قابل عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ صاف شفاف الیکشن کی اولین زمہ داری احسن طریقے سے ادا کریں گے اور الیکشن کمیشن کو غیر جانبدار صاف شفاف الیکشن کے قیام کیلئے تمام وسائل فراہم کئے جائیں گے اور نگران کابینہ مختصر اور اہل افراد پر مشتمل بنائی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ سابق وزیر اعلیٰ و صوبائی صدر مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے نگران وزیر اعلی جسٹس (ر) یار محمد کے ساتھ مسلم لیگ (ن) کے وفد کے ہمراہ ملاقات کی۔ نگران وزیر اعلیٰ کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد دی، نیک خواہشات کا اظہار کیا اور اس امید کا اظہار بھی کیا کہ نگران وزیر اعلیٰ صاف شفاف الیکشن کی اپنی بنیادی زمہ داری بھرپور طریقے سے ادا کریں گے۔ حفیظ الرحمن نے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے نگران وزیر اعلیٰ یار محمد کی تقرری کو مناسب فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ نگران وزیر اعلی کی شخصیت غیر جانبدار اور غیر سیاسی ہے اور اس فیصلے کو ہر طبقے نے سراہا ہے۔ اب نگران وزیر اعلیٰ پر بھاری زمہ داری عائد ہوئی ہے کہ وہ غیر جانبدار اور صاف شفاف الیکشن کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے۔
سابق وزیر اعلیٰ نے ملاقات کی تفصیلات سے مزید آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ نگران کابینہ کا قیام نگران وزیراعلی کا پہلا امتحان ہے، مسلم لیگ (ن) نے تجاویز دی ہیں کہ نگران وزراء کا الیکشن نہیں سلیکشن ہے لہٰذا غیر سیاسی، بے داغ، اہل اور پڑھے لکھے افراد پر مشتمل نگران کابینہ بنائی جائے۔ وفاق اور تمام صوبوں کے نگران کابینہ کے قیام کے اصولوں کے طرز پر جانے والی حکومت کے کسی بھی زمہ دار کو نگران کابینہ میں شامل نہ کیا جائے جو بھی وزراء لئے جائیں وہ سیاسی جماعتوں سے وابسطہ عہدیدار نہ ہوں اور نہ ہی ان کا کوئی قریبی عزیز الیکشن میں حصہ لے رہا ہو۔ نگران کابینہ میں گلگت بلتستان کے تمام اضلاع اور مذہبی ہم آہنگی کا عنصر بھی خاص خاطر میں رکھا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ جنوری میں الیکشن کا شیڈول دیا گیا ہے لیکن موسمی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے الیکشن ممکن نہیں ہیں، نگران وزیر اعلیٰ کو تجویز دی ہے کہ وہ آل پارٹیز کانفرنس بلائیں تاکہ الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے آگے بڑھا جاسکے۔ سابق وزیر اعلیٰ نے مزید بتایا کہ مسلم لیگ (ن) اور وفاقی حکومت چاہتی ہے کہ گلگت بلتستان میں صاف شفاف الیکشن ہوں اس ضمن میں ہر ممکن تعاون کیلئے تیار ہیں۔ نگران وزیر اعلیٰ نے تمام تجاویز کو قابل عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ صاف شفاف الیکشن کی اولین زمہ داری احسن طریقے سے ادا کریں گے اور الیکشن کمیشن کو غیر جانبدار صاف شفاف الیکشن کے قیام کیلئے تمام وسائل فراہم کئے جائیں گے اور نگران کابینہ مختصر اور اہل افراد پر مشتمل بنائی جائے گی تاکہ نگران حکومت کی مختصر مدت میں گلگت بلتستان کے عوام کی بھرپور خدمت کی جاسکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نگران وزیر اعلی نگران کابینہ گلگت بلتستان مسلم لیگ کہ نگران نگران کا گے اور
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔