data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ افغانستان کے دورے کے دوران افغان وزیر خارجہ امیر متقی نے بتایا تھا کہ انہوں نے  ٹی ٹی پی کے چند افراد کو گرفتار کیا ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے افغان سرزمین سے دہشت گردانہ سرگرمیوں کے بڑھتے خطرات اور پاکستان کے سفارتی اقدامات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

نائب وزیراعظم کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ نے افغان بارڈر کی بندش کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کی ہے۔ اس معاملے پر عسکری قیادت اور وزیراعظم سے بات کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ افغانستان کے دورے کے دوران افغان وزیر خارجہ امیر متقی نے پاکستان کو بتایا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے چند افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، تاہم اس پر واضح کیا گیا کہ چند سو افراد کی گرفتاری کافی نہیں ہے۔

وزیر خارجہ نے زور دیا کہ پاکستان کا مقصد یہ ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو اور امن ہی واحد حل ہے، ٹی ٹی پی کو پاکستانی سرحد سے دور منتقل کیا جائے یا ہمارے حوالے کیا جائے تاکہ وہ پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے استعمال نہ ہو۔

اسحاق ڈار نے بتایا کہ انہوں نے حالیہ عرصے میں ماسکو، بحرین اور برسلز کے دورے کیے، جن میں ماسکو میں ایس سی او سربراہی اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کی اور ملک کی معاشی ترجیحات، علاقائی روابط، توانائی کے شعبے میں تعاون اور دیگر اہم مسائل پر مؤقف پیش کیا۔ ماسکو میں صدر پیوٹن نے ایس سی او اجلاس کے دوران شریک وفود کے سربراہان سے ملاقاتیں کیں۔

وزیر خارجہ نے یورپی یونین کے صدر سے بھی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ برسلز میں پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اسٹریٹیجک ڈائیلاگ میں مقبوضہ کشمیر، سندھ طاس معاہدہ، افغانستان، دہشت گردی اور جی ایس پی پلس جیسے مختلف امور زیر بحث آئے۔

ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کے 27 ممالک کو پاکستان اور افغانستان سے متعلق درست معلومات فراہم کی گئیں اور بتایا کہ افغانستان نے انسداد دہشت گردی کے اپنے وعدے پورے نہیں کیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنے وعدے پورے کیے اور مثبت اقدامات اٹھائے، لیکن افغانستان کی جانب سے دہشت گردی کے حوالے سے کوئی مؤثر تعاون نہیں کیا گیا، جس کے نتیجے میں صورتحال مزید خراب ہوئی۔

یہ بیان پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف سفارتی کوششوں اور خطے میں امن کے قیام کے لیے جاری اقدامات کی عکاسی کرتا ہے۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسحاق ڈار بتایا کہ انہوں نے کہ افغان کے دوران

پڑھیں:

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ

نیویارک:

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔

سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ