Islam Times:
2026-07-24@01:31:56 GMT

کینیڈا میں خالصتان کیلیے تاریخی ریفرنڈم

اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT

کینیڈا میں خالصتان کیلیے تاریخی ریفرنڈم

سکھ فار جسٹس کے مطابق بھارتی ریاستی ظلم اور سیاسی دباؤ کے باوجود خالصتان تحریک عالمی سطح پر تیزی سے مضبوط ہو رہی ہے اور بڑی تعداد میں سکھ آزاد ملک کے قیام کے مطالبے کے ساتھ میدان میں آ چکے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ کینیڈا کے شہر اوٹاوا میں خالصتان کے حوالے سے ایک بڑا ریفرنڈم منعقد ہوا جس میں 53 ہزار سے زائد سکھوں نے بھارتی پالیسیوں کے خلاف اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔ ریفرنڈم کے دوران سکھ برادری نے بھارتی حکومت کے مبینہ جابرانہ اقدامات اور مودی سرکار کی پالیسیوں کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی۔ علیحدگی پسند تنظیم "سکھ فار جسٹس" (SFJ) کے مطابق شدید سردی کے باوجود ہزاروں سکھوں نے طویل قطاروں میں گھنٹوں کھڑے ہو کر ووٹ ڈالا۔ تنظیم کے سربراہ گرپتونت سنگھ پنوں نے ریفرنڈم کو “ہندوتوا کے دہشت گرد مودی کی گولی اور بم کا جواب” قرار دیا اور کہا کہ مودی حکومت کی “سیاسی موت” صرف بیلٹ اور عالمی احتساب کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ گرپتونت سنگھ پنوں نے مزید کہا کہ 1984ء کی سکھ نسل کشی کے بعد اب بھارتی حکومت پنجاب میں معاشی دباؤ اور استحصال کے ذریعے سکھ برادری کو نشانہ بنا رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کینیڈین ایجنسیز پہلے ہی بھارتی نیٹ ورکس کی نشاندہی کر چکی ہیں جو مبینہ طور پر سکھوں کے قتل اور بھتہ خوری میں ملوث ہیں۔ سکھ فار جسٹس کے مطابق بھارتی ریاستی ظلم اور سیاسی دباؤ کے باوجود خالصتان تحریک عالمی سطح پر تیزی سے مضبوط ہو رہی ہے اور بڑی تعداد میں سکھ آزاد ملک کے قیام کے مطالبے کے ساتھ میدان میں آ چکے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔

اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل