ہری پور میں واقع تاریخی گاؤں کوٹ نجیب اللہ، جسے اساتذہ کے گھر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
ہری پور سے 10 کلو میٹر کے فاصلے پر گاؤں کوٹ نجیب اللہ واقع ہے، جو تاریخی لحاظ سے ایک قدیمی بستی ہے۔ اسے استادوں کی بستی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کیونکہ ہر دوسرے گھر میں اسکول یا استاد موجود ہے۔ تعلیمی لحاظ سے کوٹ نجیب اللہ ہزارہ بھر میں پہلے نمبر پر شمار ہوتا ہے۔
کوٹ نجیب اللہ کے قدیمی اسکول کی بنیاد 1804 میں رکھی گئی، جسے 1948 میں ہائی اسکول کا درجہ دیا گیا۔ کوٹ نجیب اللہ گاؤں کے اساتذہ ہری پور کے ہر علاقے کے اسکولوں میں تعینات ہیں۔ گاؤں میں سرکاری اسکولوں کے علاوہ 25 سے زائد پرائیویٹ اسکول بھی موجود ہیں۔
گاؤں کی مجموعی آبادی تقریباً 60 ہزار کے لگ بھگ ہے۔ یہاں کے قدیم اسکول سے ایئر مارشل شمیم انوار، چیف جسٹس ہائیکورٹ، کمشنر الیکشن کمیشن، جوڈیشری اور مختلف سرکاری عہدوں پر فائز بیوروکریٹس نے تعلیم حاصل کی ہے۔
یہاں پر پرانے زمانے کا سکھوں کا گردوارہ بھی موجود ہے، جو محکمہ اوقاف کی غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ 1913 میں فعال ہونے والا ریلوے اسٹیشن بھی گاؤں میں قائم ہے، جس سے آج بھی مسافر کوٹ نجیب اللہ سے دیگر شہروں کا سفر کرتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
فائل فوٹو۔جناح اسپتال کراچی کے واش روم میں بچے کی پیدائش کے معاملے پر تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرکو جمع کروا دی۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا متاثرہ خاتون رات ساڑھے 9 بجے گائنی وارڈ میں آئی، گائنی وارڈ میں کسی نے بھی خاتون کو طبی امداد نہیں دی۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق خاتون کا الٹرا ساؤنڈ نہیں کروایا گیا اور چہل قدمی کا مشورہ دیا گیا۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق کنسلٹنٹ اور آر ایم او ڈیوٹی پر موجود نہیں تھے، مریضوں کے ساتھ آنے والے مرد گائنی وارڈ کے احاطےمیں موجود تھے۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق میڈیکل آفسر کو محکمہ صحت بھیجنے اور ڈیوٹی پر موجود پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کی 3 ماہ مزید ٹریننگ کی تجویز ہے۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں سیکیورٹی گارڈز کی ڈیوٹی پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ کمیٹی کی جانب سے بنائی گئی رپورٹ سیکریٹری اور وزیر صحت کو دے دی گئی۔