Jasarat News:
2026-06-03@06:59:41 GMT

دنیا کے سرد ترین قصبے میں درجہ حرارت منفی 42 تک جا پہنچا

اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

روس کے برف پوش خطے سائبریا میں واقع چھوٹا مگر دنیا بھر میں مشہور قصبہ اویمیاکون ایک بار پھر شدید سردی کے باعث عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے، جہاں درجہ حرارت رواں ہفتے منفی 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں یہ سردی مزید بڑھ سکتی ہے اور درجہ حرارت منفی 49 سے 50 ڈگری تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یہ قصبہ آبادی کے اعتبار سے دنیا کا سرد ترین مستقل رہائشی مقام سمجھا جاتا ہے، جہاں شدید سرد موسم میں عام زندگی کو برقرار رکھنا بجا طور پر ایک چیلنج بن جاتا ہے۔

تقریباً 500 سے 900 افراد پر مشتمل یہ چھوٹا سا بستی نما قصبہ یاکوتیا کے پہاڑی سلسلے کے قریب آباد ہے۔ 1924ء  میں یہاں منفی 71.

2 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت ریکارڈ ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا، جسے غیر مصدقہ قرار دیا جاتا ہے، تاہم مصدقہ تاریخ میں یہاں سب سے کم درجہ حرارت 1933ء  میں منفی 67.7 ڈگری سینٹی گریڈ نوٹ کیا گیا، جو آج بھی ایک عالمی ریکارڈ تصور ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مقام ’دنیا کا سرد ترین رہائشی قصبہ‘ کہلاتا ہے۔

اویمیاکون نامی اس بستی کا مطلب ’’کبھی نہ جمنے والا پانی‘‘ ہے، کیونکہ یہاں ایک گرم چشمہ موجود ہے جو سال بھر بہتا رہتا ہے۔ مگر نام کے برخلاف موسم سرما میں یہاں بہتا ہوا پانی تقریباً نظر نہیں آتا۔ حد تو یہ ہے کہ گھروں سے باہر موجود گاڑیوں کو 24 گھنٹے مسلسل چلانا پڑتا ہے، ورنہ دوبارہ اسٹارٹ کرنا ممکن نہیں رہتا۔

یہاں کے مقامی لوگ اکثر منجمد گوشت کھاتے ہیں کیونکہ کھانا پکانے کے لیے درکار پانی جمع کرنا اور گرم رکھنا ایک الگ آزمائش بن جاتا ہے۔

حد درجہ سردی کے باعث یہاں تدفین کا عمل بھی نہایت مشکل ہے۔ کسی فرد کے انتقال کی صورت میں پہلے کئی دن تک زمین کی سطح پر آگ جلائی جاتی ہے تاکہ سخت برف پگھلے اور قبر کھودی جا سکے۔ یہاں کے رہائشی اس قدر سردی کے عادی ہیں کہ باہر نکلتے ہوئے کبھی وقفہ لینے یا کھڑے ہونے کا سوچتے بھی نہیں کیونکہ جسمانی درجہ حرارت چند لمحوں میں خطرناک حد تک کم ہونے کا اندیشہ رہتا ہے۔ یہاں تک کہ لوگ چشمہ پہن کر باہر نہیں نکلتے، کیونکہ شیشے چہرے کی جلد سے چپک جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔

یہ قصبہ یاکوتسک نامی شہر سے 577 میل کے فاصلے پر واقع ہے جو دنیا کا سرد ترین بڑا شہر بھی کہلاتا ہے۔ وہاں سے اویمیاکون تک ایک ہی سڑک جاتی ہے اور اس سفر میں تقریباً 2 دن لگتے ہیں۔

شدید سرد موسم میں یہاں سورج کی روشنی 21 گھنٹے تک غائب رہتی ہے جبکہ صرف تین سے چار گھنٹے دھندلکی جیسی روشنی محسوس ہوتی ہے۔ سرد ہوا پہاڑی سلسلے کے بیچ پھنس جاتی ہے جس کے نتیجے میں درجہ حرارت ریکارڈ حد تک گر جاتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ موسم گرما میں یہی مقام کئی بار 30 سے 35 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے اور برف پگھلنے کے بعد زندگی نسبتاً معمول پر آ جاتی ہے۔ سخت موسم ہونے کے باوجود یہاں اسکول، پوسٹ آفس، بینک اور ایک چھوٹا سا ایئرپورٹ رن وے تک موجود ہے۔

ایڈونچر کے شوقین افراد کے لیے یہ جگہ خاص کشش رکھتی ہے اور ہر سال یہاں دنیا کی سرد ترین میراتھن بھی منعقد کی جاتی ہے جس میں شرکا 35 کلومیٹر دوڑتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق لوگوں کا یہاں رہنا صرف مجبوری نہیں بلکہ ایک روایت بھی ہے۔ مقامی باشندے فخر کے ساتھ کہتے ہیں کہ وہ دنیا کے سرد ترین مقام پر رہتے ہیں اور شدید ترین حالات کے باوجود زندگی کی گاڑی پوری ہمت کے ساتھ آگے بڑھا رہے ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ڈگری سینٹی گریڈ میں یہاں جاتا ہے جاتی ہے میں یہ ہے اور

پڑھیں:

99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی

بنگلا دیش کے وزیر خارجہ خالد الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس (2026-2027) کے لیے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔ انہوں نے ایک سخت اور قریبی مقابلے میں قبرص کے امیدوار آندریاس ایس کاکورس کو شکست دی۔

193 رکنی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہونے والی رائے شماری میں خالد الرحمان نے 99 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے حریف آندریاس کاکورس کو 91 ووٹ ملے۔ انتخاب میں کوئی رکن ملک غیر حاضر یا غیر جانبدار نہیں رہا۔ کامیابی کے لیے 96 ووٹ درکار تھے۔

اقوام متحدہ کے قواعد کے مطابق جنرل اسمبلی کے صدر کا انتخاب ہر سال تمام رکن ممالک کی خفیہ رائے شماری کے ذریعے کیا جاتا ہے اور ہر ملک کو ایک ووٹ کا حق حاصل ہوتا ہے۔

اگرچہ یہ انتخاب باضابطہ طور پر مسابقتی ہوتا ہے، تاہم عمومی طور پر مختلف علاقائی گروپوں کے درمیان باری باری صدارت کا اصول اپنایا جاتا ہے۔

81 ویں اجلاس کے لیے ایشیا پیسیفک گروپ کو امیدوار نامزد کرنے کا حق حاصل تھا، جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش اور قبرص کے حمایت یافتہ امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوا۔

خالد الرحمان ستمبر 2026 میں جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے آغاز پر اپنے عہدے کا باضابطہ چارج سنبھالیں گے اور ایک سال تک اس منصب پر فائز رہیں گے۔ اس دوران وہ جنرل اسمبلی کے اجلاسوں کی صدارت، عالمی مسائل پر مباحثے کی نگرانی اور رکن ممالک کے درمیان مذاکرات کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری ادا کریں گے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کامیابی عالمی سفارت کاری میں بنگلا دیش کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدارت کو ایک اہم سفارتی منصب سمجھا جاتا ہے جو عالمی امن، ترقی، ماحولیاتی تبدیلی اور اقوام متحدہ کی اصلاحات جیسے اہم معاملات پر اثر انداز ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خالد الرحمان کو کامیابی پر مبارکباد دی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ خالد الرحمان کا وسیع سفارتی تجربہ اور کثیرالجہتی تعاون کے لیے ان کی وابستگی جنرل اسمبلی کی مؤثر قیادت میں اہم کردار ادا کرے گی۔

Heartiest felicitations to my dear brother, H.E. Dr. Khalilur Rahman, Foreign Minister of Bangladesh on his election as President of the 81st Session of the UN General Assembly.

Having had closely engaged with him, I am confident that his vast diplomatic experience and steadfast…

— Ishaq Dar (@MIshaqDar50) June 2, 2026

اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی کہ اقوام متحدہ میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون مزید مضبوط ہوگا اور عالمی امن، پائیدار ترقی اور بین الاقوامی مکالمے کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رہیں گی۔

متعلقہ مضامین

  • دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے
  • دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک  کیلیے وبال جان بن گئے
  • 99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان