دنیا کے سرد ترین قصبے میں درجہ حرارت منفی 42 تک جا پہنچا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
روس کے برف پوش خطے سائبریا میں واقع چھوٹا مگر دنیا بھر میں مشہور قصبہ اویمیاکون ایک بار پھر شدید سردی کے باعث عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے، جہاں درجہ حرارت رواں ہفتے منفی 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں یہ سردی مزید بڑھ سکتی ہے اور درجہ حرارت منفی 49 سے 50 ڈگری تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یہ قصبہ آبادی کے اعتبار سے دنیا کا سرد ترین مستقل رہائشی مقام سمجھا جاتا ہے، جہاں شدید سرد موسم میں عام زندگی کو برقرار رکھنا بجا طور پر ایک چیلنج بن جاتا ہے۔
تقریباً 500 سے 900 افراد پر مشتمل یہ چھوٹا سا بستی نما قصبہ یاکوتیا کے پہاڑی سلسلے کے قریب آباد ہے۔ 1924ء میں یہاں منفی 71.
اویمیاکون نامی اس بستی کا مطلب ’’کبھی نہ جمنے والا پانی‘‘ ہے، کیونکہ یہاں ایک گرم چشمہ موجود ہے جو سال بھر بہتا رہتا ہے۔ مگر نام کے برخلاف موسم سرما میں یہاں بہتا ہوا پانی تقریباً نظر نہیں آتا۔ حد تو یہ ہے کہ گھروں سے باہر موجود گاڑیوں کو 24 گھنٹے مسلسل چلانا پڑتا ہے، ورنہ دوبارہ اسٹارٹ کرنا ممکن نہیں رہتا۔
یہاں کے مقامی لوگ اکثر منجمد گوشت کھاتے ہیں کیونکہ کھانا پکانے کے لیے درکار پانی جمع کرنا اور گرم رکھنا ایک الگ آزمائش بن جاتا ہے۔
حد درجہ سردی کے باعث یہاں تدفین کا عمل بھی نہایت مشکل ہے۔ کسی فرد کے انتقال کی صورت میں پہلے کئی دن تک زمین کی سطح پر آگ جلائی جاتی ہے تاکہ سخت برف پگھلے اور قبر کھودی جا سکے۔ یہاں کے رہائشی اس قدر سردی کے عادی ہیں کہ باہر نکلتے ہوئے کبھی وقفہ لینے یا کھڑے ہونے کا سوچتے بھی نہیں کیونکہ جسمانی درجہ حرارت چند لمحوں میں خطرناک حد تک کم ہونے کا اندیشہ رہتا ہے۔ یہاں تک کہ لوگ چشمہ پہن کر باہر نہیں نکلتے، کیونکہ شیشے چہرے کی جلد سے چپک جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔
یہ قصبہ یاکوتسک نامی شہر سے 577 میل کے فاصلے پر واقع ہے جو دنیا کا سرد ترین بڑا شہر بھی کہلاتا ہے۔ وہاں سے اویمیاکون تک ایک ہی سڑک جاتی ہے اور اس سفر میں تقریباً 2 دن لگتے ہیں۔
شدید سرد موسم میں یہاں سورج کی روشنی 21 گھنٹے تک غائب رہتی ہے جبکہ صرف تین سے چار گھنٹے دھندلکی جیسی روشنی محسوس ہوتی ہے۔ سرد ہوا پہاڑی سلسلے کے بیچ پھنس جاتی ہے جس کے نتیجے میں درجہ حرارت ریکارڈ حد تک گر جاتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ موسم گرما میں یہی مقام کئی بار 30 سے 35 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے اور برف پگھلنے کے بعد زندگی نسبتاً معمول پر آ جاتی ہے۔ سخت موسم ہونے کے باوجود یہاں اسکول، پوسٹ آفس، بینک اور ایک چھوٹا سا ایئرپورٹ رن وے تک موجود ہے۔
ایڈونچر کے شوقین افراد کے لیے یہ جگہ خاص کشش رکھتی ہے اور ہر سال یہاں دنیا کی سرد ترین میراتھن بھی منعقد کی جاتی ہے جس میں شرکا 35 کلومیٹر دوڑتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق لوگوں کا یہاں رہنا صرف مجبوری نہیں بلکہ ایک روایت بھی ہے۔ مقامی باشندے فخر کے ساتھ کہتے ہیں کہ وہ دنیا کے سرد ترین مقام پر رہتے ہیں اور شدید ترین حالات کے باوجود زندگی کی گاڑی پوری ہمت کے ساتھ آگے بڑھا رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈگری سینٹی گریڈ میں یہاں جاتا ہے جاتی ہے میں یہ ہے اور
پڑھیں:
لاہور میں آج موسم ابرآلود، بارش کا کتنا امکان؟
لاہور میں آج زیادہ تر موسم ابر آلود رہنے اور ہلکی بارش کا امکان ہے جبکہ سورج اور بادلوں کے درمیان آنکھ مچولی کا سلسلہ بھی جاری رہے گا۔
مون سون سسٹم کے تحت آج صبح لاہور میں سب سے زیادہ بارش فرخ آباد میں 40 اور گلشن راوی میں 34 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی جبکہ سگیاں پل پر 34 اور سمن آباد میں 14 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
اسی طرح شہر کے مختلف علاقوں میں کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش ہوئی۔ گزشتہ دو سے تین روز کے دوران بارش کے باعث درجہ حرارت میں کمی آگئی اور موسم خوش گوار ہوگیا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 جبکہ زیادہ سے زیادہ 31 ڈگری تک جانے کا امکان ہے، مون سون کی بارشوں کا یہ سلسلہ 26 جولائی تک جاری رہے گا۔