انٹرنیشنل مقابلۂ قرأت کے لیے مختلف ممالک کے قرّاء کی پاکستان آمد شروع
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
اسلام آباد میں ہونے والے انٹرنیشنل مقابلۂ قرأت کے لیے مختلف ملکوں سے قرّاء کرام اور ججز کی پاکستان آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ مقابلہ 24 سے 27 نومبر تک وزارتِ مذہبی امور کے زیرِ اہتمام منعقد کیا جائے گا۔
ابتدائی طور پر چاڈ سے قاری احمت، صومالیہ سے قاری عبدالقادر ابدی وہاب ادن اور گھانا سے قاری ابوالمال سواللہ اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔ وزارتِ مذہبی امور کے افسران نے اسلام آباد ایئرپورٹ پر معزز مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیا۔
مزید پڑھیں: وزارتِ مذہبی امور نے عراق میں مقدس مقامات کی زیارات کے لیے نئی ہدایات جاری کردیں
مزید بین الاقوامی شخصیات کی آمد آج اور کل متوقع ہے۔ آج مصر سے انٹرنیشنل جج قاری الشیخ ڈاکٹر حمد اللہ حفیظ محمد ابرہیم، بحرین سے قاری حمزہ معیز احمد علی، اردن سے قاری احمد بکری حسن نواسرہ، فلسطین سے قاری نبیل محمد علی شریباطی، قازقستان سے قاری ییگل مان محمد، مالی سے قاری دیالو آمادو، برکینا فاسو سے قاری دیالو موسی، موریطانیہ سے قاری احمد احمد مسکے اور کوموروس سے قاری عبداُو فضل الدین پاکستان پہنچیں گے۔
مزید پڑھیں: وزارت مذہبی امور نے مصدقہ عمرہ کمپنیوں کی فہرست جاری کر دی
عالمی سطح پر قرآنِ کریم کی تلاوت کے اس بڑے مقابلے میں دنیا بھر سے نامور قرّاء اور ججز کی شرکت پاکستانی دارالحکومت میں ایک روح پرور اور بابرکت ماحول پیدا کرے گی۔ وزارت مذہبی امور کے مطابق تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں اور مقابلہ 4 روز تک جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انٹرنیشنل مقابلۂ قرأت مختلف ممالک کے قرّاء وزارت مذہبی امور.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انٹرنیشنل مقابلہ قرأت مختلف ممالک کے قر اء کے لیے
پڑھیں:
گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
فائل فوٹووفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی ہے۔
گلگت میں جیو نیوز سے گفتگو میں احسن اقبال نے کہا کہ مسلم لیگ ن کا گلگت بلتستان میں ترقیاتی کاموں کا ریکارڈ ہے، جس کا مقابلہ کوئی جماعت نہیں کرسکتی۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں تمام جماعتیں اور ان کے لیڈرز انتخابی عمل میں حصہ لے رہے ہیں۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ اگر کوئی جماعت یہ کہتی ہے کہ اسے حصہ نہیں لینے دیا جارہا تو وہ اپنی شکست کا بہانہ تلاش کررہی ہے۔