ذرائع کے مطابق بھارت کے بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے جموں کی ایک ٹاڈا عدالت میں دو خودساختہ عینی شاہدین پیش کئے جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہوں نے 1990ء میں سرینگر میں بھارتی فضائیہ کے چار اہلکاروں کے قتل میں یاسین ملک کی مرکزی ملزم کے طور پر شناخت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ غیرقانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں حریت رہنمائوں اور قانونی ماہرین نے سینئر کشمیری رہنمائوں بالخصوص جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کے خلاف سیاسی بنیادوں پر قائم کئے گئے مقدمات میں ثبوت گھڑنے اور خودساختہ گواہ پیدا کرنے پر بی جے پی کی زیر قیادت بھارتی حکومت اور اس کی ایجنسیوں کی شدید مذمت کی ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارت کے بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے جموں کی ایک ٹاڈا عدالت میں دو خودساختہ عینی شاہدین پیش کئے جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہوں نے 1990ء میں سرینگر میں بھارتی فضائیہ کے چار اہلکاروں کے قتل میں یاسین ملک کی مرکزی ملزم کے طور پر شناخت کی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ان افراد میں سے ایک نے پہلے بھی ایسا بیان دیا تھا جس سے شہادتوں کی ساکھ، وقت اور ترتیب کے بارے میں سنگین شکوک پیدا ہوئے تھے۔ سرینگر میں قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اس سازش کا حصہ ہے جس کے تحت ایجنسیاں بھارتی قبضے کو چیلنج کرنے والی کشمیری سیاسی شخصیات کے خلاف پہلے سے طے شدہ سزائیں حاصل کرنے کے لیے گواہوں کو تخلیق اور جوڑ توڑ کر رہی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ عینی شاہد اس واقعے کے 35 سال اور کیس بند ہونے کے طویل عرصے بعد اور اس وقت سامنے آئے ہیں جب مودی حکومت اختلاف رائے کو کچلنے پر تلی ہوئی ہے۔ حریت رہنمائوں نے کہا کہ تازہ ترین اقدام کا مقصد یاسین ملک کو مجرم قرار دلانا ہے تاکہ تنازعہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد سے بھارت کے انکار سے عالمی توجہ ہٹائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مقدمہ جو کئی دہائیوں بعد دوبارہ کھولا گیا، سیاسی انتقام پر مبنی ہے جس کا واحد مقصد یاسین ملک اور حق خودارادیت کا مطالبہ کرنے والے دیگر نظربند رہنمائوں کو خاموش کرانا ہے۔ یاسین ملک نے جو دہلی کی تہاڑ جیل سے ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہوئے، ان الزامات کو مسترد کر دیا۔ انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ ان مقدمات کو یاسین ملک کی مستقل قید کو یقینی بنانے اور کشمیریوں کی تمام پرامن سیاسی سرگرمیوں کو روکنے کے لئے دوبارہ کھولا گیا۔

حریت رہنمائوں کا کہنا ہے کہ بی جے پی کے زیر اثر کام کرنے والی عدالتوں کو بھارتی مظالم کا جواز پیش کرنے اور عالمی برادری کو گمراہ کرنے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسرت عالم بٹ اور شبیر احمد شاہ سے لے کر آسیہ اندرابی تک پوری مزاحمتی قیادت کو ختم کرنے کے لیے نئے بیانیے، تخلیق شدہ گواہان اور کالے قوانین کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ حریت رہنمائوں نے اقوام متحدہ، انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں اور عالمی قانونی اداروں پر زور دیا کہ وہ بھارت کے عدالتی جوڑ توڑ کا فوری نوٹس لیں اور یاسین ملک سمیت تمام سیاسی نظر بندوں کی رہائی کا مطالبہ کریں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کی جدوجہد کو جرم بنانے اور مظلوم عوام کی سیاسی آواز کو دبانے کے لیے عدالتوں کو ہتھیار بنانے پر بھارت کو جوابدہ ٹھہرایا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: حریت رہنمائوں کا کہنا ہے کہ یاسین ملک بھارت کے انہوں نے ہے کہ ان کے لیے

پڑھیں:

اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ

تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت