پاکستان نے افغانستان میں فضائی حملوں کی تردید کر دی
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
پاکستان نے افغانستان میں مبینہ فضائی حملوں کے دعوؤں کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں افغان علاقے میں کوئی فضائی کارروائی نہیں کی گئی۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان جب بھی کوئی کارروائی کرتا ہے، اسے سرکاری سطح پر تسلیم بھی کرتا ہے، اس لیے ایسے الزامات بے بنیاد ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، وہ زیادہ تر افغانستان کے اندرونی جھگڑوں، مقامی گروہوں کی آپس کی لڑائی یا بعض صورتوں میں مبینہ طور پر بھارتی ایجنٹوں کی جانب سے رچائے گئے ڈراموں کا نتیجہ ہو سکتے ہیں۔ حکام کے مطابق افغانستان میں خوارج کے اندر بھارتی اثرورسوخ کوئی نئی بات نہیں۔
ذرائع نے یہ بھی کہا کہ افغانستان اپنے داخلی مسائل کا الزام اکثر پاکستان پر دھر دیتا ہے، اور یہی روش اس بار بھی اختیار کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی زیادہ تر تصاویر پرانی، غیر متعلقہ یا ایڈٹ شدہ ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان کو اس وقت شدید دباؤ کا سامنا ہے اور وہ پاکستان کی جانب سے ممکنہ جواب سے بھی خوفزدہ ہے، خصوصاً اسلام آباد، وانا کالج اور پشاور حملوں کے بعد۔ اسی لیے افغان حکام پاکستان کے ردعمل سے قبل ہی الزامات لگا کر عالمی توجہ میں تبدیلی لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پاکستانی حکام نے کہا کہ اگر پاکستان کوئی کارروائی کرے گا تو دنیا خود دیکھ لے گی، اکتوبر میں ’کابل کے آسمان کی روشنی‘ سب نے دیکھی تھی۔
ان کا کہنا ہے کہ حسبِ روایت بھارت نے بھی افغانستان کے اس بیانیے کو فوراً اپنا لیا ہے اور وہ سوشل میڈیا پر اسے پھیلا کر ’غلط پروپیگنڈا‘ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔
ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔