چیئرمین سی ڈی اے کی چیف فیسیلٹیز و ایڈمنسٹریٹو سروسز آغا خان یونیورسٹی سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
چیئرمین سی ڈی اے کی چیف فیسیلٹیز و ایڈمنسٹریٹو سروسز آغا خان یونیورسٹی سے ملاقات WhatsAppFacebookTwitter 0 29 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے)و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا کی ہفتہ کے روز چیف فیسیلٹیز و ایڈمنسٹریٹو سروسز آغا خان یونیورسٹی عزیز جان سے سی ڈی اے ہیڈکوارٹرز میں ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں اسلام آباد میں ایک جدید ترین ٹیچنگ و ٹرثری کیئر ہسپتال کے قیام کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں آغا خان یونیورسٹی ٹیچنگ ہسپتال کے قیام کے حوالے سے اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہسپتال نہ صرف طبی خدمات بلکہ تحقیق و تعلیم کے میدان میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ آغا خان یونیورسٹی کا یہ منصوبہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں صحت و میڈیکل کی تعلیم کے شعبے میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آغا خان یونیورسٹی ٹیچنگ ہسپتال کے اسلام آباد میں قیام صحت کے شعبے میں ایک بڑی پیشرفت ثابت ہوگی۔چیف فیسیلٹیز و ایڈمنسٹریٹو سروسز آغا خان یونیورسٹی عزیز جان نے کہا کہ آغا خان یونیورسٹی ٹیچنگ ہسپتال میں مریضوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم ہوگی۔
چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے کہا کہ سی ڈی اے ملازمین کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کو بہتر بنانے کیلئے آغا خان یونیورسٹی کے تجربات سے استفادہ کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ سی ڈی اے کے زیر انتظام تعلیم فراہم کرنے والی سہولیات کو مزید بہتر بنانے کیلئے بھی آغا خان یونیورسٹی کے ساتھ اشتراک کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد کے شہریوں کو بہترین سہولیات کی فراہمی ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرانتخابی نظام غیر اسلامی قرار دینے کا مقدمہ سپریم کورٹ میں سماعت کیلئے مقرر انتخابی نظام غیر اسلامی قرار دینے کا مقدمہ سپریم کورٹ میں سماعت کیلئے مقرر عظمی بخاری جس طرح اقتدار میں آئیں بلاول ایسے نہیں آئیں گے ،شرجیل میمن عالمی برادری فلسطین کے دو ریاستی حل کیلئے فیصلہ کن اقدامات کرے، بلاول بھٹو عمران خان سے جیل میں ملاقات سے متعلق درخواستوں پر سماعت مکمل،فیصلہ محفوظ گزشتہ دنوں عالمی سطح پر دہشتگردی کے واقعات میں افغانستان کا کردار کھل کر سامنے آگیا پی ٹی آئی، اسرائیل اور بھارت کیساتھ مل کر پاکستان کو بدنام کر رہی ہے، احسن اقبالCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: چیئرمین سی ڈی اے
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک