Nawaiwaqt:
2026-07-24@09:46:23 GMT

ایل این جی کارگوز کی منتقلی کا منصوبہ منظور

اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT

ایل این جی کارگوز کی منتقلی کا منصوبہ منظور

ایل این جی کارگوز منتقلی کا منصوبہ منظور کر لیا گیا جس سے غیر ملکی زرمبادلہ میں ایک ارب ڈالرز کی بچت کا امکان ہے۔کئی مہینوں کی غیر یقینی کے بعد پاکستان نے بالآخر قطر اور اطالوی تجارتی فرم ای این آئی کے ساتھ 2026 کے لیے اپنے طویل انتظار کے ʼسالانہ ’’ترسیلی منصوبے‘‘ کی منظوری دے دی ہے، جس سے 35 ایل این جی کارگوز کو بین الاقوامی مارکیٹ کی طرف موڑنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔اس اقدام سے پاکستان میں بڑھتی ہوئی گیس کی اضافی مقدار کو کم کرنے اور گرتی ہوئی طلب کی وجہ سے دباؤ کا شکار ترسیلی نظام کو مستحکم کرنے کی جانب ایک اہم قدم اٹھایا گیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے ایک سینئر عہدیدار نے اس نمائندے کو بتایا کہ قطر اپنے پاکستان کے ساتھ کیے گئے طویل المدتی معاہدوں کے تحت ’’نان پرفارمنس ڈلیوری‘‘ (این پی ڈی) کی شق کے تحت پاکستان کی درخواست کردہ 29 کارگوز میں سے 24 کو منتقل کرے گا۔ این ڈی پی شق کے تحت، اگر ایک منتقل شدہ کارگو بین الاقوامی مارکیٹ میں پاکستان کے طے شدہ معاہدے کی شرح سے زیادہ قیمت حاصل کرتا ہے، تو تمام منافع قطر کو جائے گا تاہم، اگر کارگو معاہدے کی قیمت سے کم پر فروخت ہوتا ہے، تو اس نقصان کو پاکستان اسٹیٹ آئل کو برداشت کرنا پڑے گا۔ اسی دوران ای این آئی کمپنی پاکستان ایل این جی لمیٹڈکے ساتھ ایک باہمی بات چیت سے طے شدہ سمجھوتے کے تحت 11 کارگوز کو منتقل کرے گی۔ ای این آئی کے ساتھ طے پانے والے سمجھوتے کے تحت، اگر کارگو طے شدہ قیمت سے زیادہ پر فروخت ہوتا ہے تو منافع باہم تقسیم کیا جائے گا، اور اگر یہ طے شدہ شرح سے کم پر فروخت ہوتا ہے تو نقصان بھی باہم بانٹا جائے گا۔ حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ وہ این پی ڈی میکانزم کے تحت کارگوز کے رخ موڑنے سے ہونے والے کسی بھی نقصان کو برداشت نہیں کرے گی۔ کم قیمت پر بین الاقوامی فروخت سے ہونے والا کوئی بھی نقصان براہ راست آر ایل این جی صارفین کو منتقل کر دیا جائے گا۔ اس میں آر ایل این جی پر چلنے والے بجلی گھر، برآمد پر مبنی صنعتیں، سی این جی سیکٹر، اور وہ گھریلو صارفین شامل ہیں جنہیں آر ایل این جی پر مبنی کنکشن فراہم کیے جاتے ہیں۔ حکام نے واضح کر دیا ہے کہ فروخت کی کم آمدنی کا بوجھ نہ تو ریاست اور نہ ہی پاکستان اسٹیٹ آئل اٹھائے گا۔ عہدیدار نے بتایا کہ اس طرح کل 35 ایل این جی کارگوز کو منتقل کیا جائے گا، اور مزید کہا کہ ان ایڈجسٹمنٹس کے بعد بھی، قومی گیس کے استعمال میں 400 ایم ایم سی ایف ڈی سے زیادہ کی زبردست کمی کی وجہ سے، پاکستان کے پاس 2026 میں پھر بھی 13 اضافی کارگوز بچ جائیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: ایل این جی کارگوز کو منتقل کے ساتھ جائے گا کے تحت

پڑھیں:

پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملکی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی ترقی کے لئے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز اور 20 ملین ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے۔

اسلام آباد میں انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں صف اول کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے، یہ نمائش اور اس طرح کے اقدامات پاکستان کو 21ویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی میں صف اول کا ملک بنائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی بھی میزبانی کی، جس سے مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیےحکومتی نمائندوں، ٹیکنالوجی لیڈرز اور محققین کاروباری افراد کو مل بیٹھنے کا موقع ملا۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

ان کا کہنا تھا کہ آج انڈس راس ایکسپو سے اس وژن کو عملی شکل دینے کا موقع حاصل ہوا ہے کہ کس طرح جدت کو فعال سلوشنز میں تبدیل کریں، روبوٹکس اور ڈرونز کی جدت سے معیشت مضبوط سلامتی بہتر اور عوام کی زندگی آسان ہوگی، اس جہت نے اکیڈیمیا، انڈسٹری، اسٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میرے بچپن میں ٹیکنالوجی کی جدت بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کی آمد تھی اور خاندان کے تمام افراد’’اچے برج لاہور دے‘‘ جیسی پاکستان ٹیلی ویژن کی کلاسک نشریات کو مل کر دیکھتے تھے لیکن آج دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت آگے بڑھ گئی ہے اور ہم تاریخ کے ایک غیر معمولی دور میں ہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

ان کا کہنا تھا کہ زرعی پیداوار کے لیے پانی اور دیگر بنیادی عوامل کی ضرورت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے، آج ٹیکنالوجی کی جدید شکل ہمارے سامنے موجود ہے، آج مشینیں محسوس کر کے تیزی سے فیصلے اور ان پر عمل درآمد کرتی ہیں جو کبھی خواب لگتا تھا آج حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ فخریہ طور پر کہتا ہوں کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی اپنائی، سیمولیٹرز 100 فیصد پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں، ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے۔ 

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں مسلح افواج نے جدید آٹونومس سسٹمز اور سائبر سیکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا، معرکہ حق میں فیلڈ مارشل کی سربراہی میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی معاونت شان دار رہی اور ہماری مسلح افواج نے ملکی خود مختاری کے تحفظ کے لیے آہنی عزم کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ ملکی صلاحیتوں، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اور آپریشنل مہارت کا بھی بھرپور ثبوت دیا۔ان کا کہنا تھا کہ دفاعی شعبے میں شان دار کامیابیاں مادر وطن کے قومی دفاع کا لازمی جزو ہیں، اس سے ہمارے سیکیورٹی کا نظام مضبوط ہوگا، دفاع مزید ناقابل تسخیر ہو جائے گا اور اس سے ابھرتے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔

چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گا، دفاع میں آٹونومس صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا انقلاب چند جدید معیشتوں، بڑی کارپوریشنز اور بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ سب کے لیے مساوی ترقی ہونی چاہیے، کسانوں کی حالت بہتر ہو، چھوٹے کاروبار فروغ پائیں،کاروبار کرنے والی خواتین کو سہولیات ملیں اور کمزور طبقات کو فائدہ پہنچے، محفوظ اور شفاف آٹونومس سسٹمز کے لیے واضح قانون سازی اور اخلاقی فریم ورک بنانا چاہیے۔

پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا

مزید :

متعلقہ مضامین

  • پاکستان نے چین کے لئے نیا سفیر نامزد کردیا
  • فکر اقبالؒ اورامن عالم میں پاکستان کاکردار
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن