Jasarat News:
2026-06-03@06:09:22 GMT

تبدیلی ٔ نظام اور عوام

اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251125-03-2
جماعت اسلامی پاکستان کا ملک گیر اجتماع عام تکمیل کو پہنچا۔ ملک بھر سے توحید کے پرچم بردار لاکھوں مرد و خواتین نے اس اجتماع میں شرکت کی الحمدللہ اجتماع میں تین روز کے دوران کوئی ہڑبونگ، کوئی ہنگامہ، کوئی بدنظمی کسی سطح پر دیکھنے میں نہیں آئی۔ یہ اجتماع جماعت اسلامی کے مثال نظم و ضبط اور امن و ہم آہنگی کا شان دار مظہر ثابت ہوا۔ اتنی بڑی تعداد میں دور و نزدیک سے جمع ہونے والے فرزندان و دختران پاکستان کے لیے رہائش و خوراک اور دیگر ضروریات کا عارضی بنیادوں پر اہتمام کرنا آسان کام نہ تھا مگر ناظم اجتماع، نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت کے کارکنوں نے اپنے آرام و سکون کو تج کر شب و روز کی محنت سے یہ تمام انتظامات بحسن و خوبی مکمل کیے اور دیگر شعبوں کی طرح جماعت کی انتظامی صلاحیتوں کا بھی لوہا منوایا جسے صرف اپنوں ہی نہیں پرایوں نے بھی تسلیم کیا اور حکومتی بیورو کریسی کے ارکان بھی اس قدر بڑے پیمانے پر سرکاری وسائل کے بغیر اتنے احسن انداز میں اور منظم طور پر خالصتاً رضاکارانہ جذبہ کے تحت انتظامات کی تکمیل اور اجتماع کے پر سکون اختتام پر حیران و ششدر پائے گئے۔ یہ اجتماع عام اس امر کا بین ثبوت ہے کہ ’’بدل دو نظام‘‘ تحریک کے نتیجے میں اگر ملک کی باگ ڈور جماعت اسلامی کے ہاتھ میں آتی ہے تو جماعت کے کارکنان مملکت کے تباہ حال نظام کی اصلاح اور اسے اسلام کے بتائے ہوئے اصولوں کی روشنی میں از سر نو بہترین بنیادوں پر تعمیر و استوار کرنے کی صلاحیتوں سے مالا مال ہیں اس لیے کوئی وجہ نہیں کہ ان کی صلاحیتوں اور قوت کار پر بھروسا نہ کیا جائے۔ اجتماع میں ماشاء اللہ ہزاروں کی تعداد میں عفت مآب خواتین ملک کے کونے کونے سے شرکت کے لیے آئیں جن میں اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین بھی شامل تھیں اور زیور تعلیم سے محروم خواتین کی بڑی تعداد بھی شریک تھی تاہم ان سب میں باہمی احترام کا رشتہ قابل تقلید اور ایک دوسرے کی خدمت میں عزت و تکریم کا جذبہ قابل دید تھا۔ یہ سب با حیا اور با حجاب خواتین اسلام کے نظام حیات کو ملک اور پوری دنیا میں غالب دیکھنے کی متمنی تھیں یہ خواتین اس یقین سے سرشار تھیں کہ حجاب خواتین کی ترقی میں رکاوٹ نہیں بلکہ مدد گار اور باعث عزت و وقار ہے۔ اجتماع میں نوجوانوں کے جذبات اور نظم و ضبط بھی قابل دید تھا ان کی اطاعت امیر کی تربیت بھی مثالی تھی۔ اجتماع کے آخری روز ایک خصوصی تقریب میں مختلف شعبوں میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے نوجوانوں کو اعزازات سے نوازا گیا۔ اس ’’ایوارڈ شو‘‘ کا مقصد ملک کی نوجوان نسل کی حوصلہ افزائی کرنا اور باصلاحیت چہروں کو نمایاں کرنا تھا۔ شو میں سوشل میڈیا کے دو ممتاز ناموں کی خصوصی تکریم کا اہتمام کیا گیا اور امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے طلحہ احمد اور محمد شیراز کو ان کی تخلیقی صلاحیتوں، مثبت انداز بیان اور تعمیری پیغام معاشرے میں عام کرنے پر ’’یوتھ ایکسیلنس ایوارڈز‘‘ عطا کیے اسی طرح اسلام۔ 360 کی شہر آفاق ایپ تیار کرنے والے زاہد حسین چھیپا، عالمی شہرت یافتہ ویٹ لفٹر نوح دستگیر بٹ اور کوہ پیماہ شہروز کاشف کو بھی ایوارڈز دیے گئے۔ امیر جماعت نے اپنے اختتامی خطاب میں نوجوانوں کو خاص طور پر مخاطب کیا اور ان کی ذمے داریوں کا احساس دلاتے ہوئے جماعت اسلامی کی جانب سے ان کے مسائل حل کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی امیر جماعت نے نوجوانوں کو متوجہ کیا کہ پاکستان محض ایک خطہ ٔ زمین نہیں بلکہ ہمارے عقیدے کا نام ہے، ہم ہر ممکن طریقے سے اس کی حفاظت کریں گے، طبقاتی نظام تعلیم کے باعث نوجوانوں کے لیے آگے بڑھنے کی راہیں مشکل اور مسدود ہو گئی ہیں ہم نوجوانوں کی ہر ممکن مدد کریں گے۔ ’’بنو قابل‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے نوجوانوں کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جدید خطوط پر تعلیم و تربیت فراہم کرنے کا اعلان بھی کیا اور لڑکوں لڑکیوں کے لیے کھیلوں کی سہولتیں فراہم کرنے، ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام متعارف کرانے اور جنریشن زی کے لیے کنکیٹویٹی پروگرام سمیت نوجوانوں کی ہر شعبہ میں رہنمائی اور تعاون کا اعلان کیا۔ ملک کے عدالتی نظام کو بوسیدہ اور ناکارہ قرار دیتے ہوئے امیر جماعت نے اس کی تبدیلی کی ضرورت پر زور دیا اور اس ضمن میں وکلا برادری کو متحد ہو کر جدوجہد کرنے کی تلقین کی۔ تاجر برادری نے پاکستان بزنس فورم کے زیر اہتمام ’’میرا برانڈ پاکستان‘‘ نمائش میں ساختہ پاکستان مصنوعات اور پاکستان کی صنعتی ترقی کے مختلف پہلوئوں کو اجاگر کیا۔ اسی طرح زندگی کے دیگر شعبوں کی بھی بھر پور نمائندگی کا اہتمام اجتماع عام میں موجود تھا۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے بھی اپنے اختتامی خطاب میں تمام شعبۂ حیات کے مسائل کا احاطہ کیا اور ان کے حل کے لیے جماعت کے پروگرام کی وضاحت کی اختتامی خطاب میں انجینئر حافظ نعیم الرحمن نے ’’بدل دو نظام‘‘ تحریک کی تفصیل کا بھی اعلان کیا جس کے تحت امیر جماعت اسلامی پاکستان، انجینئر حافظ نعیم الرحمن نے بدل دو نظام تحریک کا اعلان کر دیا، جس کے تحت ملک بھر میں جلسے، جلوس اور دھرنے منعقد کیے جائیں گے۔ سیاسی اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اختیارات بیوروکریسی کے بجائے مقامی حکومتوں کے پاس ہونے چاہییں۔ بدل دو نظام تحریک کے تحت 50 لاکھ نئے ممبران شامل کیے جائیں گے اور 15 ہزار عوامی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی۔ حافظ نعیم الرحمن نے بلدیاتی نظام کو آئین میں تحفظ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے پنجاب کے رہنماؤں کو ہدایت دی کہ اسمبلی کے سامنے دھرنے کی تیاری کریں۔ 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم 1973ء کے آئین کو تباہ کرنے کی ہر کوشش کے خلاف بھرپور مزاحمت کریں گے۔ کسی بھی قیمت پر انتخابات کو ہائی جیک نہیں ہونے دیں گے، کیونکہ اس سے عوام کے حکومت بنانے کا حق سلب ہوتا ہے۔ کسی سیاسی جماعت پر پابندی قابل قبول نہیں۔ نہ ٹی ایل پی پر پابندی لگنی چاہیے اور نہ ہی سیاسی بنیادوں پر عمران خان کو جیل میں رکھا جانا چاہیے۔ ہم حق بات کہیں گے چاہے اسٹیبلشمنٹ یا حکومت کو ناگوار گزرے۔ وطن عزیز کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ یہاں حکومتیں بدلتی رہیں کبھی فوجی آمریت اور کبھی جمہوریت کے نام پر جابرانہ نظام ملک پر مسلط رہا، چہرے اور سیاسی جماعتوں کے پرچم بدلتے رہے مگر عوام کی تقدیر تبدیل نہ ہو سکی کیونکہ ملک پر وہی فرسودہ نظام نافذ رہا جو انگریز نے اپنی حکمرانی کو مضبوط و مستحکم رکھنے کے لیے تشکیل دیا تھا جس میں کہنے کو تو سرکاری اہلکار عوام کے نوکر اور خدمت گار تھے مگر عملاً وہ عوام کے حاکم اور آقا تھے۔ پاکستان بننے کے بعد اس نظام کو ختم اور تبدیل کرنے کے بجائے مزید مستحکم کیا گیا اور غلامی کی زنجیریں لوگوں کی گردنوں میں پہلے سے زیادہ سخت اور مضبوط کر دی گئیں ۔ جماعت اسلامی کے امیر نے ملک و قوم اور یہاں بسنے والے 25 کروڑ عوام کے حقیقی دشمن ’’فرسودہ و ظالمانہ نظام‘‘ کی نشاندہی کر کے اس کے خلاف زور دار تحریک چلانے کا اعلان کر دیا ہے۔ اب عوام کی یہ ذمے داری ہے کہ شناخت کردہ دشمن اور مسائل و مصائب سے نجات کے لیے متحد ہو کر حافظ نعیم الرحمن کی پکار پر لبیک کہیں تاکہ موجودہ فرسودہ و ناکارہ نظام کو جڑ سے اکھاڑ کر اس کی جگہ اسلام کے فلاحی نظام اور خوشحال پاکستان کی شاہراہ پر گامزن ہوا جا سکے۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمن نے امیر جماعت اسلامی نوجوانوں کو کا اعلان عوام کے نظام کو کیا اور کے تحت کے لیے

پڑھیں:

سیاستدان امیر دوستوں کو مراعات دینا، غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں: بلاول

اسلام آباد ( نمائندہ خصوصی) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے سکردو کے مین بازار میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ انتخابی مہم میں آپ کے پاس آیا تھا اور جی بی کی ہر تحصیل میں گیا۔ ہمارا صرف سیاسی رشتہ نہیں بلکہ نسلوں کا ساتھ ہے۔ میں یہ مہم بھی گزشتہ انتخابی مہم کی طرح کرنا چاہتا تھا۔ گزشتہ انتخابات میں خوشی کا ماحول تھا لیکن اب ہم سب کے لئے غم کا ماحول ہے۔ ایران میں جو شہادتیں ہوئی ہیں، بچیوں کو شہید کیا گیا ہے یہ غم کا ماحول ہے۔ جس طرح رمضان میں آیت اللہ علی خامنہ ای کو، ان کی نواسی کے شہید کیا گیا وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی امن پسند اور جنگ کے خلاف ہے۔ یہ کہانی ایران تک نہیں فلسطین اور لبنا ن میں بھی بے گنا ہ لوگوں کو شہید کیا گیا۔ فیلڈ مارشل امن کی جو کوشش کر رہے ہیں، ہم سب دعاگو ہیں کہ یہ کوشش کامیاب ہو۔ پوری مسلم دنیا اور دنیا بھر کے نوجوان اس جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ اس جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بے تحاشا بڑھ گئی ہے۔ اس لئے ہم اس جنگ کو ختم ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی پی پی کی سیاست باقی جماعتوں سے مختلف ہے۔ ہم پسماندہ طبقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کو حقوق دیتے ہیں اور غریب کا سوچتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کی ترقی پسماندہ طبقے کی ترقی سے ہے۔ باقی جماعتیں امیروں کو مزید امیر بنانے کی پالیسی اختیار کرتے ہیں اور اسے نام ترقی کا دیا جاتا ہے۔ صدر زرداری نے اپنے پہلے دور حکومت میں بی آئی ایس پی بنا کر روٹی، کپڑا اور مکان کو عملی شکل دی۔ بطور وزیرخارجہ مجھ سے دوسرے ممالک پوچھتے تھے کہ ہم بی آئی ایس پی کے ذریعے اپنے غریبوں کی بھی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ بدقسمتی اس ملک کی یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ایسی ہیں کہ وہ سوچتی ہیں کہ اپنے امیر دوستوں کے لئے مراعات کیسے دیں اور وہ بی آئی ایس پی کی غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بی آئی ایس پی کی مدد پورے ملک کے غریب عوام کو ملتی ہے۔ ماؤں کی دعاؤں کی وجہ سے ان کی بی آئی ایس پی کو ختم کرنے کی سازش ناکام ہوگی۔ وزیراعظم آنے والے بجٹ میں بی آئی ایس پی میں اضافے کا اعلان کریں گے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی پی پی نے ملک کی دفاعی صلاحیت مضبوط کی ہے۔ اس وقت پاکستان واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے اور کوئی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ نہیں سکتا۔ یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے تحفہ دیا ہے۔ وہ گڑھی خدا بخش سے پاکستان کا دفاع کر رہے ہیں۔ شہید بی بی نے میزائل ٹیکنالوجی دی کہ وہ اس بم کو لے کر دشمن تک پہنچ سکتے ہیں۔ آج پاکستان کا دفاع اسی وجہ سے ناقابل تسخیر ہے۔ اس کے بعد مشرف کا دور گزرا کہ جب دوسرے ممالک کو Bases بنانے کی اجازت دی گئی۔ صدر زرداری نے سلالہ واقعے کے بعد سارے فوجی  اڈوں کو بند کیا۔  ہمیں تین اصولوں حق حاکمیت ، حق ملکیت اور حق روزگار پر عمل کرنا ہوگا۔ یہ تب ہوگا جب اٹھارہویں ترمیم کے مطابق دیگر صوبوں کی طرح حقوق جی بی کو بھی ملیں۔ آپ کے پہاڑوں کے نیچے جو وسائل ہیں ان پر حق جی بی کے عوام کا ہے۔ وسائل پر پہلا حق جی بی کے عوام کا ہے اور اگر یہ حق ملکیت مل جائے تو پاکستان کی ترقی ہوگی جس طرح تھر کے کوئلے سے پورا پاکستان مستفید ہو رہا ہے۔ تھر کے منصوبے سے تھر کے عوام کو مفت بجلی دیتے ہیں۔ ہم نے تھر کے عوام کو تھر کول منصوبے میں ان کا شیئر دینا چاہا لیکن ان لوگوں نے پیسے لے لئے لیکن آپ کو اپنے وسائل میں شیئر لینا چاہیے۔ سی پیک  کا سب سے بڑا منصوبہ تھرکول کا ہے۔ جب آپ کو حق ملکیت ملے گا تو آپ وسائل کے حصہ دار ہوں گے۔ ہماری سیاست عوام دوست اور غریب دوست ہے جبکہ دیگر لوگوں کی سیاست غریب دشمن اور امیردوست ہوتی ہے۔ اس لئے تیر پر مہر لگا کر غریب دوست حکومت بنائیں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا میں جانتا ہوں کہ آپ کے ہاں بارشوں اور سیلاب سے بہت نقصان ہوتا ہے۔ سندھ میں بھی 2022 میں سیلاب آیا اور دو تہائی سندھ پانی کے نیچے چلا گیا۔ اس وقت سارے غریب لوگ مطالبہ کر رہے تھے کہ انہیں گھر بنا کر دئیے جائیں۔ یہ پاکستان کی پہلی حکومت جس نے غریب لوگوں کو گھر بنا کر دئیے۔ میں کسی صوبے سے نہیں عالمی سطح پر مقابلہ کرتا ہوں اور 20 لاکھ گھر بنانے کا منصوبہ دنیا میں سب سے بڑا منصوبہ ہے۔  7 جون کو تیر پر مہر لگائی تو اسی طرح جی بی کی خواتین کو بھی گھر بنا کر دیں گے۔  سندھ کا این آئی سی وی ڈی، این آئی سی ایچ، ایس آئی یو ٹی اور ڈاؤ میڈیکل کالج سے لے کر گمبٹ تک دل، گردے، کینسر اور جگر کا علاج پورے پاکستان کے عوام کو مفت مہیا کرتے ہیں۔ دیگر صوبے ہسپتالوں کی نجکاری کرتے ہیں تاکہ ان کے امیر دوستوں کو فائدہ ہو۔ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے کسی کو علاج سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 7جون کو انشاء اللہ جی بی کے عوام باہر نکلیں گے اور تیر پر مہر لگا کر پیپلزپارٹی کی حکومت بنائیں گے تاکہ حق حاکمیت، حق ملکیت اور حق روزگار، مفت علاج کے ادارے اور گھر بنانے کا منصوبہ شروع ہو سکے۔ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے جی بی کے عوام کی خدمت کریں گے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ آصفہ بی بی کو لے کر سکردو آئے ہیں اور اس امید کا اظہار کیا کہ جس طرح بلتستان کے عوام نے انہیں کبھی مایوس نہیں کیا اسی طرح بی بی آصفہ کو بھی مایوس نہیں کریں گے۔ خطاب کے آخر میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عوام کے ساتھ مل کر پارٹی کے لئے نعرے لگوائے۔

متعلقہ مضامین

  • سیاستدان امیر دوستوں کو مراعات دینا، غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں: بلاول
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ