ریکوڈک منصوبے کے حوالے سے کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان کی جامع رپورٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
ریکوڈک منصوبہ سے ملکی معدنیات کی صنعت میں انقلاب، کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی)کی جامع رپورٹ جاری
تفصیلات کے مطابق ایس آئی ایف سی کی معاونت سے پاکستان کے کان کنی کے شعبہ میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سی سی پی کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق نایاب معدنیات سے مالا مال پاکستان میں سونا، چاندی، تانبہ، پلاٹینم اورجیم اسٹون کے وسیع ذخائر موجود ہیں
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ریکو ڈک منصوبہ سے 37 سالوں میں74 ارب ڈالر کی آمدنی متوقع ہے۔ ریکو ڈک منصوبہ شفاف ٹریس ایبلٹی اور ریفائننگ کی صلاحیت کی بدولت سونے کی سپلائی چین کو مستحکم بنائے گا جبکہ گولڈ اینڈ جیم اسٹون اتھارٹی کے قیام سے ڈیجیٹل ٹریک اینڈ ٹریس اور گولڈ بینکنگ سسٹم کا آغاز غیر دستاویزی تجارت میں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔
مزید برآں ایس آئی ایف سی اور سی سی پی کے مؤثر اقدامات سے ریفائننگ اور زیورات کی صنعت میں فروغ اور مارکیٹ کی شفافیت میں اضافہ ممکن ہو گا۔ ریکو ڈک منصوبہ بلوچستان میں ہزاروں ملازمتیں اور نئے کاروباری مواقع فراہم کرے گا۔
ایس آئی ایف سی پاکستان میں کان کنی کے مختلف شعبہ جات میں ترقی کے لیے اپنا انقلابی کردار ادا کر رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔