عدالت کا شوکت خانم اسپتال اور نمل یونیورسٹی کے اکاؤنٹس ڈی سیز کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
راولپنڈی:
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے شوکت خانم اسپتال اور نمل یونیورسٹی کے اکاؤنٹس ڈی سیز کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔
پراسیکیوشن کی جانب سے شوکت خانم اسپتال اور نمل یونیورسٹی کے اکاؤنٹ فریز کرنے سے متعلق مخالفت اور اعتراض نہیں کیا۔
پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے عدالت میں کہا کہ اگر اسپتال اور نمل یونیورسٹی کے اکاؤنٹ ڈی سیز کیے جائیں، تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔
انہوں ںے بتایا کہ ہم نے علیمہ خان کے آئی ڈی کارڈ کے مطابق گورنر اسٹیٹ بینک کو اکاؤنٹ فریز کیے جانے کے متعلق عدالت سے استدعا کی تھی۔
پراسیکیوٹر ظہیر شاہ کے مطابق علیمہ خان کے بزنس اکاؤنٹ اور پرسنل اکاؤنٹ کے علاوہ کوئی دیگر اکاؤنٹ اگر فریز کیے گئے ہیں، تو اس بات پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔
انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کیس کی سماعت کی۔ علیمہ خان کی جانب سے ان کے وکیل محمد فیصل ملک پیش ہوئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
امریکہ کی ریاست ایڈاہو کے ایک خاموش اور خوبصورت پہاڑی علاقے سن ویلی(Sun Valley) میں ہر سال جولائی کے مہینے میں ایک ایسی تقریب ہوتی ہے جہاں دنیا کے امیر ترین اور بااثر افراد اکٹھے ہوتے ہیں۔
اس خاص اور خفیہ محفل کو غیر رسمی طور پر ”ارب پتیوں کا سمر کیمپ“ کہا جاتا ہے۔ یہاں دنیا کے نامور اور طاقتور لوگ جیسے جیف بیزوس، مارک زکربرگ، بل گیٹس اور ایلن مسک بغیر کسی دکھاوے کے ایک ساتھ وقت گزارتے ہیں۔
یہ سلسلہ 1983 سے چلا آ رہا ہے جسے ایلن اینڈ کمپنی نامی ایک معاشی ادارہ منعقد کرواتا ہے۔ اس تقریب میں شامل ہونے کے لیے کوئی ٹکٹ نہیں خریدی جا سکتی اور نہ ہی انٹرنیٹ پر کوئی رجسٹریشن ہوتی ہے۔ یہاں صرف وہی لوگ آ سکتے ہیں جنہیں ذاتی طور پر دعوت نامہ بھیجا جاتا ہے۔ منتظمین کی طرف سے اس تقریب کی کوئی باقاعدہ مہمانوں کی فہرست یا شیڈول جاری نہیں کیا جاتا۔ اس سال یہ تقریب 7جولائی سے 11 جولائی 2026 تک منعقد ہوئی۔
اس کانفرنس کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ روایتی دفتری میٹنگز کی طرح نہیں ہوتی۔ یہاں نہ طویل اجلاس ہوتے ہیں اور نہ ہی بڑی بڑی پریزنٹیشنز۔
امیر ترین شخصیات سوٹ بوٹ پہننے کے بجائے عام جوتوں اور آرام دہ کپڑوں میں نظر آتی ہیں۔ لوگ دن کے وقت پہاڑوں پر سیر کرتے ہیں، گولف کھیلتے ہیں، سائیکل چلاتے ہیں، مچھلی پکڑتے ہیں اور شام کو مل کر کھانا کھاتے ہیں۔
مزیدپڑھیں:عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
اس سال کی ملاقات میں جدید ترین ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس یعنی اے آئی کا موضوع سب سے زیادہ چھایا رہا۔ اس تقریب میں ٹیکنالوجی اور کاروبار کی دنیا کے کئی بڑے نام شامل ہوئے۔
اگرچہ اس کیمپ میں میڈیا اور کیمروں کی اجازت نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی بڑا باضابطہ اعلان کیا جاتا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی بڑے کاروباری معاہدوں کی بنیاد اسی خاموش جگہ پر رکھی جاتی ہے جو بعد میں دنیا کے سامنے آتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے شرکا اپنے اہلِ خانہ کو بھی ساتھ لاتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ تقریب ایک کاروباری اجلاس سے زیادہ ایک پُرتعیش خاندانی تعطیلات کا منظر پیش کرتی ہے۔ تاہم، اس کے باوجود دنیا بھر کی نظریں ہر سال اس خفیہ سمر کیمپ پر لگی رہتی ہیں، کیونکہ یہاں ہونے والی ملاقاتیں مستقبل کی عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی کی سمت کا تعین بھی کر سکتی ہیں۔