ملکی معاشی صورت حال کیسی ہے؟ وزارت خزانہ نے آؤٹ لک رپورٹ جاری کردی
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
اسلام آباد:
ملکی معاشی صورت حال کے حوالے سے وزارت خزانہ نے آؤٹ لک رپورٹ جاری کردی۔
رپورٹ کے مطابق ملک میں رواں ماہ(نومبر)کے دوران مہنگائی کی شرح 5 سے 6 فیصد کے درمیان رہنے کا تخمینہ ہے تاہم پاکستان کی معاشی صورتحال محتاط طور پر مثبت دکھائی دے رہی ہے۔ خوراک کی قیمتوں اور زرعی آوٴٹ پٹ پر دباوٴ پڑا ہے اور صنعتی سرگرمیوں میں بتدریج بہتری جاری ہے۔
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ ماہانہ معاشی آوٴٹ لک رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ معاشی اصلاحات کے نفاذ سے اقتصادی سرگرمیوں میں استحکام ہے۔ فصلوں کا مجموعی منظرنامہ ملا جلا رجحان ظاہر کر رہا ہے اور مناسب زرعی ان پْٹس کی دستیابی سے صورتحال بہتر ہونے کی توقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق حکومت کے معاون اقدامات سے سپلائی میں بہتری متوقع ہے اور ربیع سیزن کے دوران زرعی سپلائی کے استحکام کا امکان ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق معیشت بتدریج استحکام کی راہ پر گامزن ہے اور ساختی اصلاحات کے عملی نتائج ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں جب کہ مالی نظم و ضبط میں بہتری اور محصولات میں اضافہ ہوا ہے۔
آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق حکومتی اخراجات میں محتاط حکمتِ عملی برقرار رہے گی، ترسیلات زر میں اضافہ، معاشی صورتحال مزید مستحکم دکھائی دے رہی ہے۔
وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ ایل ایس ایم سیکٹر اور آئی ٹی برآمدات میں اضافہ ہوا ہے جب کہ عوامی قرضہ 1371ارب روپے کم ہوگیا ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیاہے کہ 5 سال بعد پہلی بار ایک سہ ماہی میں قرض میں نمایاں کمی ہوئی اور مہنگے قرضوں کی قبل از وقت ادائیگی سے مالی خطرات میں کمی کا امکان ہے جب کہ اقتصادی استحکام کے لییحکومت کی حکمت عملی موٴثر ثابت ہو رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔