اپنی چھت اپنا گھر پروگرام میں بلاسود قرضوں کے اجرا کی رفتار میں نمایاں اضافہ ریکارڈ
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
دورِ نایاب :اپنی چھت اپناگھرپروگرام کی ماہانہ کارکردگی رپورٹ جاری کر دی گئی،شہریوں کوبلاسودقرضوں کےاجراکی رفتار میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اوسطاًیومیہ424خاندان اپنےگھروں کی تعمیرمکمل کرنےلگے،گزشتہ6 ماہ سےپروگرام کی مجموعی رفتارمیں595فیصداضافہ ریکارڈکیاگیا۔
صرف ماہ نومبرمیں13562 خاندانوں کوگھروں کی تعمیرکیلئےپہلی قسط جاری کی گئی جبکہ ماہ نومبرمیں گھروں کی تعمیرمکمل کرنے کیلئے12056خاندانوں کوقرض کی دوسری قسط جاری کر دی گئی،گزشتہ ماہ مجموعی طور پر 12 ہزار 716 خاندانوں نے گھروں کی تعمیر مکمل کی کی گئی، ایک ماہ میں مجموعی طور پر گزشتہ ماہ میں 25618 خاندانوں کو قرضہ جات کا اجراکیا گیا۔
بھارتی پاور لفٹنگ کھلاڑی روہت دھانکر کو ہجوم نے ہلاک کر دیا
ترجمان محکمہ ہاؤسنگ کے مطابق آغاز سے اب تک ریکارڈ مدت میں 41000 سے زائد گھروں کی تعمیر مکمل کی جا چکی ہے،اب تک118379خاندانوں کو قرضہ جات کی فراہمی کی جا چکی ہے،تعمیر مکمل کرنے کیلئے 78601 خاندانوں کو دوسری قسط کا اجراکیا جا چکا ہے،145ارب سےزائدرقم پروگرام کےتحت بلاسودقرضوں کی مدمیں جاری کی جا چکی ہے۔
ترجمان محکمہ ہاؤسنگ کا کہنا تھا کہ بلاسودقرض کےحصول کیلئےانتہائی آسان شرائط رکھی گئی ہیں،1سے 3سال میں مکمل قرض کی واپسی پر20 فیصدرعایت دی جا رہی ہے،4سے 6سال کےدوران قرض کی واپسی پر10فیصدرعایت حاصل کی جا سکتی ہے۔
لاہور چڑیا گھر کی ری ویمپنگ کیلئے 10 کروڑ روپے جاری
انہوں نے مزید کہا کہ اپنی چھت اپنا گھر پروگرام پر عوام کا بڑھتا ہوا اعتماد اس کی کامیابی کا واضح ثبوت ہے۔
ترجمان محکمہ ہاؤسنگ کا یہ بھی کہنا تھا کہ شہری گھر بیٹھے آن لائن فارم کے ذریعے پروگرام میں رجسٹریشن کروا سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔