data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251129-01-18
اسلام آباد(خبرایجنسیاں) ملک میں پھر سے مہنگائی میں اضافے کی رفتار بڑھتی جا رہی ہے، حالیہ ہفتے کے دوران ہفتہ وار مہنگائی میں 0.73 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ سالانہ بنیاد پر بھی مہنگائی 4.32 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔حالیہ ہفتے 14 اشیا ئے ضروریہ مہنگی ہوئیں اور 12 کے نرخوں میں کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ 25 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام رہا ہے۔وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے مہنگائی کے بارے میں ہفتہ وار رپورٹ جاری کر دی گئی ہے۔ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق ٹماٹر 28 فیصد، پیاز 10فیصد اور آلو 4.

58 فیصد تک سستے ہوئے جبکہ نمک، دال چنا، لہسن، انڈے اور آٹا بھی سستی ہونے والی اشیا میں شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دال مونگ، گھی، کوکنگ آئل اور خشک دودھ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جبکہ چینی، گڑ، بیف، بجلی، ایل پی جی، سگریٹ اور لکڑی بھی مہنگی ہوئی، مختلف شہروں میں چینی 179 سے 220 روپے کلو میں فروخت ہو رہی ہے، چھوٹے طبقے کے لیے بجلی ٹیرف میں 11 فیصد سے زاید اضافہ ہوا۔اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اعشاریہ کے لحاظ سے سالانہ بنیادوں پر 17 ہزار 732روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی میں اضافے کی رفتار 0.094 فیصد کمی کے ساتھ 3.85فیصد، 17 ہزار 733روپے سے 22 ہزار 888روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی میں اضافے کی رفتار 0.99 فیصداضافے کے ساتھ 4.70 فیصد اور 22 ہزار 889روپے سے 29 ہزار 517 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی میں کمی کی رفتار 0.49فیصد اضافے کے ساتھ 4.60 فیصد رہی۔اسی طرح 29 ہزار 518روپے سے 44ہزار 175 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی میں اضافے کی رفتار 0.28 فیصد اضافے کے ساتھ 4.40 فیصد رہی جبکہ 44 ہزار 176روپے ماہانہ سے زاید آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی میں اضافے کی رفتار 0.60 فیصد اضافے کے ساتھ 3.79 فیصد رہی ہے۔

سیف اللہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

شوگر سیکٹر میں نیا گٹھ جوڑ بے نقاب، چینی کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ

شوگر سیکٹر میں نیا گٹھ جوڑ بے نقاب ہوا ہے جبکہ چینی کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ مسابقتی کمیشن کی جانب سے 10شوگر مل مالکان کو شوکاز نوٹس جاری کردئیے گئے۔

تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں چینی کی قیمت 200 سے لے کر 229روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے. شوگر انڈسٹری نے حکومتی سختی کے باوجود کرشنگ سیزن میں تاخیری حربے اپنانے کیلئے دوبارہ گٹھ جوڑ کرلیا۔ مسابقتی کمیشن نے نئے گٹھ جوڑ کا پتہ چلنے پر ملز مالکان کے خلاف تفتیش شروع کردی۔مسابقتی کمیشن نے گنے کی کرشنگ میں تاخیر پر 10 شوگر مل مالکان کو نوٹسز جاری کرکے 2ہفتوں میں جواب طلب کرلیا. مالکان پر گنے کی قیمت 400روپے فی من فکس کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔جواب مقررہ مدت میں جمع نہ کرانے پر قانونی کارروائی کی دھمکی دے دی گئی۔کمیشن کا کہنا ہے کہ فاطمہ شوگر ملز میں 10 نومبر 2025 کی کارٹیل میٹنگ کی تصدیق ہوگئی جس میں کرشنگ 28 نومبر سے شروع کرنے پر اتفاق ہوا ، جبکہ پنجاب شوگر کین کمشنر نے ہدایت کی تھی کہ کرشنگ 15نومبر سے لازمی شروع کی جائے۔ ایک رپورٹ کے مطابق کارٹلائزیشن اجلاس کے دوران مختلف اضلاع کے شوگر ملز مالکان مسلسل رابطے میں تھے۔گنے کی کرشنگ میں تاخیر کے نتیجے میں چینی کی سپلائی متاثر ہوجاتی ہے. جس سے صارفین اور کسانوں کو اربوں کا نقصان ہوتا ہے اور ری ٹیل مارکیٹ میں چینی کی قیمت بڑھنے کا خدشہ ہے۔ مسابقتی کمیشن نے خبردار کیا ہے کہ شوگر مل مالکان کا گٹھ جوڑ کمپٹیشن ایکٹ 2010 کی دفعہ 4 کے خلاف ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نومبر میں مہنگائی 5 سے 6 فیصد رہنے کا امکان،وزارتِ خزانہ کی معاشی آؤٹ لک رپورٹ جاری
  • شوگر سیکٹر میں نیا گٹھ جوڑ، چینی کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ
  • شوگر سیکٹر میں نیا گٹھ جوڑ بے نقاب، چینی کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ
  • ملک میں حالیہ ہفتے 14 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ
  • ہفتہ وارمہنگائی،14 اشیاء مہنگی، 12 کے نرخوں میں کمی ریکارڈ، ادارہ شماریات
  • ملک میں حالیہ ہفتے 14 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ، مہنگائی کی سالانہ شرح 4.32 فیصد تک پہنچ گئی
  • برطانیہ میں کم سے کم اجرت میں حیران کن اضافہ؛ نئی ملازمتوں کے مواقع بھی
  • سونا مزید مہنگا، نئی قیمت کیا ہو گئی؟
  • برطانوی حکومت کا کم از کم تنخواہ میں اضافے کا فیصلہ