اسلام آباد:

وفاقی حکومت نے اپنے سابقہ موقف کے برعکس وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کے بینچ تشکیل دینے کے صوابدیدی اختیار کو ریگولیٹ کرنے کیلیے کوئی قانون سازی نہیں کی جبکہ اب تک آئینی عدالت کے فیصلوں کے خلاف اپیل کا حق بھی فراہم نہیں کیا گیا۔

سابق اٹارنی جنرل نے نشاندہی کی کہ صرف وہ انٹرا کورٹ اپیلیں  جو سپریم کورٹ میں زیرِ التوا ہیں، انھیں سنا جا سکتا ہے لیکن مستقبل میں آئینی عدالت کے فیصلوں کے خلاف کوئی  انٹراکورٹ اپیل دائر نہیں ہو سکے گی۔

انھوں نے آئین کے آرٹیکل 175(E)(4) کا حوالہ دیا جس میں واضح طور پر درج ہے کہ صرف زیرِ التوا اپیلیں ہی سنی جائیں گی اور مستقبل کی اپیلوں کے لیے کوئی شق نہیں۔ عبادالرحمان لودھی ایڈووکیٹ نے بھی ایک کیس کی سماعت کے دوران یہی نکتہ اٹھایا۔ 

آئینی عدالت کے فیصلوں کیخلاف اپیل کے حق کی عدم موجودگی کے حوالے سے ایک سرکاری اہلکار نے اعتراف کیا  کہ ابھی تک کوئی حقِ اپیل موجود نہیں جب تک کہ خود آئینی عدالت اپنے قواعد میں اس کی گنجائش نہ دے یا  پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے ذریعے یہ حق فراہم نہ کیا جائے۔

یہ بھی غیر واضح ہے کہ آیا حکومت اپیل کا حق دینے کے لیے کوئی قانون سازی کرے گی یا نہیں۔ سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے دور میں حکمران جماعتیں بینچ تشکیل دینے کے چیف جسٹس کے صوابدیدی اختیار پر تحفظات کا اظہار کرتی رہی ہیں۔ 

اس مقصد کیلئے پی ڈی ایم حکومت نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023 متعارف کرایا اور عوامی مفاد کے مقدمات میں سپریم کورٹ کے فیصلوں کے خلاف اپیل کا حق بھی دیا گیا۔

جسٹس امین  الدین خان سمیت اکثریتی ججوں نے اس قانون کی توثیق بھی کی  تاہم اب آئینی عدالت میں بطور ماسٹر آف روسٹر وہ خود بینچ تشکیل دے رہے ہیں۔

سینئر وکلا یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ آئینی عدالت کے تمام بینچوں میں تمام صوبوں کی مناسب نمائندگی کیوں نہیں۔

اس وقت دو یا تین رکنی بینچ مقدمات کی سماعت کر رہے ہیں اور بعض بینچوں میں ایک ہی صوبے سے تعلق رکھنے والے جج شامل ہیں۔ یہ اطلاع بھی ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ  جی ٹین  سیکٹر کی پرانی عمارت میں منتقل ہونے والی ہے۔ 

سینئر سرکاری افسر نے تصدیق کی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ جنوری میں اسلام آباد ہائیکورٹ کو منتقل کر دیا جائے گا  تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ بار اسے فروری تک مؤخر کرنے کی درخواست کر رہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ا ئینی عدالت کے کے فیصلوں چیف جسٹس

پڑھیں:

بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) رہنما جنید اکبر نے کہا ہے کہ جس دن بانی پی ٹی آئی محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے۔

راولپنڈی کے اڈیالہ روڈ پر میڈیا سے گفتگو میںپی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے صدر جنید اکبر نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں بجٹ پاس کرنا ہے یا نہیں فیصلہ پارٹی کرے گی۔

ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان

بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان نے نے کہا کہ حکمراں اتنے خوفزدہ ہیں کہ بشریٰ بی بی کی فیملی کو بتایا ہوا ہے باہر جا کر بات نہیں کرنا۔

انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ بانی پی ٹی آئی نے نامزد کیا ہے، جب تک وہ ہیں ہر ایم پی اے ان کو ہی ووٹ دے گا، میں چیلنج کرتا ہوں کوئی ایک ایم پی اے کو توڑ کر دکھائے۔

جنید اکبر نے مزید کہا کہ ان کی کوئی حیثیت نہیں کہ کوئی فارورڈ بلاک بناسکے، کل 7 ناراض ایم پی ایز سے ملے ہیں، جن کی شکایات کو حل کریں گے۔

اُن کا کہنا تھا کہ محمود اچکزئی کو ذمے داری بانی پی ٹی آئی نے دی، اس پر نہ میں بول سکتا ہوں اور نہ ہی کوئی اور بات کرسکتا ہے، جس دن بانی پی ٹی آئی محمود اچکزئی سےمطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا