اسلام آباد: سرد موسم میں دودھ جلیبی کی طلب میں اضافہ، شہریوں کا رش برقرار
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
اسلام آباد میں سردی کی شدت بڑھنے کے ساتھ ہی دودھ جلیبی کی مانگ میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں موجود دودھ جلیبی کی دکانوں پر شہریوں کا رش بڑھ گیا ہے۔ ایک مقامی دودھ جلیبی شاپ میں لوگ گرم دودھ اور تازہ تلی ہوئی جلیبی کے منفرد ذائقے سے لطف اندوز ہونے کے لیے آئے ہوئے تھے۔
دکان دار کا کہنا ہے کہ وہ روزانہ تازہ جلیبی تیار کرتے ہیں اور دودھ کو گرم رکھ کر پیش کرتے ہیں تاکہ سرد موسم میں گاہکوں کو بہترین ذائقہ فراہم کیا جا سکے۔ دودھ میں شامل کی جانے والی الائچی نہ صرف خوشبو بڑھاتی ہے بلکہ ذائقہ کو بھی مزید دلکش بناتی ہے۔
گاہکوں سے بات چیت میں عطا اللہ نامی شہری نے بتایا کہ وہ روزانہ اس دکان پر دودھ جلیبی کھانے آتے ہیں۔ ان کے مطابق چونکہ ان کے پاس اپنی بھینسیں ہیں، انہیں معیاری اور خالص دودھ ملتا ہے، اسی لیے وہ اس مخصوص جگہ سے دودھ جلیبی لینا پسند کرتے ہیں۔
سرد موسم میں یہ گرم اور روایتی لذت شہریوں کو اپنی جانب متوجہ رکھے ہوئے ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: دودھ جلیبی
پڑھیں:
بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔
اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔