Jasarat News:
2026-07-24@09:15:59 GMT

ظہیر بابر اور پنج لیلیٰ

اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251125-03-4
نئی دہلی ابھی تک مئی 2025 کے واقعات کے زخم نہیں بھلا سکا۔ بھارت کے فضائی سربراہ ائرچیف امر پریت سنگھ جنہیں ان کے ناقدین ’’نیرو کی بانسری بجانے والا‘‘ قرار دیتے ہیں آج بھی مبینہ طور پر ڈراؤنے خوابوں میں ’’آٹھ (8) آٹھ‘‘ پکار کر چونک جاتے ہیں۔ یہ وہی دور ہے جب سابق امریکی صدر ٹرمپ ’’سات‘‘ کے عدد کو ایک ہزار ایک سے زائد بار کھلے عام کنفرم کر چکے ہیں۔

اسی دوران فرانس کے نیول بیس کے ایک سینئر کمانڈر جو تین دہائیوں سے رافیل طیارے اُڑا رہے ہیں، نے ایک بین الاقوامی کانفرنس میں، جہاں بھارتی وفد بھی موجود تھا، رافیل کے گرنے کی تصدیق کرتے ہوئے پاک فضائیہ کے شاہینوں کی مہارت کو کھلے دل سے سراہا۔ ادھر وزیراعظم مودی کی صحت کے بارے میں ان کے ذاتی معالج کے قریبی حلقوں میں یہ سرگوشیاں سنی جا رہیں ہیں کہ 10 مئی 2025 کے بعد سے موصوف کو بار بار بیت الخلا جانے کی حاجت محسوس ہوتی ہے، جس سے بین الاقوامی تقریبات میں انہیں خاصی سبکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تاہم بھارتی سیاسی منظرنامے میں ان کی حکومت ویسے بھی اپنی ’’آخری سانسیں گننے‘‘ کے مرحلے میں ہے۔

عالمی تبدیلیوں کے دور میں بھارت کے دانشور بھی اپنی سمت بدلنے کو بے قرار دکھائی دیتے ہیں۔ صدیوں پرانی سنسکرت کی پنج تنتر اور عرب دنیا کی الف لیلیٰ جیسی کلاسیکی کہانیوں کو ’’فرسودہ‘‘ قرار دیتے ہوئے بھارت میں ایک نئی فکری مہم اور بیانیہ تشکیل دیا جا رہا ہے، جس کا عارضی عنوان ہے: A Journey to Story Revolution

غیر مصدقہ رپورٹس کے مطابق اس نئے بیانیے کا ایک مسودہ پاکستان سے محبت رکھنے والے کچھ بھارتی احباب نے اپنے دوستوں کو فراہم کیا، جس میں اس آنے والے دور کا جو خاکہ پیش کیا گیا ہے، وہ حیران کن ہے۔ جنوری 2026 سے بھارت اپنی نئی تعلیمی نصاب میں کلاسیکی ادب کے ایک نئے سلسلے کا آغاز کرنے جا رہا ہے ایسا سلسلہ جس کے بعد رامائن، مہا بھارت، پنج تنتر اور حتیٰ کہ الف لیلیٰ تک کو Null & Void قرار دیا جائے گا۔

نئے نصاب کا ہر قصہ فجر کے وقت سے شروع ہوگا، کیونکہ بھارت نے فجر اور ’’ظہیر بابر‘‘ کو علامتی طور پر Lock کر لیا ہے۔ اسی مناسبت سے اس نئی کلاسیکی انسائیکلوپیڈیا کا مجوزہ نام رکھا گیا ہے: ’’ظہیر بابر اور پنج لیلیٰ‘‘

لفظ پنج، سنسکرت کے ’’پنج تنتر‘‘ سے اور لیلیٰ، عربی ’’الف لیلیٰ‘‘ سے لیا گیا ہے جبکہ ظہیر بابر کو اس نئے دور کا ’’ہیرکیولیس‘‘ قرار دیا جا رہا ہے۔

کتاب کا تعارفی حصہ
پہلا صفحہ
بندے ماترم۔۔۔
دوسرا صفحہ
ظہیر بابر کا تعارف:

1530 میں ظہیرالدین بابر (بانیِ سلطنت ِ مغلیہ) کی پیدائش کے ٹھیک 435 سال بعد، اپریل 1965 میں اسلامی ماہِ ذوالحج کے دوران، پنجاب پاکستان میں سدھو جٹ خاندان میں حکیم غلام محمد کے ہاں ظہیر بابر سدھو کی پیدائش ہوئی۔ بعدازاں یہی بچہ آگے چل کر پاکستان کے ’’اُڑنے والے پرندوں‘‘ یعنی پاک فضائیہ کا نگہبان بنا۔

تیسرا صفحہ

تو آئو بچو ، کہانی شروع کرتے ہیں۔

’’رات کا وقت تھا۔ چاندنی کھڑکی سے اندر جھانک رہی تھی۔ کمروں میں چھوٹے قدموں کی سرسراہٹ گونج رہی تھی۔ بچے اپنے کمبلوں میں لپٹے کبھی روتے، کبھی چپ ہوتے۔ ایسے میں ماں کی آواز آتی: ’بیٹا سوجا، ورنہ ظہیر بابر آجائے گا!‘

یہ سنتے ہی بچے فوراً چپ ہوجاتے، کیونکہ ظہیر بابر صرف فضائیہ کا نام نہیں تھا… بلکہ بچپن میں سنایا جانے والا سب سے بڑا ’’ڈر‘‘ اور طاقت کی علامت بن چکا تھا۔
صبح بچے فخر سے کہتے: ’’ہم تو جلدی اٹھ گئے تھے… کہیں ظہیر بابر دیکھ نہ لیتے!‘‘
چوتھا صفحہ
……
اس طرح یہ کتاب چھپنے کے لیے تیار ہے۔

یوں ’’ظہیر بابر اور پنج لیلیٰ‘‘ کا یہ سلسلہ بھارت کی نئی تعلیمی اصلاحات کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ اس منصوبے پر بھارتی دانشور، ادیب، فلمساز اور مختلف مکاتب ِ فکر کے پنڈت کام کر رہے ہیں۔ تمام رائے اور سفارشات کو حتمی شکل دے کر جنوری 2026 میں اسے باقاعدہ طور پر نصاب اور کلاسیکی کہانیوں میں شامل کیا جائے گا۔نوٹ: یہ کالم آپ کی حس مزاح کو پروان چڑھانے کے لیے لکھا گیا ہے۔

سیف اللہ امیر محمد خان کلوڑ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ظہیر بابر ا جا رہا ہے گیا ہے

پڑھیں:

معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں بھارت میں ہونے والے احتجاج میں شامل ایک بھارتی طالبہ اپنی ہی حکومت کے مؤقف پر سوالات اٹھاتے ہوئے سخت تنقید کرتی نظر آ رہی ہے۔ ویڈیو میں طالبہ کا کہنا ہے کہ آپریشن سندور کے دوران پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے بھارتی رافیل طیارے گرائے اور بھارتی فوجیوں کو بھی مارا ہے تاہم اس وقت بھارتی حکومت نے ان تمام دعوؤں کو مکمل طور پر مسترد کر دیا تھا۔

Array koi baat nahi it's ok pic.twitter.com/ZwimtIcx4a

— iffi (@iffiViews) July 22, 2026

طالبہ ویڈیو میں کہتی ہے کہ اب اگر ایک سال بعد حکومت خود یہ تسلیم کر رہی ہے کہ اس دوران چھ بھارتی فوجی ہلاک ہوئے تھے تو اس سے عالمی سطح پر یہی تاثر جائے گا کہ پاکستان کے دعوے درست تھے۔ اس صورتحال نے بھارتی حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے آخر میں وہ یہ بھی کہتی ہے کہ اس کے بعد پاکستان کے سامنے بھی ہماری عزت نہیں رہی۔

یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے شیئر کی جا رہی ہے جہاں صارفین اس پر مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔ بعض صارفین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے دیگر دعوے بھی درست تھے جبکہ کچھ صارفین نے بھارتی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے حقائق چھپانے اور متضاد بیانات دینے کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انڈین آرمی بھارتی طیارے پاک آرمی پاک فوج پاکستانی فوج رافیل ویڈیو وائرل

متعلقہ مضامین

  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • ایشین گیمز: پاکستان، بھارت، بنگلادیش، سری لنکا براہِ راست ناک آؤٹ مرحلے میں
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا